صرف 28 ریفرنس پڑے ہیں، جوڈیشل کونسل

پاکستان میں اعلی عدلیہ کے ججوں کا احتساب کرنے والے فورم سپریم جوڈیشل کونسل نے ایک اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کے پاس ججوں کے خلاف صرف 28 شکایات یا ریفرنسز زیر التوا ہیں جن میں دو صدر مملکت کی جانب سے بھیجے گئے ہیں۔

اعلامیے سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ جسٹس قاضی فائز اور جسٹس کے کے آغا کے خلاف دائر ریفرنسز پر تاحال کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا۔

سوشل میڈیا پر بعض رپورٹرز نے ریفرنس مسترد کیے جانے اور بعض نے ججز کو نوٹس جاری ہونے کی ٹویٹس کی تھیں۔

اعلامیے کے مطابق گذشتہ دو دنوں سے پاکستان کے میڈیا پر یہ بحث چل رہی ہے کہ اور تاثر دیا جا رہا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس 350 ریفرنسز پڑے ہیں۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ مختلف افراد کی جانب سے دیے گئے یہ اعداد وشمار نہ صرف غلط بلکہ گمراہ کن اور حقیقت کے خلاف ہیں۔ واضح کیا جاتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل کے پاس کل 426 شکایات یا ریفرنس دائر کیے گئے۔

ان ریفرنسز کو سپریم جوڈیشل کونسل کے ضابطہ انکوائری 2005 کے تحت مختلف مراحل سے گزارا گیا اور ان میں سے 398 ریفرنسز یا شکایات نمٹا دی گئیں۔

سپریم جوڈیشل کونسل کے اعلامیے کے مطابق اب اس کے پاس صرف 28 شکایات ہیں جن میں سے دو صدارتی ریفرنسز ہیں۔ ’یہ واضح کیا جاتا ہے کہ ان شکایات کو طریقہ کار کے مطابق کارروائی کرتے ہوئے اپنے وقت میں نمٹایا جائے گا۔‘

متعلقہ مضامین