کون کتنا ٹیکس دے رہا ہے؟

پاکستان میں آئندہ مالی سال کا بجٹ منگل کو پیش کیا جا رہا ہے اور اس دوران سخت مشکلات کی شکار معیشت کو سہارا دینے کے لیے حکومت عوام سے ٹیکس دینے کی اپیل کر رہی ہے۔

معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی مانیٹری فنڈ آئی ایم ایف سے قرض لینے کے معاہدے کے بعد حکومت ان کی شرائط ماننے پر مجبور ہے اور اگلے سال کے بجٹ میں ٹیکس کی شرح بڑھائی جائے گی۔

پاکستان میں گذشتہ ایک برس کے دوران افراط زر کی شرح بڑھنے سے مہنگائی میں اضافہ ہوا ہے جس سے براہ راست عام لوگ متاثر ہوئے ہیں۔

معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر گرنے اور سرمایہ کاری نہ ہونے سے بے روزگاری میں اضافہ ہوا ہے۔

عام لوگوں نے وزیراعظم عمران خان کی جانب سے ٹیکس دینے کی اپیل پر ملا جلا ردعمل ظاہر کیا ہے۔

سوشل میڈیا پر صارفین کا کہنا ہے کہ عام لوگ پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں ان کے پاس حکومت کو دینے کے لیے اب کچھ نہیں ہے۔

صارفین نے وزیراعظم عمران خان کے ٹیکس دینے کی اپیل کو ان کے ماضی کے دھرنے والے بیانات سے جوڑ کر دکھایا ہے جب انہوں نے سول نافرمانی اور ٹیکس، بجلی گیس کے بل نہ دینے کا اعلان اور اپیل کی تھی۔

پاکستان میں براہ راست اور بلواسطہ ٹیکسوں پر معاشی ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے کم آمدنی والا طبقہ متاثر ہوتا ہے۔

ملک میں کم از کم اجرت 15 ہزار روپے ہے اور بازار سے اشیا کی خریداری پر مزدور کو بھی اتنا ہی سیلز ٹیکس دینا پڑتا ہے جتنا ارب پتی سرمایہ دار ادا کرتا ہے۔

پاکستان میں روح افزا مشروب کی 800 ملی لٹر کی بوتل 200 روپے کی جس پر صارفین 29 روپے ٹیکس دیتے ہیں جبکہ 200 ملی لٹر شیمپو کی قیمت 199 روپے ہے جس میں 29 روپے ٹیکس شامل ہے اور براہ راست حکومت وصول کرتی ہے۔

ملک میں 15 سے 16 فیصد سیلز ٹیکس ہر بنیادی ضرورت کی شے پر لگایا گیا ہے۔ صارفین بازار سے خریدی گئی 150 روپے کی ڈیٹول کی شیشی پر 21 روپے 79 پیسے ٹیکس ادا کرتے ہیں۔

پاکستان میں حکومت دو روپے کی ماچس کی ڈبیہ پر بھی بلا امتیاز ہر شہری سے ٹیکس وصول کرتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے