’اچھا سیاستدان ایسے نہیں بنا جا سکتا ہے‘


(سہیل وڑائچ سے معذرت کے ساتھ)

پیروڈی : مطیع اللہ جان

نوٹ: یہ کالم سہیل وڑائچ صاحب کے کالم کو پڑھے بغیر نہ پڑھا جائے۔ تحریر میں ’بولڈ‘ الفاظ سہیل وڑائچ کے ہیں۔

نقطہ آغاز:
مریم نواز جب سے سیاست میں آئی ہیں وہ جمہوری بیانیے کو جارحانہ انداز میں بیان کرتی رہی ہیں۔ یہیں تو ایک بڑا فرق ہے ان کے والد گرامی اور ان کی سیاست کے نقطہ آغاز میں- نواز شریف جب سیاست میں آئے تو وہ غیر جمہوری بیانئیے کو جارحانہ انداز میں بیان کرتے رہے- مریم کی زندگی کا پہلا سیاسی بیان جنرل پرویز مشرف کے دور میں 2001ء میں سامنے آیا تھا جب نواز شریف، حسین نواز اور شہباز شریف پابند سلاسل تھے۔ نواز شریف کی زندگی کا پہلا سیاسی بیان ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی اور بے نظیر بھٹو کی جلا وطنی کی بھرپور حمایت تھا- مریم نواز شریف نے اپنے اس سیاسی بیان میں بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے انداز سیاست کو سراہا تھا اور اپنے جمہوری بیانیے کو اینٹی اسٹیبلشمنٹ سیاست سے جوڑنے کی کوشش کی تھی۔

نواز شریف کی زندگی کا پہلا سیاسی بیان ان کا بطور وزیر خزانہ پنجاب مارشل لا سے وفاداری کا حلف، بے نظیر بھٹو اور ذوالفقار علی بھٹو کے انداز سیاست پر کڑی تنقید اور اپنے غیر جمہوری بیانیے کو اسٹیبلشمنٹ کی سیاست سے جوڑنے کی کوشش کی تھی- اپنے بیان سے آج تک کے 20 سال میں مریم نواز کبھی مکمل خاموش اور کبھی پس پردہ رہیں اور کبھی کبھی سب سے بڑھ کر بولتی رہیں مگر وہ جب بھی بولیں اپنے جمہوری بیانیے پر قائم رہیں۔ جبکہ اپنے پہلے بیان اور بیانئیے سے آج تک کے ۳۶ سال میں نواز شریف کبھی مکمل خاموش اور پس پردہ نہیں رہے- ۱۲ اکتوبر ۱۹۹۹ سے پہلے اسٹیبلشمنٹ کے طوطے کی مانند بولتے رہے مگر اس کے بعد جب بھی بولے جمہوری بیانیے پر قائم رہے- ۲۰۱۳ میں اقتدار حاصل کرنے کے بعد خاموشی کے لمبے وقفوں کو آپ مصلحت کہہ لیں یا سیاست کے نشیب و فراز کا نام دیں۔

نواز شریف کی طرح مریم نواز کی گزشتہ 20 سالہ سیاست میں سب سے بڑی خامی یہ رہی ہے کہ اس میں تسلسل نہیں ہے– نواز شریف خود جلاوطن ہوں، مشکل میں ہوں، جیل میں ہو یا کسی امتحان سے گزر رہے ہوں تو وہ متحرک ہو جاتے ہیں۔ ان کا بیانیہ تیز اور بہادرانہ ہو جاتا ہے۔ مشکل سے نکل آئیں، اقتدار میں آ جائیں، جیل سے رہا ہو جائیں یا امتحان سے گزر جائیں تو مریم نواز کی طرح خاموشی کی طرح چادر اوڑھ لیتے ہیں۔ اچھی بیٹیاں تو ایسی ہی ہوتی ہیں مگر اچھا سیاستدان ایسے نہیں بنا جا سکتا۔ بیٹی ہو تو کاٹھی انگریز جو والد کو جیل نہیں اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ کر سیاستدان بن کر برطانیہ کی وزیراعظم کہلائے۔

مریم گزشتہ 20 سالوں میں اپنی والدہ کلثوم نواز کی کامیابی سے نقل کرتے ہوئے نواز شریف کے مشکل وقت میں ہی باہر نکلتی ہیں۔ نواز شریف بھی تو مشکل میں پڑنے کیلئیے بھٹو کی ہو بہو نقل کرنے کی ناکام کوشش کرتے رہتے ہیں- معروف سیاستدان کلثوم نواز کا بھی یہی انداز سیاست تھا مگر دونوں کے چیلنجز مختلف ہیں۔


کلثوم اپنے شوہر کی نائب کی حیثیت سے سیاست کرتی تھیں مگر مریم کو بطور جانشین سیاست کرنی ہے۔
شوہر کی نائب ہونا اور باپ کی جان نشین ہونے میں بہت فرق ہوتا ہے جو بہت کم لوگوں کی دانش کو بھاتا ہے- کلثوم نواز کی سیاست سے طویل غیر حاضری کو کوئی محسوس نہیں کرتا تھا کیونکہ نواز شریف ان کی کمی محسوس نہیں ہونے دیتے تھے۔ حالانکہ کسی نائب کی طویل غیر حاضری کو محسوس نہ کرنا یا ہونے دینا آسان کام نہیں ہوتا- جبکہ مریم جانشین ہیں اور ان کی غیرحاضر اورخاموش سیاست ان کے نمبر کم کردیتی ہے۔ اب بولنے والے جتنے جان نشین سیاستدان ہیں جیسے بلاول ان کے نمبروں میں روز بروز اضافہ ہو رہا ہے۔

ان سب خاموشیوں اور غیر حاضریوں کے باوجود مریم نواز ٹیلنٹڈ ہیں، والد سے بہت کچھ سیکھ چکیں- کچھ زمانے کی گردش نے سکھا دیا ہوگا (ہاں ہو گا) اور جو باقی رہ گیا وہ سیاست کے نشیب و فراز نے دکھلا دیا ہوگا۔ تو پھر اب انکو ن لیگ کی گدی سنبھال کر نواز شریف سے سیکھنے اورُمشورہ لے کر خاموش رہنے کا سلسلہ بند کر دینا چاہئیے- گزشتہ 20 برسوں میں مریم نواز اپنے والد کے سب سے قریب رہی ہیں حالانکہ نواز شریف کبھی صحافی نہیں رہے-

2000ء میں سعودی عرب جلاوطنی سے لے کر اب تک مریم نواز اپنے والد کے ساتھ روزانہ چار سے پانچ گھنٹے گزارتی رہی ہیں حالانکہ ہمارے معاشرے میں محض چند منٹ باپ کے پاس بیٹھ جانا کافی ہوتا ہے- نواز شریف سر شام ہی سب مصروفیات ختم کرکے گھر والوں سے گپ شپ کے عادی بن چکے ہیں اور اپنی اس عادت کی وجہ سے وہ بہت سے سیاسی اور خاندانی معاملات سے لاتعلق بھی ہو گئے تھے۔ بہت بری عادت ہے گھر والوں کو ٹائم دینا- بار حال جلا وطنی نفسیاتی پیچیدگیاں بھی پیدا کر دیتی ہے۔ نواز شریف اور ان کے اہل خاندان جلاوطنی کے دوران شکوک و شہبات کے اسیر ہو چکے ہیں۔ جلا وطن نہ ہوتے تو راقم آلحروف کی طرح غیروں پر ان کا اعتماد بڑھ جاتا- یوں ان کا حلقہ مشاورت سکڑتے سکڑتے خاندان کے افراد تک محدود ہوگیا۔ پہلے تو وہ ہم جیسوں سے بھی کچھ پوچھ لیتے تھے- نوازشریف کے طویل تجربہ حکمرانی اور سیاست کے نچوڑ سے مریم نواز نے بہت کچھ سیکھا حالانکہ ان سے بلاول کو سیکھنا چاہیے تھا- پاکستانی اور مشرقی خاتون ہونے کے باوجود مریم والد کی قربت میں رہی اور اس کی وجہ سے وہ نواز شریف کے دل کی بات اور خواہشات کو اچھی طرح جاننے کے قابل ہوگئیں- بلاول نے پھر بھی نواز شریف سے کچھ نہ سیکھا- پھر ایک بیٹی نے اپنی وفا داری اور خدمت سے نہ صرف والدہ کے خلا کو پر کرنے کی کوشش کی بلکہ اپنے دو جلاوطن یا (ملزم) بھائیوں کا کردار بھی خود ہی سنبھال لیا۔ یہ سب دیکھ کر آنکھوں میں آنسو آ جاتے ہیں اور تحریر بھیگ جاتی ہے یہ سوچ کر کہ ہم اتنے خوش قسمت باپ کیوں نہیں۔

