قطری شیخ کیوں آئے؟

پاکستان میں تحریک انصاف کی حکومت نے قطر کے حکمران کا اسلام آباد پہنچنے پر شاندار استقبال کیا ہے اور دارالحکومت میں سیکورٹی کے سخت انتظامات کرتے ہوئے میٹرو بس سروس اور ٹریل فائیو پر ہائیکنگ بھی بند کی ہے۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان گذشتہ پانچ برس کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف سے تعلق کے باعث قطر کے حکمران خاندان پر سخت تنقید کرتے رہے ہیں۔

امیر قطر کے دورہ پاکستان کا اعلامیہ جاری کرتے ہوئے دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ ”امیر قطر شیخ تمیم بن حمد الثانی نے وزیراعظم عمران خان کی دعوت پر دورہ کیا۔“

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق امیر قطر دو روزہ دورے پر ہفتہ کو پاکستان پہنچے جن کے ہمراہ وزرا اور حکام پر مشتمل اعلٰی سطح کا وفد بھی ہے۔

دفتر خارجہ کے بیان کے مطابق وزیراعظم عمران خان نے نور خان ایئربیس پر معزز مہمان کا استقبال کیا اور امیر قطر کو 21 توپوں کی سلامی دی گئی۔

امیر قطر کے اعزاز میں باضابطہ استقبالیہ تقریب وزیراعظم ہاؤس میں ہوئی جہاں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔

ایک اعلی حکومتی شخصیت نے بتایا کہ ایل این جی درآمد کے سابق حکومت کے معاہدے پر اب کوئی بیان نہیں دیا جائے گا جبکہ پاکستان نے مشکل معاشی حالات میں توانائی کی ضرورت پورا کرنے کے لیے قطر سے سرمایہ کاری کی درخواست کی ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق جے ایف تھنڈر طیاروں نے امیر قطر کو سلامی دی۔ وزیراعظم عمران خان اور امیر قطر کے درمیان ون آن ون اور وفود کی سطح پر ملاقات ہوئیں جن میں پاک قطر دو طرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا۔


بیان کے مطابق پاکستان اور قطر کے درمیان سیاسی اور اقتصادی شراکت داری کو فروغ دینے پر اتفاق اور علاقائی صورتحال اور افغان امن عمل پر بھی بات ہوئی۔


دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی متعدد یادداشتوں پر بھی دستخط کیے گئے۔

امیر قطر نے قومی فٹ بال ٹیم کی جرسی وزیراعظم کو پیش کی جبکہ وزیراعظم عمران خان نے اپنے دستخط والا کرکٹ بیٹ امیر قطر کو پیش کیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے