حکومت ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی ہے، بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ ‏موجودہ حکومت مارتی ہے اور رونے بھی نہیں دیتی، جو رویہ حکومت نے اپنایا ہے ایسا تو ڈکٹیٹرز کے دور میں بھی نہ تھا-

اسلام آباد میں اپنے والد آصف زرداری کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‏نیب اپوزیشن کو ہراساں کر رہی ہے جیسے آج صدر آصف علی زرداری کو کیا گیا، اسپیکر سندھ اسمبلی کو اسلام آباد سے گرفتار کیا گیا اور پھر چادر اور چار دیواری کا تقدس بھی پامال کیا گیا۔

‏انہوں نے کہا کہ کیا انسانی و جمہوری حقوق کی خلاف ورزی پر نیب اپنے ہی افسران کی تحقیقات کرے گا؟ 

بلاول کا کہنا تھا کہ ‏الیکٹرونک اور سوشل میڈیا پر صرف و صرف حکومتی موقف دِکھایا جاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایوان مین موجود منتخب ارکان کی تقاریر بھی سینسر کی جاتی ہیں۔

”یہ کیسا نیا پاکستان، کیسی جمہوریت ہے جہاں اپوزیشن کے موقف کو سنسر کر کہ صرف حکومت کا موقف دکھایا جاتا ہے؟۔“

انہوں نے کہا کہ آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 10 اے شفاف ٹرائل کی اجازت دیتا ہے جو کہ اس نئے پاکستان میں نہیں ہو رہا۔ اس نئے پاکستان اور ایوب، ضیاء اور مشرف کے پاکستان میں کیا فرق ہے؟

‏”اُس وقت بھی عدالتوں پر دبائو ڈالا جاتا تھا اور آج بھی یہی ہورہا ہے۔“

بلاول بھٹو نے کہا کہ ‏علیمہ خان کو کلین چٹ مل گئی، جہانگیر ترین آج بھی حقیقی وزیراعظم ہے۔ اس کے بے نامی اکاؤنٹس پر نہ کوئی نیب، نہ کوئی جے آئی ٹی، نہ کوئی مقدمہ، نہ کوئی آئی ایس آئی اور نہ خصوصی کا بینچ بیٹھا۔ ”‏مگر حزب اختلاف جماعتوں کے خلاف یہ سب ہوگا۔ یہاں ایک نہیں دو پاکستان چل رہے ہیں۔“

‏انہوں نے حکومت کے پیچھے موجود طاقت کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ یہ ملٹری اسٹیبلشمنٹ کی حکومت ہے۔

متعلقہ مضامین