مریم نواز والد کے دل میں چھپی مزاحمت کی نمائندہ ہیں۔ اب والد تو اچھے سیاستدان بن بھی چکے باوجود اس کے کہ مزاحمت دل میں چھپائی رکھی- والد بظاہر انہیں تحمل برداشت اور دھیمے لہجے کی تلقین کرتے ہیں لیکن دل ہی دل میں وہ مریم کی جارحانہ انداز سیاست کو سراہتے بھی ہیں۔ فدوی کو سب پتہ ہے کیونکہ وہ بھی تو ایک باپ ہے- مریم اگر مفاہمت کی سیاست کرتی بھی ہیں تو اس میں کامیابی مشکل ہے کیونکہ ان کے چچا شہبازشریف مفاہمت کی ڈفلی بجانے کے باوجود کامیابی حاصل نہیں کر سکے۔ اب چچا کی مفاہمت کی ناکامی میں مریم کا تو کوئی قصور نہیں ہے ناں؟


مریم اور نواز شریف دونوں کو علم ہے کہ اگر آپ کی سیاست میں جارحیت نہ ہو، آپ دم خم کا مظاہرہ نہ کریں تو کوئی طاقتورآپ سے مذاکرات بھی نہیں کرتا۔ بطور وزیر اعظم اگر دم خم کا مظاہرہ نہیں کیا تو اب کیا کرنا اور اصل مقصد بھی تو طاقتور کو مذاکرات پر راضی کرنا ہے ناں؟ جمہوریت کی دیوی زندہ باد- اس حوالے سے دنیا کی سیاسی تاریخ کی سب سے بڑی مثال یہ ہے کہ حالیہ دنوں میں اگر قومی اسمبلی میں ہنگامہ نہ ہوتا تو آصف زرداری کا پروڈکشن آرڈر تک جاری نہ ہوتا۔

او ہو یاد آیا ایک اور بیٹی بے نظیر بھی تھی- سچ تو یہ ہے کہ بینظیر بھٹو بھی عملی سیاست میں تب آئیں جب ان کے والد مشکل میں تھے – ذولفقار علی بھٹو مشکل میں نہ ہوتے تو بے نظیر نے تو کوئی ڈیپارٹمنٹل سٹور کھولنا تھا ناں؟ دوسرا انہوں نے والد کی محبت اور عوام کی محبت کو ملا کر سیاست کی، حالانکہ اس کی ضرورت نہیں تھی- مریم نواز کو بھی اپنی سیاست کا مرکز نگاہ نواز شریف کے ساتھ ساتھ عوام کو بنانا ہوگا تسلسل کے ساتھ سیاست کرنا ہوگی یعنی سیاست نان سٹاپ- صرف کھانے پینے کا وقفہ ضروری ہے- یہ نہیں کہ والد کی جگہ بھرنے کے لیے آگے آئیں والد واپس آئے تو وہ گھر میں بیٹھ جائیں اور بور ہوں- اب اتنی محنت سے اتنا طویل تجزیہ لکھا ہے تو اس کے بعد مریم کو گھر تو نہیں بیٹھنا چاہیے ناں۔

اب دیکھنا یہ ہوگا کہ وہ اپنے جارحانہ بیانیے سے کسی طرح ن لیگ کو زندہ رکھتی ہیں؟ شاید جارحانہ بیانیہ اور جارہانہ تجزیہ اسی کو تو کہتے ہیں۔ ایسے کرتے ہوئے یہ نہ ہو کہ وہ والد محترم کو جیل میں ہی بھول جائیں- دیکھنا ہوگا کہ مریم والد کی سیاست کو زندہ رکھتے ہوئے کون سی ایسی حکمت عملی بناتی ہیں جس سے ان کے والد جیل سے باہر آ سکیں اور ان کے خاندان کی سیاست بھی سیدھی ہو جائے۔ شاید وہ والد صاحب کو جیل میں ہی رکھنے کا سوچ رہی ہیں- وہ جو راستہ اپنا رہی ہیں وہ پہلے ہی مفاہمت کا نہیں جارحانہ ہے مگر پھر بھی مشورہ دینے میں کیا حرج ہے- ہم جیسے صحافیوں اور تجزیہ کاروں کے برعکس مریم میں یہ حوصلہ ہے کہ وہ بہادری کا راستہ اختیار کریں اور جارحانہ بیانیے سے فریق مخالف کو مفاہمت پر مجبور کریں۔ اور ہم صحافی کیا کرتے ہیں مفاہمانہ بیانیے سے فریق مخالف کو جارحیت پر مجبور کرتے ہیں- بے شک اچھا سیاستدان ایسے تو نہیں بنا جا سکتا۔ مگر آج کل اچھا صحافی ایسے تجزیئے کر کے ہی بنا جا سکتا ہے- (صحافت ختم شد)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے