فرشتہ کے قتل کا ملزم گرفتار

پاکستان میں دارالحکومت اسلام آباد کی پولیس نے دعوی کیا ہے کہ دو ماہ قبل قتل کی گئی معصوم بچی فرشتہ کے ملزم کو گرفتار کر لیا۔

ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے کہا ہے کہ ملزم پیشہ ور ہے اور اس سے پہلے بھی دو بچیوں سے زیادتی کر چکا ہے۔ ”ملزم محمد نثار مقتولہ فرشتہ کا پڑوسی ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ پوسٹ مارٹم اور ڈی این اے میں فرشتہ سے زیادتی اور ملزم سے متعلق واضح شواہد نہیں مل سکے۔

ڈی آئی جی آپریشنز وقار الدین سید نے پریس کانفرنس میں ملزم کی گرفتاری کا اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پچاس سالہ مرکزی ملزم محمد نثار کو گرفتار کر کے جیل بھجوا دیا گیا ہے۔

پولیس افسر کے مطابق ملزم عادی جرائم پیشہ ہے پہلے بھی دو بچیوں سے زیادتی کر چکا ہے۔

ڈی آئی جی نے بتایا کہ فرشتہ کا اندھا قتل تھا جس کو ٹریس کرنا پولیس کے لیے بڑا چیلنج تھا اور پولیس نے دن رات محنت کر کے مرکزی ملزم کو گرفتار کیا۔ ”متعدد افراد کو حراست میں لے کر شامل تفتیش کیا گیا، ملزم کو سخت سے سخت سزا دلوائیں گے۔“

ان کا کہنا تھا کہ علاقہ معززین نے بھی ملزم نثار کے مکروہ فعل کی تصدیق کی علاقے کے لوگ بد چلنی کی وجہ سےملزم سے دور رہتے ہیں۔ ”فرشتہ کیس میں ڈی این اے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ سے مدد نہیں مل سکی۔“

ڈی آئی جی نے کہا کہ ملزم کو ڈھونڈنے کے لیے پولیس کے سو سے زائد افسران شامل رہے۔ ”فرشتہ کا قتل اندھا تھا۔ قصور میں زینب کے واقعے میں پولیس نے سی سی ٹی وی سے مدد لی تھی لیکن اس کیس میں سی سی ٹی وی فوٹیج بھی نہیں تھی۔“

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے