وزیراعظم کو سلیکٹڈ نہیں کہا جا سکتا

پاکستان میں قومی اسمبلی میں وزیراعظم عمران خان کو سلیکٹڈ کہنے پر پابندی لگا دی گئی ہے۔

اتوار کو بجٹ اجلاس کے موقع پر ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا کہ وہ وزیراعظم عمران خان کے لیے اس لفظ کے بولنے پر ایوان میں پابندی لگا رہے ہیں۔

خیال رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے لیے سیلیکٹڈ کا لفظ سب سے پہلے قومی اسمبلی میں پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو نے استعمال کیا تھا۔

وزیراعظم عمران خان کو قائد ایوان منتخب ہونے پر بلاول بھٹو نے وزیراعظم سیلیکٹ کہہ کر مبارک باد دی تھی۔

اتوار کو وفاقی وزیر عمر ایوب نے نکتہ اعتراض پر کہا کہ وہ حکومتی بنچوں سے تحریک استحقاق پیش کرنا چاہتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ”وزیراعظم کو سلیکٹڈ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس سے ہمارا استحقاق مجروح ہوا ہے۔“


پیپلز پارٹی کے رفیع اللہ نے احتجاج کیا تو ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے ایوان میں وزیراعظم کے لیے سلیکٹڈ کا لفظ استعمال کرنے پر پابندی لگا دی۔

انہوں نے کہا کہ ”جو بھی اس ہاؤس کا ممبر ہے وہ ووٹ لے کر آیا ہے۔ آئندہ کوئی بھی یہ لفظ ایوان میں استعمال نہ کرے۔“

عمر ایوب نے کہا کہ ایوان کا تقدس مجروح کرنے پر تحریک استحقاق لا کر قاعدہ 33 کے تحت جو بھی منتخب وزیراعظم کو سلیکٹڈ کہے گا ایوان کی توہین کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ احسن اقبال کی بجٹ تقریر سے سلیکٹڈ کا لفظ حذف کیا جائے۔
ڈپٹی سپیکر قاسم سوری نے کہا کہ یہاں اس ایوان میں کسی کو سلیکٹڈ نہیں کہا جاسکتا، اس ایوان کا ہر ممبر رکن منتخب ہو کر آیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم بھی ووٹ لے کر آئے ہیں۔ آئندہ سلیکٹڈ کا لفظ استعمال نہیں کرنے دوں گا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے