چھ ماہ کی حکومت رہ گئی؟

محمد اشفاق ۔ تجزیہ کار

صرف ایک وجہ ہے- مشرف کے سنہری دور کے بعد بارہ سال زرداری اور نواز شریف کی بک بک، چخ چخ اور عیاریاں سہنا پڑیں، پچھلے چھ سات برس کی پلاننگ اور انتھک محنت کے نتیجے میں بالآخر یہ مقام آیا ہے کہ سب کے سب اختیارات اپنے ہاتھ میں ہیں اور خان صاحب کو احتساب کا جھنجھنا ہاتھ میں تھما کر بہادر شاہ ظفر بنا دیا گیا ہے- بہادر شاہ ظفر مشاعروں سے دل بہلا لیا کرتے تھے، خان صاحب کو تقریروں کا چسکا ہے۔ کمپنی بہادر اچھی طرح جانتی ہے کہ ایسی موج پھر نہیں ملنے والی، اس مقام سے آگے صرف ڈھلان ہے- صرف یہی ایک وجہ ہے جس نے خان صاحب کو گلے کی ہڈی بنا دیا ہے- نگلیں تو کیا بنے گا، اگلیں تو کیا ہوگا؟ باقی ان کیلئے وردی والوں کے دل میں جو محبت کے جذبات موجزن تھے کب کے ٹھنڈے پڑ چکے۔ لیکن زرداری اور نواز شریف کے برعکس خان صاحب ایک اور طرح کے سیانے ثابت ہو رہے ہیں۔ اس کا ذکر آخر میں، اگر مجھے یاد رہا تو۔

تین جولائی کو آئی ایم ایف نے جس معاہدے کی توثیق کرنا ہے اس کی کئی ایک پیشگی شرائط حالیہ بجٹ میں شامل ہیں۔ لازم ہے کہ بجٹ اس سے پہلے منظور ہو جائے۔ بجٹ کی منظوری کا خان صاحب نے سادہ سا طریقہ سوچ رکھا تھا۔ اپوزیشن کو پارلیمنٹ میں اتنا تنگ کیا جائے کہ وہ بجٹ سیشن کا بائیکاٹ کرنے پہ مجبور ہو جائے۔ گلیاں سنجی ہو جائیں تو مرزا یار مزے سے گھومتا پھرے گا۔ خان صاحب ہمیشہ سے ایسا ہی دو انچ کا وژن رکھتے ہیں مگر کمپنی بہادر کو بہت دور تک دیکھنا اور سوچنا پڑتا ہے-

اپوزیشن کی حمایت کے بغیر منظورکردہ بجٹ عوام میں اپنی رہی سہی ساکھ بھی کھو دیتا، تاجروں اور صنعتکاروں کو شہہ ملتی، اپوزیشن کو سڑکوں پر نکلنے کا جواز ملتا اور ملا جلا کر ایسی صورتحال بنتی ہے جس میں اور جو کچھ بھی ہو، آئی ایم ایف کے ساتھ طے کردہ اہداف حاصل نہیں کئے جا سکتے۔ اس لئے بالآخر مداخلت کرنا پڑی اور ایک دن دل کھول کر بڑھکیں مارنے، سپیکر کو پروڈکشن آرڈر جاری کرنے سے اعلانیہ منع کرنے، "بول سکو تو بول لو” اور "ہم ان کی شکل نہیں دیکھنا پسند کرتے، تقریر سننا تو دور کی بات” جیسے بیانات جاری کرنے کے بعد اگلے روز سے اب تک حکومتی بنچ اچھے بچوں کی طرح اپوزیشن کی روز ایک سے بڑھ کر ایک تقریر سننے پر مجبور ہیں۔

مگر صرف حکومت کو ڈنڈا دے کر بھی کام نہیں چلتا تھا، اپوزیشن کو گاجر دکھانا بھی لازم تھا۔ شہباز شریف اور زرداری نے گاجر دیکھ لی ہے اس لئے وہ میثاقِ معیشت پر آمادہ ہیں۔ نواز شریف کے حصے کی گاجر کہاں ہے؟ یہ پوچھنے کیلئے محترمہ مریم نواز کو پریس کانفرنس کرنا پڑی۔ اور انہوں نے کمال کیا ہے- بہت سلیقے سے فیصلہ سازوں کے کان میں یہ بات ڈال دی گئی ہے کہ چاچے مامے جتنے بھی ہوں، باپ ایک ہی ہوتا ہے اور فیصلہ اسی کا چلتا ہے۔ یہ پریس کانفرنس کسی انقلاب کا پیش خیمہ ہے نہ ہی نون لیگ میں کسی انتشار کا۔ اسٹیبلشمنٹ کی دکھتی رگ ہر گھاگ سیاستدان نے دیکھ لی ہے اور اب وہ دبتی رہے گی۔ فرق صرف یہ کہ پرانے پاپی ٹھنڈی کر کے کھانے کے قائل ہیں اور جوان خون فوری نتائج مانگتا ہے- آل پارٹیز کانفرنس کو صرف اس تناظر میں دیکھا جائے۔

بجٹ رو پیٹ کر منظور ہو ہی جائے گا، پی پی اور نون لیگ میں کوئی بھی مگر اتنا چریا نہیں کہ خان صاحب کو عوام سے پڑنے والی گالیوں میں اپنا حصہ رکھوائے۔ میثاقِ معیشت زیادہ سے زیادہ ایک گول مول قسم کی دستاویز ہو گی جس میں ٹھوس زمینی اقدامات کی بجائے براڈ ٹرم پالیسیوں کی توثیق کی جائے گی ۔ حکومت کی اصل آزمائش بجٹ منظوری کے بعد شروع ہونا ہے- بنکوں نے اپنے پانچ لاکھ سے زائد بیلنس رکھنے والے کلائنٹس کو محبت نامے جاری کرنا شروع کر دیے ہیں۔ عوام نے بھی اس محبت کا جواب محبت سے دینے کی تیاری شروع کر دی ہے- خان صاحب نے 2014 میں قوم کو ٹیکس نہ دینے اور پیسہ بذریعہ ہنڈی بھجوانے کے جو مشورے دیے تھے، ان پہ عملدرآمد کا وقت اب آیا ہے-

ادھر شبر چھوڑے گا نہیں مارے گا چن چن کے، مگر ٹیکس چور کروڑ روپیہ ایف بی آر کو دینے کی بجائے دس لاکھ کا وکیل کر لینا زیادہ مناسب سمجھتے ہیں۔ ٹیکس معاملات میں عوام کو اپیل، پھر اپیل اور پھر اس کے خلاف تین عدالتی سطحوں پر اپیل کے اتنے مواقع میسر ہیں کہ خان صاحب دھمکیوں کی بجائے رونے پر بھی آ جائیں تو قوم کو رحم نہیں آنا۔ جبکہ آئی ایم ایف ہر تین ماہ بعد بہی کھاتوں کی جانچ پڑتال کو پہنچا ہوگا۔ ایسے میں جناب باجوہ صاحب منسٹریوں کے بابو لوگوں کی فائلیں پڑھ پڑھ اپنے حسن انتخاب کی داد دیتے رہیں گے اور جناب حفیظ شیخ ہر تین ماہ بعد جنرل سیلز ٹیکس اور ڈیوٹیاں بڑھا بڑھا کر خان صاحب کی مزید عزت افزائی کا سبب بنتے رہیں گے۔ روپیہ اس سال کے آخر تک شاید 180 سے اوپر جا پہنچے، جنرل سیلز ٹیکس اٹھارہ یا بیس فیصد تک بڑھانا پڑ سکتا ہے اور انٹرسٹ ریٹ پندرہ سولہ فیصد تک جانے کی قوی امید ہے- روک سکو تو روک لو تبدیلی آئی رے۔

جس ملک کا آرمی چیف بتا رہا ہو کہ ہمارے ملک میں سرمایہ کاری محفوظ ہے، بیرونی دنیا اس پر ٹھٹھہ مار کے ہنسنے کے علاوہ خاموشی سے اپنا پیسہ کھینچ لیتی ہے- کوئی وجہ ہوتی ہے جس کی بناء پر ساری دنیا میں کچھ میدان صرف سویلین قیادت کیلئے چھوڑے جاتے ہیں۔ سوچا یہ گیا تھا کہ سٹاف کار میں خان صاحب کو شوفر بنا کر خود مزے سے پیچھے بیٹھیں گے اور راستہ بتاتے رہیں گے۔ خان صاحب کو راستہ بتایا جائے تو وہ خوشی خوشی گاڑی سے اتر جاتے ہیں، مڑا تم خود چلا لو۔ خان صاحب مزاحمت کرنے کی بجائے چپ چاپ ہر فیصلے کا اختیار انہیں سونپ دیتے ہیں اور وہ بھی خفیہ نہیں اعلانیہ۔ اور یہی ان کا وہ سیانا پن ہے جس کا ابتدا میں ذکر ہوا۔

اسٹیبلشمنٹ اور خان صاحب دونوں نے اپنا اپنا امیج infallible ہونے کا بنا رکھا ہے- فوج صرف اکا دکا چھوٹی موٹی غلطیاں کرتی ہے ورنہ اس کی حب الوطنی، دیانتداری، جذبے اور صلاحیتوں پر کون غدار شک کر سکتا ہے۔ یہی معاملہ خان صاحب کا بھی ہے، وہ کچھ بھی کر لیں ان کی ایمانداری، نیک نیتی اور اخلاص پر کس کافر کو شک ہو سکتا ہے- یہ امیج بہت محنت اور کوشش سے بنتا ہے، جہاں اس کو گزند پہنچنے کا اندیشہ ہو وہاں ایک قربانی کا بکرا درکار ہوتا ہے- خان صاحب دس ماہ میں اسد عمر کی قربانی دے چکے، اسٹیبلشمنٹ ستر سال میں کئی بکرے قربان کر چکی۔ اس بار ناکامی کی صورت میں کون کس کا بکرا بنتا ہے یہ دیکھنا ہوگا۔ نیا الیکشن، ان ہاؤس تبدیلی، قومی حکومت یا قومی ترانہ…. لگتا یہی ہے کہ اگلے چھ سات ماہ میں اس کا فیصلہ ہو جائے گا۔

متعلقہ مضامین