عدالت میں زرداری کے دلائل

پاکستان کے سابق صدر آصف علی زرداری نے جعلی بینک اکائونٹس کیس میں نیب کی انکوائریز کیخلاف ضمانت قبل ازگرفتاری کی درخواستیں واپس لے لیں۔

سابق صدر دوران سماعت خود روسٹرم پرآئے اور عدالت سے مخاطب ہوکر کہا کہ کوئی قانون انہیں کمپنی بنانے سے نہیں روک سکتا۔ تمام کیسز جعلی ہیں۔۔۔اونچ نیچ پہلے بھی دیکھی۔۔بلاول بھٹو کہتے ہیں لڑ رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔

توشہ خانہ اور پارک لین کیس۔۔۔عبوری ضمانت ختم ہونے پرنیب ٹیم نے آصف علی زرداری کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پرعدالت میں پیش کیا۔۔بلاول بھٹو بھی والد سے اظہار یکجہتی کےلیے پہنچے۔

جسٹس محسن اختر کیانی اور جسٹس عامرفاروق نے کیس کی سماعت کی۔۔۔آصف علی زرداری سماعت شروع ہوتے ہی روسٹرم پرآئے اور کہا کہ وہ خود دلائل دیں گے۔

آصف علی زرداری نے کہا کہ وہ ضمانت قبل ازگرفتاری کی تمام درخواستیں واپس لے رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ان کے وکلا بہت قابل ہیں، عدالت پریقین ہے۔ استغاثہ کہتی ہے کمپنی بنائی لیکن قرضہ لینے کا کوئی ثبوت نہیں، پہلے بھی 8 سال بعد رہا کیا گیا۔ بی ایم ڈبلیو کا مشہورکیس بنا۔ اللہ نے طاقت دی تو کیسز کا سامنا کروں گا۔

زرداری نے کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی شرمندہ ہو۔

نیب ٹیم کا کہنا تھا کہ کہ درخواستیں مسترد ہوجائیں یا واپس لے لی جائیں۔۔۔انہیں کوئی اعتراض نہیں۔

سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو میں آصف علی زرداری نے کہا کہ کیسز نہیں درخواست واپس لی۔۔۔انہیں جیل میں رکھنا ہے تورکھو۔

بلاول بھٹو کا کہنا تھا کہ پیپلزپارٹی کی حکمت عملی سب کے سامنے ہے۔

بدھ کی صبح پیپلزپارٹی کے چیئرمین اور وکلا کو اسلام آباد ہائی کورٹ آمد پرپولیس اہلکاروں نے روکا تو بلاول بھٹو نے کہا کہ نہ خاندان جاسکتا ہے نہ وکیل۔ کیا یہ نیا پاکستان ہے۔ یہ کس قسم کی جمہوریت ہے؟ لگتا ہے ان کیمرہ ٹرائل ہورہا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے