سندھ اسمبلی اجلاس کا تنازع

کراچی سے عبدالجبار ناصر

سندھ اسمبلی کا جاری اجلاس طلب کئے جانے کے حوالے سے حکومت سندھ اور گورنر سندھ کے مابین تنازع شدت اختیار کرگیا ہے۔

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے سندھ اسمبلی کے جاری اجلاس کو غیر قانونی قرار دیا ہے، جبکہ سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ گورنر سندھ آئینی تقاضے پورے نہیں کر رہے ہیں اور قائد حزب اختلاف نے سیکریٹری اسمبلی کو بھی نشانہ بنایا ہے۔

قانونی ماہرین کا کہنا ہے کہ اجلاس کے معاملے میں گورنرسندھ اور قائد حزب اختلاف کے موقف میں وزن نہیں ہے اور اجلاس غیر قانونی ہے تو اپوزیشن حصہ کیوں بنی ہے؟

گورنر سندھ عمران اسماعیل نے پیر کو اسپیکر سندھ اسمبلی آغا سراج درانی کے نام خط میں کہا ہے کہ ایک غلط ریکوزیشن پر اسمبلی اجلاس بلایا گیا ہے، پانچ ارکان کراچی میں موجود نہ تھے تو ان کے دستخط کس طرح لیے گئے، اس کی وضاحت کی جائے۔

گورنر سندھ نے اسپیکر سے تفصیلات طلب کی ہیں۔ خط میں کہا گیا ہے کہ جن ارکان اسمبلی کے دستخط کیے گئے ہیں ان میں سے 5 ممبران 10 جون کو صوبے یا ملک میں ہی نہیں تھے۔ خط میں لکھا ہے کہ ملک اسد سکندر،ڈاکٹر سہراب سرکی اور عبدالرزاق راجہ 10 جون کو ملک میں نہیں تھے جبکہ 10 جون کو فریال تالپور اسلام آباد میں تھیں اور رکن سندھ اسمبلی منورسان بھی 10 جون کو خیرپور میں تھے۔

گورنر سندھ نے خط میں اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ وزیراعلی سندھ نے 3 جون کو سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانے کے لیے سمری بھیجی تھی اور عید کی 6 روزہ چھٹیوں کے بعد 10 جون کو سمری منظوری کیلیے میرے دفتر پہنچی اور10 جون کو ہی سیکریٹری اسمبلی نے ارکان اسمبلی کے دستخطوں سے اجلاس بلالیا۔

گورنر سندھ نے خط کے ذریعے اسپیکر اسمبلی سے معاملے کی تحقیقات کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اسپیکر پتہ لگائیں کہ اس دھوکہ دہی میں کون ملوث ہے۔

خط میں کہاگیا ہے کہ 13 جون کو سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے بھی ایک خط کے ذریعے سیکریٹری سے ریکارڈ مانگا جو نہیں دیا گیا۔ گورنر سندھ ایک خط اس سے قبل 11 جون کو سیکریٹری سندھ اسمبلی کو لکھ چکے تھے جس میں ریکوزیشن کا ریکارڈ طلب کیا تھا۔

دوسری جانب وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے ایوان میں اور بعد ازاں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس میں واضح کیا تھا کہ 12 جون کے اجلاس کے لئے عید سے قبل سمری گورنر کو بھیجی اور 10 جون تک جواب نہ ملنے کی صورت میں 10 جون کو دن کو گورنر سندھ کے سیکریٹریٹ سے رابطہ کیا تو کہا گیا کہ گورنر سندھ سہہ پہر 3 بجے اپنے دفتر میں آئیں گے۔

وزیر اعلیٰ سندھ کے مطابق 4 بجے تک بھی جواب نہ آنے پر ہم نے اپنے پرائیویٹ ممبران سے اجلاس بلانے کے لئے ریکوزیشن جمع کرنے کو کہا ۔ وزیر اعلیٰ سندھ نے یہ وضاحت بھی کی کہ ایک درخواست پر ممبران کے دستخط لیکر ہم حفظ ماتقدم کے طور پر رکھتے ہیں۔سندھ اسمبلی میں قائد حزب اختلاف فردوس شمیم نقوی نے منگل کو سیکریٹری سندھ اسمبلی کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کئی الزامات لگائے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ قائد حزب اختلاف نے سیکریٹری سندھ اسمبلی جی ایم عمر فاروق سے ریکوزیشن کا مکمل ریکارڈ مانگا تھا ، جنہوں نے اسپیکر سے رابطہ کرنے کو کہا ، جس پر قائد حزب اختلاف شدید ناراض ہیں۔

اپوزیشن اتحاد کے ایک سینئر پارلیمنٹرین کا کہنا ہے کہ ریکوزیشن کے حوالے سے گورنر سندھ کو تنازع نہیں پیدا کرنا چاہیے۔ قواعد و ضوابط میں ریکوزیشن کے لئے 42 ممبران کے دستخط ضروری ہے اور قواعد میں کہیں بھی یہ نہیں لکھا ہے کہ اسی وقت دستخط لئے جائیں۔

اسمبلی سیکریٹری سوائے اسمبلی بزنس کے کوئی بھی چیز فراہم کرنے کا پابند نہیں، تاہم قائد حزب اختلاف اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ان کو ریکارڈ فراہم نہ کرکے ان کا استحقاق مجروح کیا گیا تو ایوان میں سیکریٹری کے خلاف تحریک استحقاق جمع کرادیں ۔ گورنر سندھ کے خط کے مطابق اگر اجلاس غیر قانونی ہے تو پھر اپوزیشن اس غیر قانونی عمل کا حصہ کیوں بنی ہے ؟

تحریک انصاف کے سینئر ممبر سندھ اسمبلی جمال صدیقی کا کہنا ہے کہ گورنر کا ایکشن درست ہے۔ ریکوزیشن اجلاس کو بجٹ سیشن میں تبدیل کرنا غیر قانونی عمل ہے اور یہ کہ حکومت نے ریکوزشن میں بھی جعل سازی کی ہے ۔

اس سوال پر کہ اگر اجلاس غیر قانونی ہے تو اپوزیشن اس غیر قانونی عمل میں شریک کیوں ہے؟ جمال صدیقی کا کہنا ہے کہ بجٹ کے حوالے سے ہم شریک ہیں اور قائد حزب اختلاف اپنی بجٹ تقریر میں ساری بات کریں گے۔ گورنرسندھ کے خط پر مشیر اطلاعات مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ گورنر کا سندھ اسمبلی کا اجلاس بلانے پراعتراض بے بنیاد ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے