’تبدیلی کی قیمت 50 ارب ڈالرز‘

محمد اشفاق / تجزیہ کار

آپ کو 2017-18 تو یاد ہی ہوگا۔ یہ وہ دور تھا جب منتخب وزیراعظم عدلیہ کے ہاتھوں نااہل ہو چکا تھا۔ حکمران جماعت کے امیدوار سینیٹ الیکشن میں پارٹی ٹکٹ سے محروم کر دیے گئے تھے۔ ایم این ایز اور ایم پی ایز گرفتار اور نااہل کئے جا رہے تھے۔ حکومتی وزرا کے کفر کے فتوے جاری کر کے ایک مذہبی جماعت دارالحکومت مفلوج کیے بیٹھی تھی۔ فوج ان شرپسندوں کو اپنے لوگ قرار دے کر ان کے خلاف کارروائی سے گریزاں تھی۔ وفاقی وزیر داخلہ قاتلانہ حملے میں بال بال بچا تھا۔ اس غیر یقینی، افراتفری اور انتشار کی فضا میں آپ کی معیشت نے بھلا خاک ترقی کرنا تھی؟۔

اب آپ 2017-18 کا اقتصادی سروے اٹھا کر دیکھیں۔ زراعت میں 3٪ ہدف کے مقابلے میں 3.5٪ اضافہ ہوا۔ سروسز کے شعبے نے اپنا 6.4٪ ہدف کامیابی سے حاصل کیا۔ صنعت میں 6.4٪ ہدف تھا تاہم گروتھ 5.8٪ رہی۔ لیکن لارج سکیل مینوفیکچرنگ اپنا 6.3٪ کا ہدف حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ مجموعی طور پر ہماری معیشت 5.8٪ بڑھوتری کے ساتھ 320 ارب ڈالر کی ہو گئی۔ سیاست کی غیریقینی، انتشار اور افراتفری بھی ہماری معیشت کا پہیہ سست کرنے میں ناکام رہی، کیونکہ اوپر جو لوگ بیٹھے تھے وہ ”چور اور ڈاکو“ تھے۔

انتخابات کے بعد سیاسی فضا میں تبدیلی کی توقع تھی اور یہ تبدیلی آئی بھی۔ جناب خان صاحب کو ملک کے سب سے طاقتور ادارے کی بھرپور پشت پناہی حاصل تھی۔ عدلیہ ان کے ساتھ تھی۔ گزشتہ حکومت کے خلاف دھرنا دینے پر جس جماعت میں فوج نے ہزار ہزار روپے بانٹے، موجودہ حکومت کے خلاف بیان دے کر اس کی قیادت جیل جا پہنچی۔ اپوزیشن نے حکومت کے خلاف کوئی تحریک نہیں چلائی۔ پارلیمنٹ میں دو مرتبہ منی بجٹ منظور کروانے میں حکومت کو کوئی مشکل درپیش نہ آئی۔ دوست ممالک نے نو ارب ڈالر کی نقد امداد دی۔ بجلی کی لوڈ شیڈنگ زیرو ہو گئی۔ اس سیاسی استحکام کا براہ راست مثبت اثر معاشی حالات پہ پڑتا ہے- مگر ہوا کیا۔؟

2018-19 میں صنعتی شعبے میں مجموعی گروتھ منفی 0.3٪ رہی۔ لارج سکیل مینوفیکچرنگ کا ہدف 8٪ تھا اور گروتھ منفی 2٪ رہی۔ سروسز میں ہدف 6.5 تھا اضافہ 4.7٪ ہوا۔ تعمیرات کے شعبے نے 10٪ ہدف کے مقابلے میں 7.6٪ ترقی ریکارڈ کی۔ زراعت میں ہدف 3.8٪ اضافہ تھا کارکردگی 0.8٪ رہی۔ معیشت کی مجموعی ترقی کی شرح 6.3٪ کے ہدف کے مقابلے میں تقریباً نصف یعنی 3.3٪ رہی۔

یہ اتنی شرمناک کارکردگی ہے کہ خان صاحب میں غیرت ہوتی تو وعدے کے مطابق خودکشی کر لیتے مگر حضرت صبح صبح عوام کو دھمکیاں لگانے ٹی وی پہ تشریف لے آئے۔ کیونکہ آج دس جون تک ان کی ایمنسٹی سکیم کا وہی حال ہے جو ان کی ڈیم فنڈ اپیل اور پاکستان بناؤ سرٹیفکیٹ کا ہوا۔

خان صاحب کے پہلے سال میں ہماری معیشت 320 ارب ڈالرز سے سکڑ کر 280 ارب ڈالر رہ گئی ہے اور اس پر دس ارب ڈالرز کے نئے قرضوں کا بوجھ بھی لاد دیا گیا ہے۔ یوں "تبدیلی” قوم کو پہلے سال 50 ارب ڈالرز میں پڑی ہے- اور جناب حفیظ پاشا کے مطابق اس سال اکانومی مزید 20 ارب ڈالرز کم ہو کر 260 ارب ڈالرز رہ جائے گی۔ بیس لاکھ نوکریاں ختم اور پینتالیس لاکھ لوگ خط غربت سے نیچے دھکیل دئے جائیں گے۔

جس آرمی چیف کو 5.8٪ گروتھ والی اکانومی بری نہیں تو اچھی بھی نہیں لگ رہی تھی۔ اب وہ اور اس کا ادارہ پرانی تنخواہ پہ کام کرنے پر مجبور ہے-

بے شک اللہ الحق ہے اور وتعز من تشاء و تذل من تشاء۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے