وزیر نے اینکر کو تھپڑ کیوں مارا؟

پاکستان میں سائنس و ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے ٹی وی اینکر سمیع ابراہیم کو ایک تقریب میں تھپڑ مارا ہے جس کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین رنگ برنگے تبصرے کر رہے ہیں۔

ٹوئٹر صارف منصور نے لکھا ہے کہ تحریک انصاف کے دو گروپوں میں تصادم ہوا ہے اور سیاسی شعبے نے میڈیا کے شعبے کو تھپڑ مارا ہے۔

تھپڑ مارنے کا یہ واقعہ جمعہ کی رات فیصل آباد میں ایک ٹی وی چینل کے مالک کی بیٹی کی شادی میں پیش آیا۔

خیال رہے کہ اس سے قبل بھی فواد چودھری اور سمیع ابراہیم ٹوئٹر پر ایک دوسرے کو گالیاں دیتے رہے ہیں۔

سمیع ابراہیم نے فواد چودھری کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی درخواست دی ہے جبکہ بعض ٹی وی اینکر بھی ان کی حمایت میں سامنے آئے ہیں۔

اینکر عارف حمید بھٹی نے اس کو صحافت اور جمہوریت پر حملہ قرار دیا ہے۔

فواد چودھری نے عارف بھٹی کو جواب دیا ہے کہ ‏”آپ کو غصہ صرف امیر anchors کیلئےکیوں آتا ہے جب عابد راہی جیسے سیلف میڈ غریب صحافیوں کو سمیع ابراہیم جیسےمافیاز تنخواہیں نہیں دیتے اس وقت آپ کی صحافت خطرے میں کیوں نہیں آتی؟“۔

انہوں نے لکھا ہے کہ دراصل صحافت کو خطرہ زرد صحافیوں سے ہے اور زرد صحافت کے خلاف مہم چلانا ہو گی۔

فواد چودھری نے سمیع ابراہیم کے خلاف قانونی کارروائی کرنے کا بھی کہا ہے۔

متعلقہ مضامین