پرویز مشرف کے دفاع کا حق ختم، ٹرائل غیر موجودگی میں ہو گا

پاکستان میں سابق فوجی حکمران پرویز مشرف کے خلاف آئین کی خلاف ورزی پر سنگین غداری کا مقدمہ چلانے والی خصوصی عدالت نے ان کے دفاع کے حق کو ختم کر دیا ہے۔


عدالت نے کہا ہے کہ کیس کو مزید التواء کا شکار نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر کو اس کیس میں مزید وکالت سے روکتے ہوئے وفاقی حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ سرکاری خرچے پر پرویز مشرف کے لئے وکیل کرے تاکہ ملزم کی غیر موجودگی میں اس کے خلاف ٹرائل کو حتمی انجام تک پہنچایا جا سکے۔

خیال رہے کہ پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ دسمبر ۲۰۱۳ سے زیر التوا ہے۔

پرویز مشرف کے وکیل سلمان صفدر نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”آج ہم نے میڈیکل ثبوت اور فوٹو گراف ثبوت لگا کر عدالت میں پیش کیا۔ ہم نے تازہ فوٹو گراف اور میڈیل رپورٹ لگائی تاکہ ججز کو پرویز مشرف کی صورتحال کا اندازہ ہو سکے۔“

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت جنرل صاحب کی جو حالت ہے اس میں کوئی دو رائے نہیں کے وہ بہت بیمار ہیں۔ عدالت نے مناسب نہیں سمجھا اور ہماری التوا کی درخواست منظور نہیں ہوئی۔

انہوں نے کہا کہ چونکہ سپریم لورٹ کا حکم بھی آیا ہے اس لیے ٹرائل کورٹ نے حکم پر عمل درامد کرنا ہے۔ ”اس وقت جو التوا ہے وہ کوئی بہانہ نہیں بلکہ جنرل صاحب کی بیماری ہے۔ جنرل صاحب تین چار سال پاکستان میں رہے لیکن ٹرائل مکمل نہیں ہوا۔“

وکیل نے کہا کہ یہ چھوٹا سا ٹرائل تھا اگر ان کی موجودگی میں مکمل ہوتا تو بہت ہی مناسب ہوتا۔ ”وزیر داخلہ نے جو درخواست گزار ہے، نے خود پرویزمشرف صاحب کو باہر بھیجا۔ آج وہ خود پرویز مشرف کی بیماری کو نہیں مان رہے۔“

سلمان صفدر نے کہا کہ آج اسی لیے ہماری دوبارہ درخواست تھی جو عدالت نے نہیں مانی۔ مشرف پاکستان آنا چاہتے ہیں مگر وہ ویل چئیر پر ہیں۔ ڈاکڑر انھیں اجازت دیں گے تو وہ ضرور پاکستان آئیں گے

وکیل نے کہا کہ اب وفاقی حکومت وکلا کا پینل بنائے گی۔ اس کے بعد عدالت فیصلہ کرے گی کے پرویز مشرف کی وکالت کون کرے گا۔ میں وکلا کی معاونت کے لیے تیار ہوں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے