افراد، تحریک اور مغالطے

ثنا اللہ گوندل ایڈووکیٹ

کچھ مزید مغالطے:

لیڈر منافق ہیں ان کے لئے عوام کیوں ڈنڈے کھائے:

ممکن ہے کچھ معصوم خالصتا نظریاتی نعروں پر یقین کرتے ہوں۔ لیکن اکثریت جب کسی تحریک یا فرد کے حق میں سڑکوں پر نکلتی ہے تو وہ اس تحریک یا لیڈر میں اپنی امنگوں کا عکس دیکھتے ہیں۔ یا اس کےُمخالفین پر غصے کی وجہ سے اس کا ساتھ دیتے ہیں۔
مثلا اگر لوگ لوڈ شیڈنگ یا مہنگائی سے تنگ ہوں تو وہ یہ نہیں دیکھتے کہ اس وقت موجود حکومت کرپٹ نہیں یا بہت پڑھی لکھی ہے۔ وہ تنگ آکر ہر اس شخص کا ساتھ دیتے ہیں جو انھیں حکومت کا مخالف نظر آئے۔ سیاست میں عموما نفرت یا غصے کی شدت محبت یا حمایت سے زیادہ ہوتی ہے۔
ہمارے خیال میں افتخار چودھری کے حق میں تحریک اس کی حمایت یا محبت سے زیادہ مشرف کی دس سالہ آمریت کے خلاف تھی۔

بعض دفعہ لوگوں کو معلوم ہوتا ہے کہ تحریک کا رہنما دونمبر ہے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ بڑے خبیث سے اگر ہم نہیں لڑ سکتے تو کم از کم اس دونمبر کی حمایت تو کرسکتے ہیں جو بڑے خبیث کو کمزور کرے گا۔

ویسے تو خاکسار کسی قسم کی تحریک میں انٹرنیٹ پر جگتوں کے علاوہ کسی قسم کا حصہ لینے کا کبھی قائل نہیں رہا۔ لیکن اگر کسی بھی موقف کی کشمیریوں کی طرح اگر اخلاقی حمایت کرے گا تو محض اپنے غصے جسے بعض لوگ اصول کا نام بھی دیتے ہیں کی بنیاد پر کرے گا۔

اس صورت میں خاکسار اس بات پر پچھتانے کا قائل نہیں کہ ہم نے جس فرد کی حمایت کی خود اس نے ڈیل کرلی ۔افراد کمزور بھی ہوتے ہیں، کرپٹ بھی، وہ خوفزدہ بھی ہوسکتے ہیں اور فوت بھی ہوسکتے ہیں۔

اگر آپ کسی کے موقف کو درست سمجھتے ہیں تو اس کی حمایت کریں نہیں درست سمجھتے تو نہ کریں۔ لیکن اس توقع کو ذہن سے نکال دیں کہ وہ شخص آپ کی حمایت کے بعد آپ کی ہر توقع پر پورا اترنے کا پابند ہے یا وہ ڈیل نہیں کرے گا۔ ممکن ہے وہ ایسا کرے ممکن ہے نہ کرے یا نہ کرسکے۔ لہذا اپنے موقف یا حمایت کی بنیاد کو سمجھ کر چلنا مناسب ہے۔اگر آپ کسی فرد کی محبت یا باتوں میں آکر اگر کسی تحریک کا حصہ بنیں گے تو آپ کی مایوسی کا امکان زیادہ ہے۔

سیاست میں وراثت:

سیاسی جماعتوں میں وراثت پر اعتراض بجا ہے۔ لیکن یہ بھی تو دیکھیں کہ جب بھی کوئی سیاستدان مقتدر حلقوں کی نظر میں معتوب ٹھہرتا ہے تو راتوں رات “جونک در جونک” اس کے ساتھیوں کے ضمیر جاگنے شرع ہوجاتے ہیں۔ اس صورتحال میں وہ اپنے خاندان کے علاوہ کس پر اعتبار کرے؟ اگرچہ ان کی بھی سو فیصد گارنٹی نہیں ہے۔


اگر کوئی سیاستدان اپنی اولاد کو وارث بنا دے تو سیاسی پارٹی کے ممبران یا ووٹر اس کو مسترد کردیں تو کوئی ان کا کورٹ مارشل تو نہیں کرسکتا۔پھر کسی بھی شخص کے نئی سیاسی جماعت یا پرانی سیاسی جماعت کا ن، ق یا پ دھڑا بنانے پر کوئی پابندی نہیں۔آپ سیاسی جماعت اور اس کے وارث کو اکیلا چھوڑ کر نئی جماعت بنائیں۔ مسئلہ کیا ہے؟

سیاستدان فوج کی نسبت نالائق یا نااہل ہیں اس لیے سول بالادستی کا خواب ادھورا ہے۔

فوج کے پاس ایک تو بندوق ہے دوسرے جوانوں کی تنخواہ قومی خزانے سے آتی ہے اور اگر وہ حکم جرنل صاحب کا نہ مانیں تو ان کا کورٹ مارشل ہوسکتا ہے۔


دوسری طرف حکم ماننے کی صورت (چاہے اس حکم پر عملدرآمد کا نتیجہ آئین یا ملک ٹوٹنے کی صورت ہی نکلے) انھیں عدالت، انکوائری، پارلیمانی کمیٹی یا آڈٹ کی خواری وغیرہ نہیں بھگتنی پڑتی۔
فوج اپنے جوانوں کو جو بھی حکم دیتی ہے اس کے لیے ضروری وسائل بھی مہیا کرتی ہے جو ظاہر ہے عوام کے ٹیکس ہی سے آتے ہیں۔


یہ سارے یا ان میں سے اکثر فیکٹر سول سرکاری انتظامیہ یا سیاسی جماعتوں کو میسر نہیں ہوتے یا اس حد تک میسر نہیں ہوتے ۔لہذا فوج سے ان کا نظم و ضبط یا کارکردگی کا موازنہ درست نہیں۔

پھر جب موازنہ بھی عموما محض یکطرفہ یلغار ہو۔ ایک طرف کے دلائل یا حقائق بھی غداری قرار پائیں۔

متعلقہ مضامین