محمد بلال خان کے نام

محمد عاصم

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بلاگر محمد بلال خان کو گذشتہ دنوں شہید کیا گیا اور تاحال ان کے قاتل نامعلوم ہیں۔

محمد بلال خان نے بین الااقوامی یونیورسٹی میں اصول الدین کے دوسرے سمسٹر کا امتحان دیا تھا۔ ان کی شخصیت، خیالات میں تبدیلی اور علم میں آئے روز اضافہ ہو رہا تھا۔

خدا نے اُسے کئی خوبیوں سے نوازا تھا۔علم سے عشق اور کتاب سے لگاو اُس کی شخصیت کا ایک بہترین حصہ تھے۔خوبیاں تو بہت ساری تھیں لیکن ایک ایسی عادت تھی جسکا کسی سے موازنہ نہیں کیا جا سکتا، اگر دشمن بھی کوئی اچھا کام کرے تو اُس کی تعریف کرنا اور اگر دوست بھی کوئی بُرا کام کرے تو اُس کی مذمت کرنا بلال کی عادت تھی اور اس کی یہی خوبی اس کو دوسروں سے منفرد بناتی تھی۔

 لکھنا اُس کی خوبیوں میں سے ایک خوبی تھی۔ اور یہی وجہ تھی کہ جب بھی لکھتا اور جب بھی بولتا تو سچائی جھلکتی تھی، اپنے خیالات کا بے باک اظہار کرتا تھا۔ اور جب بھی معاشرے میں کوئی غلط کام ہوتے دیکھتا تو حق کی آواز اُٹھاتا تھا۔

بلال ایک باہمت شخص تھا۔ وہ اپنی محنت اور مزدوری سے اپنی اور اپنی بہنوں کی تعلیم کا خرچ پورا کرتا تھا۔ بلال نے کبھی بناوٹی انداز نیہں اپنایا، جو اُس کے دل پر ہوتا تھا وہی اُس کی زبان پر ہوتا تھا۔ اُس کے قول اور فعل میں کوئی تازاد نہیں تھا۔

بلال سوشل میڈیا کی وجہ سے شہرت رکھتا تھا اور اسی شہرت سے فائدہ اُٹھا کر کچھ بھی حاصل کرسکتا تھا لیکن درحقیقت وہ علم حاصل کرکے معاشرے میں کچھ اچھا کرنا چاہتا تھا۔ اور علم کی پیاس کو بُجھانے کے لیے اُس نے اسلامی یونیورسٹی میں داخلہ لیا۔ بلال شریعہ اور قانون پڑھنا چاہتا تھا لیکن اُس کا داخلہ اُصول الدین میں ہوا۔

ایک بار اسلامک کے ایف ایم ریڈیو پر ملاقات کے لیے آیا تھا۔ سردی کی شام تھی، تمام دوست بلال کی باتوں کو غور سے سُن دہے تھے۔ بہت ہی خوبصورت طرزبیاں تھا۔ آخر میں بلال نے حضرت محمدﷺ کی شان میں گلہائے عقیدت پیش کیا تھا، وہ بہت خوبصورت اور یادگار شام تھی۔

 بلال سادہ لباس میں خود کو پرُ سکون محسوس کرتا تھا ایک دفعہ دوستوں کے اصرار پر انارکلی بازار لاہور سے پینٹ شرٹ خرید کر زیب تن کی تھی۔ کھانے پینے کی اگر بات کی جائے تو بریانی اور چائے بلال کی پسندیدہ خوراک تھی۔ انسان تو دنیا سے چلاجاتا ہے اور اپنے پیچھے یہ یادیں چھور جاتا ہے۔

بلال کو بارہا سمجھایا جاتا رہا، بلال ریاستی اداروں پر تنقید کرتا تھا اور ساتھ ہی ساتھ مذہبی حوالے سے بھی اُس کے نظریات کافی سخت تھے۔

بی بی سی اُردو کے مطابق بلال خان کالعدم تنظیم اہل سنت والجماعت کے ہمدرد سمجھے جاتے تھے۔

آج ہم سب بلال کے قتل کی مذمت کر رہے ہیں لیکن بلال خان کے خون کے ساتھ انصاف یہی ہے کہ ہم معاشرے میں روشنی کہ چراغ بنے۔ ہر قسم کے منفی رجحانات کو ہمشہ کے لیے خیرآباد کہہ دیں کیونکہ انتہاپسندانہ رجحانات اور نفرت انگیزی پر مبنی معاشرہ کبھی پروان نہیں چڑھتا۔

یہ ہمارا فرض ہے کہ معاشرے میں پیار اور امن قائم کرے اپنے بچوں کو محبت اور بھائی چارے جسے رجحانات کی طرف قائل کریں۔ اخلاقیات کا دامن تھامنے کی ضرورت ہے کیونکہ بحشیت مسلمان ہمارا اولین فریضہ ہے کہ ہم ہر انسان کی عزت کریں۔

افسوس ہوتا ہے جب سوشل میڈیا پر گالم گلوچ کا ایک طوفان نظر آتا ہے۔ افسوس ہوتا ہے جب مذہبی ذہنیت رکھنے والے افراد مذہب کے دفاع میں گالم گلوچ کرتے ہیں۔

ہمارا فرض ہے کہ ہم اپنے دین سے محبت کریں اور اس پر عمل کریں۔ اسی طرح ہم ایک بہتر معاشرے کی طرف قدم اُٹھا سکتے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے