احتساب بیورو نے آصف زرداری کو گرفتار کر لیا

پاکستان میں پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف زرداری کو قومی احتساب بیورو نے گرفتار کر لیا ہے۔

اس سے قبل زرداری اور ان کی بہن فریال تالپور کی ضمانت میں توسیع کی درخواست اسلام آباد ہائیکورٹ نے مسترد کی تھی۔

قومی احتساب بیورو نیب نے دونوں کی گرفتاری کے لیے سپیکر قومی اسمبلی کو آگاہ کیا تھا۔

اسلام آباد ہائیکورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی نے فیصلہ سنایا۔

آصف زرداری اور فریال تالپور 28 مارچ سے عبوری ضمانت پر تھے۔ پانچ مرتبہ ان کی ضمانت میں توسیع کی گئی۔

پیر کو سماعت کے دوران سابق صدر زرداری کے وکیل فاروق ایچ نائیک نے دلائل دیتے ہوئے کہا تھا کہ قانون میں چیئرمین نیب کی جانب سے ضمنی ریفرنس دائر کرنے کی کوئی گنجائش نہیں، ریفرنس احتساب عدالت کو منتقل ہونے کے ساتھ ہی تفتیشی رپورٹ بھی منتقل ہو جاتی ہے۔

فیصلے کے وقت آصف زرداری اور فریال تالپور عدالت میں موجود نہ تھے۔

اسلام آباد: پولیس کی نفری زرداری ہاؤس کے باہر موجود ہے

احتساب بیورو کے ایڈیشنل پراسیکیوٹر جنرل جہانزیب بھروانہ نے عدالت کو بتایا تھا کہ یہ ساڑھے 4 ارب روپے کی ٹرانزیکشن کا معاملہ ہے، اس کی فہرست عدالت میں پیش کی گئی ہے کہ کتنی رقم اکاؤنٹ میں آئی اور کتنی استعمال ہوئی۔

عدالتی فیصلے کے بعد پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ترجمان مصطفی نواز کھوکھر نے ملک بھر کے جیالوں سے پرامن رہنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم اسلام آباد ہائی کورٹ کے تفصیلی فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں۔‘

 مصطفی نواز کھوکھر نے کہا کہ جیالے مشتعل نہ ہوں اور ضبط کا مظاہرہ کریں۔ ’آج سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے اجلاس میں اہم فیصلے ہوں گے۔‘

فاروق ایچ نائیک نے عدالتی فیصلے پر مایوسی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ وہ عدالتی ہدایت پر کیس لاز کی نقول فراہم کرنے کی تیاری کر رہے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے