ٹرمپ کی دھمکی پر میکسیکو نے پالیسی بدل دی

امریکہ کا میکسیکو کے ساتھ غیر قانونی تارکین وطن کو روکنے کے لیے معاہدہ طے پا گیا ہے جس کے بعد صدر ٹرمپ نے میکسیکو سے درآمد اشیا پر مجوزہ ٹیرف یا ٹیکس بڑھانے کے اعلان کو غیر معینہ مدت کے لیے موخر کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے ٹویٹ کیا ہے کہ ’میں انتہائی مسرت کے ساتھ اس بات کا اعلان کرتا ہوں کہ امریکہ کا میکسیکو کے ساتھ معاہدہ طے پا گیا ہے اور میکسیکو کے خلاف ٹیرف جو کہ امریکہ نے پیر سے نافذ کرنا تھا کو غیر معینہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا ہے۔‘

یہ اعلان امریکہ اور میکسیکو کے درمیان امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں ہونے والے تین روزہ مذاکرات کے احتتام پر سامنے آیا ہے۔

خیال رہے کہ امریکہ مطالبہ کرتا رہا ہے کہ میکسیکو سینٹرل امریکن تارکین وطن کو میکسیکو کی سرحد سے امریکہ میں داخلے کے خلاف کریک ڈاؤن کرے۔

معاہدہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ٹرمپ نے پیر سے میکسیکو کے تمام برآمدات پر  پانچ فیصد ٹیرف بطور سزا عائد کرنے کا اعلان کیا تھا۔

میکسیکو کے وزیر خارجہ مارسیلو ابرارڈ نے معاہدے کے بعد اپنے ٹویٹ کہا ہے کہ ’امریکہ کی جانب سے مجوزہ ٹیرف کا نفاذ اب نہیں ہوگا۔ ان تمام لوگوں کا شکریہ جنہوں نے ہماری مدد کی اور بتایا کہ میکسیکو ایک عظیم ملک ہے۔‘

امریکہ کے سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ میں دونوں ملکوں کے درمیان تین روزہ مذاکرات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں بھی کہا گیا ہے کہ میکسیکو وسطی امریکی براعظم کے تارکین وطن کی امریکہ میں داخلے کو روکنے کےلیے غیر معمولی اقدامات اٹھائے گا جس میں بارڈر پر فوجیوں کی تعیناتی بھی شامل ہے۔

مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ میکسیکو انسانی سمگلنگ میں ملوث گروپوں کے خلاف بھی کارروائی کرے گا۔

معاہدے کے مطابق امریکہ سیاسی پناہ کے لیے درخواست دینے والے تارکین وطن کو ان کی درخواستوں پر فیصلے تک واپس میکسیکو بھیجے گا جہاں وہ فیصلے کا انتظار کریں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے