بیرونی امداد کس نے کھائی؟

پاکستان کے سابق وزیراعظم نواز شریف کی صاحبزادی اور مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز نے کہا ہے کہ وہ اپنے والد کو سابق مصری صدر محمد مرسی کے انجام سے دوچار نہیں ہونے دیں گی۔

لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مریم نواز کا کہنا تھا کہ پاکستان مصر نہیں اور نواز شریف کو مرسی نہیں بننے دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ ”میں مقدمہ عوام کی عدالت میں پیش کررہی ہوں۔ نوازشریف کا علاج پاکستان میں ہوتا ہے، لیکن ڈاکٹر دباؤ میں ہیں۔“

مریم نواز کے مطابق ایک ڈاکٹر نے کہا کھل کر نہیں کہہ سکتے، نوکری کا مسئلہ ہے۔

مریم نواز کا کہنا تھا کہ ”حقائق عدالت کے سامنے تھے، ضمانت نہ دینے کی وجہ معلوم نہیں، نوازشریف سیاسی قیدی ہیں، سویلین بالادستی کی سزا بھگت رہے ہیں۔“

انہوں نے کہا کہ میثاق معیشت ایک مذاق ہے۔ ”میثاقِ معیشت مذاقِ معیشت ہے جو ووٹ چوری کرکےآیا، مُلکی معیشت تباہ کردی، اُس شخص سےمیثاقِ جمہورت اس کو این آراودینا ہے۔ حکومت میثاقِ معیشت کرکے اپوزیشن کو معیشت کی تباہی کے جرم میں حصہ دار بنانا چاہتی ہے۔ جو بھی اِس حکومت کو سہارا دے گا وہ عوام کی عدالت میں مُجرم ہوگا۔“

خیال رہے کہ حکومت کو معاشی حالات بہتر بنانے کے لیے چارٹر آف اکانومی یا میثاق معیشت کی تجویز مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف اور سابق صدر آصف زرداری نے دی ہے جس پر وزیراعظم عمران خان خصوصی کمیٹی تشکیل دینے کے لیے راضی ہو گئے ہیں۔

مریم نواز نے کہا کہ جعلی حکومت سے ریلیف نہیں مانگ رہی، نہ یہ ریلیف دے سکتے ہیں۔

مریم نواز کے مطابق ”جو خود کسی کا محتاج ہو وہ کسی اور کو کیا دے سکتا ہے۔“

حکومت کے قرضہ تحقیقاتی کمیشن پر مریم نواز نے کہا کہ کمیشن 2008 سے 2018 پر نہیں 1999 سے 2019 پر بننا چاہئے اور صرف قرضے نہیں مُلک کو ملنے والی گرانٹس کی بھی تحقیقات کی جائیں کہ وہ کہاں گئیں جِس میں کولیشن سپورٹ فنڈ بھی شامل ہے۔ قرضہ کمیشن کی نگرانی انٹرنیشنل آڈٹ فرم کرے۔

متعلقہ مضامین