’عید کی چھٹیاں کیسے اور کہاں گزریں‘

نعمان شاہ ۔ صحافی / مانسہرہ

پاکستان میں عید کی چھٹیوں کا بہترین مصرف سیر و سیاحت ہوتا ہے اور جب عید جون کی سخت گرمی میں آئے تو سندھ اور پنجاب کے ہر شہری کی خواہش ہوتی ہے کہ ملک کے شمال میں اچھے موسم کا لطف لیا جائے۔

ایبٹ آباد اور ضلع مانسہرہ سیاحوں کے لیے سوات ، ہنزہ اور مری جتنا ہی اہمیت کا حامل ہے۔

عید الفطر کے تین روز ملک بھر سے گرمی کے ستائے ہزاروں سیاح شاہراہ قراقرم پر ایبٹ آباد سے ناران اور ہنزہ تک سفر کرتے رہے۔

ناران بازار سے جھیل سیف الملوک کے راستے میں جیپ کا سفر چار سے چھ ہزارروپے تین کلومیٹر

نیشنل ہائی وے اتھارٹی این ایچ اے اور خیبر پختونخوا حکومت کی ناقص حکمت عملی کی وجہ سے سڑک سے لینڈ سلائیڈنگ کا ملبہ صاف نہ کیا گیا۔ جگہ جگہ گھنٹوں ٹریفک جام میں سیاح پھنسے رہے اور اطراف میں سہولیات نہ ہونے سے فیملیز کو دشواری کا سامنا کرنا پڑا۔

کیوائی سے کاغان ناران تک عید کے دوسرے روز شدید بارش میں متعدد سیاحوں نے رات کھلے آسمان تلے گزاری۔

مانسہرہ پولیس کے ٹریفک کنٹرول کرنے کے لیے بہتر انتظامات، ریسکیو 1122، سول ڈیفنس اور الخدمت فاونڈیشن کے رضاکار بھی پولیس کے ہمراہ سڑکوں پر نظر آئے۔

مانسہرہ کے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر زیب اللہ خان کے مطابق عیدالفطر پر فول پروف سکیورٹی پلان تشکیل دیا گیا تھا۔ مانسہرہ پولیس کے افسران اور جوانوں کی تمام چھٹیاں بھی منسوخ کی گی تھی۔

حکومت نے صرف بورڈ اور بینرز لگائے۔ سیاحوں کو اپنی مدد آپ کرنا پڑی۔ تصویر: نعمان شاہ

ڈی پی او مانسہرہ زیب اللہ خان کے مطابق ڈیڑھ سے دو لاکھ گاڑیاں مانسہرہ میں داخل ہوئیں۔ ”عید کے پانچ روز میں 8 سے 10 لاکھ سیاحوں نے وزٹ کیا۔“

سیاحو‍ ں کے مطابق سڑک بہت خراب ہے، ٹھیک نہیں کیا گیا۔

ٹی پیک ناران ٹور ازم پروموشن کے صدر سیٹھ مطیع اللہ کا کہنا ہے کہ حکومت نے سیاحوں کو کوئی سہولیات فراہم نہیں کی۔ ”ناران جھیل سیف الملوک روڈ اپنی مدد آپ کے تحت کھولا گیا تاکہ عید پر آنے والے سیاحوں کو مایوسی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔“

اس وقت تک ناران مین بجلی بحال نہیں کی جاسکی حکومت نئگ مقامات تلاش کرنے کے بجائے پرانے مقامات پر سیاحو‍ کو سہولیات فراہم کریں۔

ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کے لئیے ٹریفک پولیس کے 107اہلکار تعینات کیے گے ہیں۔

مشہور گلوکار گل پانڑہ اور اداکارہ مایا علی بھی شوگران پہنچی ہیں

عید کے ایام کے موقع پر مانسہرہ پولیس کے 700افسران و جوان ڈیوٹی کے فرائض سرانجام دے رہے تھے۔

ڈی پی او مانسہرہ کا کہنا تھا مآنسہرہ ضلع میں مرکزی اور صوبائ حکومت کے احکامات پر ضلع مانسہرہ میں ٹورسٹ فورس کا قیام بھی عمل میں لایا ہے تاکہ مانسہرہ کی خوبصورت وادیوں کی سیر کرنے آنے والے سیاح حضرات کی آسانی اور ان کو ہر وقت بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔

ٹورسٹ پولیس فورس 80جوانوں پر مشتمل ہوگئ جو کہ ضلع مانسہرہ کے مختلف تفریحی مقامات پر سیاح حضرات کو ہر قسم کی گائیڈ لائن اور مدد کے لئیے ہمہ وقت تیار رہے گی۔

تاہم سفر کرنے والے سیاح اس بار بھی حکومت کے انتظامات سے شاکی نظر آئے۔ ان کا کہنا تھا کہ پولیس کے ٹریفک کنٹرول کرنے کے علاوہ سیاحو‍ں کو سہولیات میسر نہیں آئی۔

سیاحوں نے مقامی ہوٹل مالکان اور تاجروں کی لوٹ مار کی شکایت کی۔ ہوٹل کے کمرے کا کرایہ 8 ہزار سے 35 ہزار تک ایک رات کا وصول کیا گیا۔

ناران میں ایک ٹینٹ کا رات بھر کا کرایہ 2000 سے 6000 تک وصول کیا گیا۔

رات کے وقت بالاکوٹ میں ٹریفک جام کا ایک منظر

فیصل آباد سے فیملی کے ہمراہ آئے سیاح میر مرتضی نے بتایا کہ راستے میں مشکل پیش آئی اور اب جگہ ڈھونڈ رہے ہیں۔

ملتان سے فیملی کے ہمراہ آئے ننھے زین کو بڑوں کی مشکلات کی پرواہ نہیں تھی۔ انہوں نے بتایا کہ مناظر بہت اچھے ہیں، موسم ٹھنڈا ہے تو انجوائے کر رہے ہیں۔

کئی سیاحوں نے سفر کی دشواری اور ٹریفک جام سے تنگ آ کر سڑک کنارے ہی ڈیرے ڈال کر ہانڈی روٹی کی۔

سینکڑوں سیاحوں نے علاقے میں عوامی بیت الخلا یا پبلک ٹوائلٹ نہ ہونے کی شکایت کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے