ہسپتالوں میں ڈاکٹرز کو صاف ٹوائلٹ میسر نہیں

آج سویرے سویرے سنڈے ڈیوٹی پر پہنچا تو وارڈ کی آپا صفائی کر رہی تھیں۔ مجھے خوش گوار حیرت ہوئی کیونکہ منگل (عید کی پہلی چھٹی) سے لے کر ہفتے کے دن تک میں نے ڈاکٹروں کے آفس کی صفائی ہوتے نہ دیکھی تھی۔ ایک گھنٹے بعد آپا سارا چکر مار کے دوبارہ میرے پاس آئیں، مجھ سے ذرا فرینکنس ہے تو شکوہ کرنے لگیں:
“ڈاکٹر صاحب ایک کمرے کا فلش بلاک ہوا پڑا تھا، پوٹیاں صاف کرتے کرتے میں خود اُلٹیاں کرتی رہی، پھر کوڑے کی ٹوکریوں میں کیڑے پڑ چکے تھی وہاں بھی بہت دِقت ہوئی”۔

میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا کہ آپا جی پچھلے پانچ دن سے ڈاکٹر تو ڈیوٹی پر آ رہے ہیں، ظاھر ہے آنے والوں کو پوٹی بھی باقاعدگی سے آ رہی ہے، فلش سسٹم پہلے بھی خراب تھا تو بیچارہ کتنا برداشت کر پاتا۔ اگر باقاعدگی سے کوئی کام نہیں کر رہا تو وہ ڈاکٹروں نرسوں کے علاوہ ہسپتال کا باقی تمام عملہ ہے! آپ کو صاف کرتے اتنی پریشانی ہوئی ہے تو اس مجاھد کا خیال دل میں لائیں جس نے اس فلش کو آخری دفعہ آپ کی صفائی سے قبل استعمال کیا ہے!!

آپا مجھے سیلیوٹ کر کے وہاں سے چل دیں۔

اکثر سرکاری ہسپتالوں میں حالات ایسے ہیں کہ عام آدمی ایک گھنٹا اس دفتر میں نہیں نکال سکتا جس میں ڈاکٹر 36 گھنٹے کی ڈیوٹی گزارتا ہے۔ حاجت ہو تو ٹائیلٹ اتنے گندے (صفائی کرنے والوں کی جواب دہی کا اختیار براہ راست ڈیوٹی ڈاکٹر کے ہاتھ میں نہ ہونے کی وجہ سے) کہ انسان موتنے جائے تو بس قے کر کے واپس آ جائے۔ کام کر کے کرسی پے بیٹھنے لگے تو تشریف پے اتنے کھٹمل بیک وقت حملہ آور ہوتے ہیں کہ واپس کھڑے ہو کر کام پے لگنے میں عافیت معلوم ہوتی ہے۔

کچھ دیر آنکھ بند کرنے بستر پے لیٹو تو ادھر بھی یہی حالت۔ بھوک لگے تو کھانے کا کوئی مناسب بندوبست یا صاف کیفیٹیریا شاید ہی کسی ہسپتال میں موجود ہو! سیلانی اور دوسری فلاحی/خیراتی تنظیموں والے تین وقت کا صاف کھانا بنوا کر وارڈوں میں مریضوں اور ان کے اٹینڈنٹس کے لیے بھجواتے ہیں، جبکہ ساتھ والے کمرے میں بیٹھا ڈاکٹر خودداری/عزت نفس/بھرم قائم رکھنے کے چکر میں وہ مانگ بھی نہیں سکتا۔ اور باہر جا کے ٹائیفائیڈ اور ہیپاٹائٹس زدہ چیزیں خریدنے پر مجبور ہوتا ہے۔ بہت سے کولیگ میری آنکھوں کے سامنے گندے کھانے کی وجہ سے بیمار ہوئے، اور یہ کھانا انہوں نے شوق سے نہیں مجبوری سے کھایا تھا کیونکہ ڈیوٹی پر دوسرا کوئی آپشن نہیں ہوتا۔

کرنے والے ادارے اپنے ملازمین کے لیے سستے اور صاف میس، ریسٹ ہاؤس، ہاؤسنگ اسکیمیں اور نہ جانے کیا کیا بنا رہے ہیں۔ اور ہماری برادری کا حال یہ ہے کہ پروفیسر لیول تک پہنچے بندے کو یہ تک معلوم نہیں کہ اس کے وارڈ میں ڈیوٹی پے بیٹھے جونیئر ڈاکٹر کو ہگنے موتنے کے لیے بھی کوئی جگہ میسر ہے کہ نہیں۔ جن لوگوں کو خود اپنی کمیونٹی کی پروا نہیں، ان پر عوام تھوکیں نہیں تو اور کیا کریں۔

ڈاکٹر عزیر سرویا

-Dr. Uzair Saroya

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے