امریکہ کی مزید فرمائشیں

امریکی وزیر خارجہ نے پاکستان سے افغان امن عمل میں تیزی لانے اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی رقم کی روک تھام کرنے پر زور دیا ہے۔

مائیک پومپیو نے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلیفونک رابطہ کیا ہے۔

اس گفتگو میں دو طرفہ تعلقات، خطے میں امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ہاکستانی دفترخارجہ کے ترجمان کے مطابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی جو ان دنوں لندن میں ہیں، نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت پاکستان کی جانب سے کئے گئے اہم اقدامات سے امریکی وزیر خارجہ کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ خطے میں امن و استحکام کے فروغ کیلئے پاک امریکہ باہمی تعلقات نہایت اہمیت کے حامل ہیں۔

دونوں وزرائے خارجہ کے مابین فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی طرف سے مجوزہ اقدامات پر عملدرآمد کے حوالے سے بھی بات چیت ہوئی۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے کہا کہ منی لانڈرنگ اور دہشت گردی کی مالی معاونت کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت اور اسٹیٹ بینک کی زیر نگرانی بینکنگ اور نان بینکنگ مالیاتی اداروں، انشورنس کمپنیوں اور اسٹاک ایکسچینج کے داخلی کنٹرول کو بہتر بنایا گیا ہے۔

اس موقع پر افغان امن عمل میں پاکستان کی طرف سے جاری سہولت کاری پر بھی گفتگو ہوئی۔ دونوں رہنماؤں نے افغان امن عمل میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

وزیر خارجہ نے کہا کہ پرامن افغانستان، پورے خطے کے امن و استحکام اور تعمیر و ترقی کیلئے ضروری ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے مابین ہم آہنگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

ترجمان کے مطابق قریشی نے امریکی ہم منصب کو بتایا کہ سعودی عرب میں اسلامی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر وزیراعظم عمران خان اور افغان صدر اشرف غنی کے مابین ہونے والی ملاقات، حال ہی میں امن اور یکجہتی کیلئے افغانستان پاکستان ایکشن پلان (APPAPS) کے تحت اسلام آباد میں منعقد ہونے والے جائزہ اجلاس اور افغان صدر اشرف غنی کے عنقریب متوقع دورہ پاکستان سے واضح ہو رہا ہے کہ دونوں ممالک کے مابین کثیر الجہتی روابط فروغ پا رہے ہیں۔

ادھر امریکہ نے کہا ہے کہ مائیک پومپیو نے پاکستان سے افغان امن عمل میں تیزی لانے اور دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے والی رقم کی روک تھام کرنے پر زور دیا ہے۔

متعلقہ مضامین