ڈی ایچ اے متاثرین کی پریس کانفرنس کیسے ہوئی

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایک اسسٹنٹ کمشنر نے پولیس کے ہمراہ پریس کلب کے باہر مظاہرہ کرنے والے ڈیفنس ہاؤسنگ اتھارٹی (ڈی ایچ اے ویلی) کے متاثرین کو ہراساں کیا اور نیشنل پریس کلب کے اندر بھی میڈیا سے بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی۔

اسسٹنٹ کمشنر نے پریس کلب کے ہال میں کوریج کے لیے آئے ٹی وی چینلز کے کیمروں پرسنز سے ان کے نام اور چینلز کے نام پوچھنے کی بھی کوشش کی۔

ڈی ایچ اے ویلی متاترین کے نمائندوں اظہار احمد، میڈم نائلہ اور پرویز نے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ جی ایچ کیو میں صاحب اختیار ہے اپیل ہے کہ مسئلہ حل کر کے حق دیا جائے۔

متاثرین نے کہا کہ گھر کے لیے پیسے اس لیے جمع کروائے کہ ایک معتبر ادارے کا۔نام اس سے جڑا تھا۔ ”رقم جمع کرائے گیارہ سال گذر گئے مگر پلاٹ کا قبضہ نہیں ملا۔“

ان کا کہنا تھا کہ ستر ہزار متاثرین ہیں جن میں سے بیرون ملک کام کرنے والوں نے اس لیے پیسے دیے کہ واپس آکر گھر بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اوورسیز سے ڈالرز میں رقم وصول کی گئی۔

متاثرین نے کہا کہ حکام بالا اور وزارت سمندر پار پاکستانیز کیا کر رہے ہیں۔ ”سب سے استدعا ہے کہ ہم پر رحم کیا جائے اور ہمارا حق دیا جائے۔ جتنے عرصے ہمارا پیسہ استعمال کیا اس کا کیا ہوا۔“

شفیق رحمان نامی متاثرہ شہری نے کہا کہ ڈی ایچ اے سے التماس ہے کہ ہماری درد مندانہ اپیل پر غور کرے اور ہمارا حق دیا جائے۔ ”ڈی ایچ نے ہمارے پیسے گیارہ سال تک اپنے مفاد کے لیے استعمال کیا۔ ہمیں بھی سرچارج کی صورت میں ادا کیے جائیں۔“

اظہار احمد کا کہنا تھا کہ جی ایچ کیو میں جو صاحب اختیار ہیں ان سے درخواست ہے کہ جب تک ہمارا مسئلہ حل نہیں ہوتا کوئی نیا پراجیکٹ نہ شروع کیا جائے۔

متاثرین نے کہا کہ ذولفی بخاری نے غلط دعوی کیا ہے کہ ستر فیصد لوگوں کو قبضہ مل گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عدالت بھی ڈی ایچ اے یا ملک ریاض کے خلاف کیس نہیں سنتی۔ ”ڈی ایچ اے اب دھوکہ ہاؤسنگ سوسائٹی بن چکی ہے۔“

پریس کلب میں بعض رپورٹرز نے اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمشنر سے کہا کہ متاثرین کو پریس کانفرنس کرنے دی جائے کیونکہ وہ اس کی خبر نہیں دی گے اور نہ ہی ٹی وی چینلز یہ نشر کریں گے۔

خیال رہے کہ اسلام آباد کے نیشنل پریس کلب میں پریس کانفرنس کی عمومی فیس ۳۵ ہزار روپے وصول کی جاتی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے