امریکہ خلیج میں مزید فوجی بھیجے گا

خلیج میں ایران کے ساتھ بڑھتی کشیدگی کے بعد امریکہ نے علاقے میں مزید ایک ہزار فوجی تعینات کرنے کا اعلان کیا ہے۔

مشرق وسطیٰ میں امریکی فوج کے مزید دستوں کی تعیناتی کا اعلان قائم مقام سیکرٹری دفاع شیناہن نے پیر کو کیا۔ تاہم انہوں نے یہ نہیں بتایا کہ یہ اضافی فوجی دستے کہاں تعینات کیے جائیں گے۔

وزیرِ دفاع پیٹرک شناہن کا کہنا تھا کہ اِن فوجی دستوں کی تعیناتی ایرانی فوج کی جانب سے دکھائے جانے والے رویے کے ردِعمل میں کی گئی ہے۔

خیال رہے کہ امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے اتوار کو کہا تھا کہ امریکہ ایران سے جنگ نہیں چاہتا، لیکن وہ ‘تمام ممکنہ امکانات پرغور کر رہے ہیں’۔

اپنے بیان میں پیٹرک شناہن نے کہا ‘امریکہ ایران کے ساتھ تصادم نہیں چاہتا’ البتہ فوجی دستوں کی تعیناتی اس لیے کی گئی ہے تاکہ وہ ‘اس خطے میں ہمارے قومی مفادات اور پہلے سے موجود اہلکاروں کی حفاظت کر سکیں۔’

وزیر دفاع کے مطابق ایران کے حالیہ حملوں نے ایرانی افواج اور اس کے ’گماشتوں کے جارحانہ رویوں‘ کے بارے میں ہماری قابلِ اعتماد انٹیلیجنس معلومات کو درست ثابت کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایرانی رویے خطے میں امریکی فوج اور امریکی مفادات کے لیے خطرہ ہیں۔

پیٹرک شناہن نے کہا کہ امریکی فوج اس صورتحال کی نگرانی کرتی رہے گی، اور فوجیوں کی تعداد کو ضرورت کے مطابق کم یا زیادہ کیا جا سکتا ہے۔

مشرقِ وسطیٰ میں امریکی فوجیوں کی تعیناتی کا یہ اعلان صدر ٹرمپ کی جانب سے گزشتہ ماہ علاقے میں 1500 فوجیوں کی تعیناتی کے حکم کے علاوہ ہے۔

متعلقہ مضامین