پاکستان کرکٹ ٹیم، کارکردگی اور تنقید

محمد عاصم

پاکستان کرکٹ ٹیم کا شمار عالمی کپ کے حصول میں کوشاں بہترین ٹیموں میں نہیں ہوتا۔ مشن ولڈکپ کے آغاز سے پہلے بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کی کارکردگی انتہائی ناقص تھی۔

ولڈکپ سے پہلے پاکستان کرکٹ ٹیم متحدہ عرب امارات میں آسٹریلیا کے ہاتھوں وائٹ واش کا شکار ہوئی جس کے بعد دورہ انگلینڈ میں بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کامیابی حاصل نہ کرسکی اور سارے میچ ہار گئی۔

انگلینڈ کی زمین پاکستان کرکٹ ٹیم کے لیے اچھی ثابت ہوتی رہی ہے۔ پاکستان کرکٹ ٹیم نے ۲۰۰۹ میں انگلینڈ کی سرزمین پر ٹی ٹونٹی کا عالمی کپ جیتا اور ۲۰۱۷ میں چمپینز ٹارفی کے فائنل میں بھارت کو زیر کرکے ٹرافی اپنے نام کی تھی۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کا شمار اُن ٹیموں میں کیا جاتا رہا ہے جو کسی وقت بھی میچ کا رُخ بدلنے کی اہلیت رکھتی ہے۔ اپنے دن پر پاکستان کرکٹ ٹیم مشکل سے مشکل حریف کو ہارنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

اگر موجودہ ولڈکپ کا ذکر کریں تو پاکستان کی صورتحال کافی مایوس کُن دکھائی دیتی ہے، لیکن اُس سے زیادہ مایوس کُن پاکستانی شائقین کا رویہ ہے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم نے اپنے ولڈکپ مشن میں ابھی تک پانچ کھیلے ہیں جن میں پاکستانی ٹیم نے ایک میں کامیابی حاصل کی جبکہ تین میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور ایک میچ بارش کی وجہ منسوخ کیا گیا تھا۔

بھارت سے ہار کے بعد پاکستانی شائقین کے تلخ رویہ میں مزید اضافہ ہوگیا ہے۔ سابق کھلاڑیوں نے بھی پاکستان کرکٹ ٹیم کو آڑے ہاتھوں لیا۔ اکثر شائقین کرکٹ نے پاکستانی ٹیم کے کھلاڑیوں پر گالم گلوچ بھی کی ہے۔

پچھلے دنوں پاکستان کرکٹ ٹیم کے کپتان سرفراز احمد کے ساتھ بھی شرمناک واقعہ پیش آیا جب وہ اپنے بیٹے کو لے کر ہوٹل کی طرف گامزن تھے تب ایک پاکستانی شخص نے سرفراز احمد کو نازیبا الفاظ کہے اور جملے کسے۔

پاکستان کرکٹ ٹیم کے ڈریسنگ روم کا ماحول بھی کچھ زیادہ بہتر نہیں ہے۔ ٹیم میں گروپنگ کی اطلاعات جنم لے رہی ہیں۔ سرفراز احمد نے بھی اپنے پلیئرز کو آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ میں اکیلے گھر نہیں جاوں گا۔ اور ساتھ ہی کھلاڑیوں کی کوچ مکی آرتھر سے ناراضگی کی خبریں بھی ہیں۔ 

ان تمام تر معاملات کے ساتھ گذشتہ دنوں پاکستانی میڈیا پر شعیب ملک اور ثانیہ مراز کی شیشہ کلب کی تصاویر بھی کافی وائرل رہی ہیں۔ شیشہ کیفے میں مزید پاکستانی کھلاڑی بھی موجود تھے۔ ٹیم انتظامیہ کا یہی کہنا تھا کہ کھلاڑیوں نے کسی قسم کی خلاف ورزی نہیں کی ہے جس کے بعد پی سی بی نے تمام کھلاڑیوں کو کلین چٹ دے دی تھی مگر معاملہ یہاں ختم نہیں ہوتا،شیشہ کلب کی تصاویر وائرل ہونے کے بعد سوشل میڈیا پر  ثانیہ مراز اور وینہ ملک کے درمیان کافی گرماگرمی دیکھنے میں آئی جس کے بعد ثانیہ مراز نے وینہ ملک کو ٹوئٹر پر بلاک کردیا۔  

اکثر پاکستانی شائقین اب بھی کرکٹ ٹیم کے ساتھ کھڑے ہیں اور صرف یہی اُمید اور آس لگائے ہوئے ہیں کہ پاکستان کرکٹ ٹیم اپنے باقی تمام میچوں میں اچھی پرفارمنس دکھائے گی، اور اسی کے ساتھ ایک اہم سوال پوچھ رہے ہیں کہ کیا پاکستان ٹیم سیمی فائنل تک رسائی حاصل کر سکتی ہے۔ اس کا جواب بھی کافی مشکل ہے،

پاکستان سیمی فائنل میں اُس صورت میں جاسکتا ہے اگر پاکستان اپنے تمام میچز اچھے رن ریٹ کے ساتھ جیتے اور ساتھ ہی انڈیا، انگلینڈ، نیوزی لینڈ اور آسڑیلیا اپنے تمام میچ ہار جائیں۔ مشکل ہے لیکن ناممکن نہیں ہے۔ 

پاکستان آج اپنا میچ ساوتھ افریقہ کے خلاف کھیلے گا۔ دونوں ٹیموں کے درمیان ابھی تک ۷۸ ون ڈے میچز کھلیے گئے ہیں جس میں ۲۷ پاکستان نے جیتے اور ۵۰ ساوتھ افریقہ نے جیتے ہیں ایک میچ بنا کسی نتیجے کے ختم ہوا۔

ولڈکپ میں دونوں ٹیموں کے درمیان چھ میچز کھلیے گئے ہیں ۲ پاکستان اور ۲ ساوتھ افریقہ نے جیتے ہیں۔ 

ہار جیت کھیل کا حصہ ہوتا ہے اور اکثر اوقات بہترین ٹیمیں مسلسل ہار جاتی ہیں۔ عالمی کپ کی جنگ ایک بڑا میدان ہے جس میں شائقین کو چاہیے کہ اپنی ٹیموں کا بھرپور ساتھ دیں۔ 

افسوس اس بات کا ہے کہ شائقین کرکٹ پاکستانی ٹیم اور اُن کے اہل خانہ کے خلاف نازیبا اور اخلاق سے گری ہوئی باتیں کر رہے جو کسی انداز میں قابل قبول نہیں ہے کیونکہ اس صورتحال میں کھلاڑی اپنی بہترین پرفارمنسس نہیں پیش کرسکیں گے۔ ٹیم کا ساتھ دیں، تاکہ ٹیم جیت سکے۔

متعلقہ مضامین