جسٹس فائز کے خلاف سامنے آنے والے وکیل کون ہیں؟

سپریم کورٹ کے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کے خلاف سپریم جوڈیشل کونسل میں حکومت کے ریفرنس کی حمایت میں پنجاب کے دو درجن وکیل سامنے آئے ہیں جنہوں نے اسلام آباد میں تقریب منعقد کی۔

پنجاب بار کونسل کی ایکشن کمیٹی کے نام سے منعقد اس اجلاس میں چند وکیلوں نے پاکستان بار کونسل کی ہڑتال میں شامل ہونے سے انکار کرنے کا اعلان کیا۔

پنجاب بار کونسل کے ان وکلا نے کہا کہ ”قانون سے کوئی بھی بالا تر نہیں۔ آرٹیکل دو سو نو کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کا احتساب ہو سکتا ہے۔ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ اپنے اوپر لگنے والے الزامات کا سامنا کریں۔“

اس اجلاس کا انعقاد پنجاب بار کونسل کے رکن ایڈووکیٹ شاہد گوندل نے کیا تھا۔

خیال رہے کہ شاہد گوندل تحریک انصاف کے سرگرم رکن ہیں اور وہ پی ٹی آئی کے ٹکٹ پر پنجاب اسمبلی کے حلقہ پی پی 67 سے الیکشن بھی کڑ چکے ہیں۔

شاہد گوندل کو تحریک انصاف کی حکومت نے بھاری تنخواہ پر وفاقی ترقیاتی ادارے سی ڈی اے میں قانونی مشیر لگایا ہے۔

شاہد گوندل کے ساتھ اس اجلاس میں رمضان چودھری نامی وکیل بھی سرگرم رہے جو بابر اعوان کے متمعد خاص ہیں۔

اجلاس کے تیسرے اہم روح رواں جمیل بھٹی ایڈووکیٹ بھی تحریک انصاف میں شامل ہیں۔

اجلاس میں مقررین نے کہا کہ جسٹس قاضی فائض عیسی کے معاملے میں ہمیں شخصیت کی نہیں رول آف لا کی پیروی کرنی ہے۔ ہمارا مقصد بےلاگ احتساب ہے ہمیں شخصیت کو نہیں بلکہ اداروں کو دیکھنا ہے۔آئین ججز کے احتساب کا فورم مہیا کرتا ہے۔

پنجاب کے وکلاء ایکشن کمیٹی کے اجلاس میں کہا گیا کہ آرٹیکل 209کے تحت سپریم جوڈیشل کونسل میں کسی بھی جج کا احتساب ہوسکتا ہے۔ قانون سے کوئی بالاتر نہیں چاہے جج ہی کیوں نہ ہو۔ شرکا نے صدر سپریم کورٹ بار کے اعلان سے لاتعلقی اختیار کرنے کا اعلان کیا جبکہ وفاقی وزیر قانون فروغ نسیم کی رکنیت معطل کرنے کی مذمت بھی کی۔ صدر سپریم کورٹ بار سے وکلا کا اوپن ہاؤس اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا۔

شفیق بھنڈارا ایڈووکیٹ نے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ صدر پاکستان نے ججز کیخلاف ریفرنس بھیجا ہے وہ عین قانون کے مطابق ہے۔ سپریم جوڈیشل کونسل ان ریفرنسز پر میرٹ پر فیصلے کرے۔

شاہد گوندل تحریک انصاف کے احتجاج کے موقع پر لاہور میں موٹر سائیکل سوار کو تھپڑ مارنے سے مشہور ہوئے تھے



شفیق بھنڈارا کا کہنا تھا کہ وکلا آئینی اداروں کے ساتھ کھڑے ہیں انصاف کی فراہمی کیلئے وکلاء اپنی خدمات پیش کرتے رہیں گے۔

کہا گیا کہ سپریم جوڈیشل کونسل کو اس کے مینڈیٹ کے مطابق کام کرنے دیا جائے۔ تقریب کے اختتام پر شفیق بھنڈارہ نے قرارداد پیش کردی جسے آل پاکستان وکلاء ایکشن کمیٹی نے متفقہ طور پر منظور کیا۔

خیال رہے کہ سنیچر کو ملک بھر کی بار کونسلز نے اسلام آباد میں پاکستان بار کونسل کے جھنڈے تلے مشترکہ قرارداد منظور کرتے ہوئے 14 جون کو جسٹس قاضی فائز عیسی کے خلاف بھجوائے گئے ریفرنس پر احتجاج کا اعلان کیا تھا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے