وزیراعظم کے خطاب میں گڑ بڑ ہوگئی

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان کے قوم سے ریکارڈڈ خطاب میں بھی غلطی ہوگئی جس کی وجہ سے سرکاری ٹی وی کو پہلے آواز اور پھر خطاب ہی روکنا پڑا۔

وزیراعظم کے قوم سے خطاب کے لیے پہلے سوا نو بجے رات کا وقت مقرر کیا گیا مگر ریکارڈنگ میں غلطیوں اور ایڈیٹنگ کی وجہ سے رات بارہ بجے کے لگ بھگ نشر کیا گیا۔

پاکستان ٹیلی ویژن پر خطاب شروع ہوتے ہی جب وزیراعظم نے مدینے کی ریاست کی تعریف بتانا شروع کی تو پہلے آواز بند کی گئی اور بعد ازاں خطاب ہی روک دیا گیا۔

وزیراعظم کے دفتر سے منسلک ایک اہم ذریعے نے پاکستان ٹوئنٹی فور کو بتایا کہ عمران خان کا خطاب تحریک انصاف سے وابستہ ایک شخصیت کی نجی کمپنی نے ریکارڈ کیا ہے تاہم وہ یہ بتانے کی پوزیشن میں نہیں کہ اس کے لیے کتنی رقم ادا کی گئی۔

سوشل میڈیا پر اس حوالے سے افواہیں پھیلائی گئی ہیں کہ وزیراعظم کا غلط ایڈٹ شدہ خطاب نشر ہونے کی وجہ سے روکا گیا اور پھر دوبارہ درست ورژن نشر کیا گیا۔

ایک مستند ذریعے کے مطابق عمران خان کے خطاب میں اسلامی تاریخ کے حوالوں کی غلطی سے بچنے کے لیے ان کی آواز صرف مدینے کی ریاست کی مثالوں کے وقت بند کی گئی۔

سرکاری ٹی وی میں موجود ایک ذریعے نے بتایا کہ ’وزیراعظم کے خظاب کی ریکارڈنگ و ایڈیٹنگ پراٸیویٹ کمپنی نے کی جس کا دفتر میلوڈی بینک الحبیب بلڈنگ کی بالاٸی منزل پر ہے۔‘

ذریعے کے مطابق مذکورہ کمپنی نے رات 11.30 پر ایڈٹ شدہ فاٸل پی ٹی وی کو دی جسے آن اٸیر کرتے ہوٸے کچھ تکنیکی مساٸل پیش آٸے۔ ’سرکاری ٹی وی نے کوئی ایڈیٹنگ یا سنسر نہیں کیا۔‘

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ گذشتہ دو حکومتوں کے ادوار میں اربوں ڈالرز کے قرضے لیے گئے اور اب حکومت ایک اعلیٰ سطح کے انکوائری کمیشن کے ذریعے ان 10 برسوں میں لیے گئے قرضوں کی تحقیقات کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ قرضوں کی تحقیقات کرنے والے کمیشن میں انٹر سروسز انٹیلی جنس (آئی ایس آئی) ،انٹیلی جنس بیورو (آئی بی)، وفاقی تحقیقاتی ادارہ (ایف آئی اے)، فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) اور سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی)  کے نمائندے شامل ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ انکوائری کمیشن کے ذریعے حکومت پتہ لگائے گی کہ یہ 24 ہزار ارب روپے کا قرضہ کیسے چڑھا، قوم کو معلوم ہونا چاہیے کہ سابق حکمرانوں نے ملک کے ساتھ کیا سلوک کیا۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر میری جان بھی چلی جائے تو ان چوروں کو نہیں چھوڑوں گا، پاکستانی قوم کا مجھ پر اعتماد ہے۔‘

اپنے خطاب میں وزیراعظم کا کہنا تھا کہ جب سے انہیں اقتدار ملا ہے پہلے روز سے مخالفین کہہ رہے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ بڑے بڑے برج جو آج جیل کے اندر ہیں، یہ ہی تبدیلی ہے۔ ’پاکستان میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ اتنے بڑے برج جیل میں ہوں گے، یہ قانون کی بالادستی ہے جو آہستہ آہستہ نظر آرہی ہے۔‘

عمران خان نے کہا کہ نیب ان کے ماتحت نہیں، آج کی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے، نیب کا چیئرمین تحریک انصاف نے نہیں بلکہ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی نے لگایا ہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ اپوزیشن نے انہیں پہلے دن سے ہی پارلیمنٹ میں تقریر نہیں کرنے دی، اپوزیشن پر مقدمات انہوں نے نہیں بنائے، آصف علی زرداری کے خلاف میگا منی لانڈرنگ کا کیس مسلم لیگ ن نے بنایا، شہبازشریف کے خلاف بھی مقدمہ بھی انہوں نے نہیں بنایا۔

وزیراعظم عمران خان نے خطاب میں کہا کہ پاکستانیوں کے 10ارب ڈالرزکے بیرون ملک بینک اکاؤنٹس ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ‏مدینہ کی ریاست کی وجہ سے مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی۔ وزیراعظم نے خطاب میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ پر پانچ منٹ تک تنقید کی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے