دوسری شادی کی اجازت اور سزا

عمر برنی ۔ صحافی
پاکستان میں اسلام آباد ہائیکورٹ نے مرد کو دوسری شادی کیلئے پہلی بیوی کے علاوہ مصالحتی کونسل سے اجازت لینا بھی ضروری قرار دیا ہے۔


اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے دوسری شادی پر شوہر کے خلاف مقدمہ کرانے والی دلشاد بی بی کی درخواست پر فیصلہ سناتے ہوئے قرار دیا ہے کہ کشمیری شخص کے پاس پاکستانی شناختی کارڈ ہے تو اس پر تمام قوانین لاگو ہوں گے۔

چیف جسٹس نے دوسری شادی کے لیے بیوی سے اجازت کے باوجود مصالحتی کونسل کی اجازت ضروری قرار دی ہے۔

حکم نامے کے مطابق بیوی کی اجازت کے بغیر دوسری شادی پر سنائی گئی سزا درست ہے اور شناختی کارڈ والے کشمیری شہری پر پاکستان مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 لاگو ہوں گے۔

اس قانون کے مطابق اجازت کے بغیر شادی کرنے والے شخص کو سزا اور جرمانہ ہو گا۔ حکم نامے میں کیس کے پس منظر کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ دلشاد بی بی اور لیاقت علی میر نے 2011 میں پسند کی شادی کی۔

2013 میں لیاقت علی میر نے بیوی اور مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر دوسری شادی کی۔

مجسٹریٹ اسلام آباد نے مصالحتی کونسل کی اجازت کے بغیر شادی کرنے والے آزاد کشمیر کے رہائشی لیاقت علی میر کو ایک ماہ قید اور پانچ ہزار جرمانے کی سزا سنائی۔ ایڈیشنل سیشن جج نے کشمیر کا باشندہ ہونے کی وجہ سے لیاقت علی کو بری کیا۔

عدالت نے قرار دیا ہے کہ جس شخص کے پاس قومی شناختی کارڈ ہے، اس پر تمام قوانین کا اطلاق ہو گا۔ اسلام آباد ہائیکورٹ نے پہلی بیوی کی اپیل پر لیاقت علی میر کی بریت کو کالعدم قرار دیتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایڈیشنل سیشن جج میرٹ پر لیاقت علی میر کی دوسری شادی کیس کا فیصلہ کریں۔ نکاح اسلام آباد میں رجسٹرڈ ہے، عدالت کا مکمل دائرہ اختیار ہے۔

متعلقہ مضامین