افغان صدر کیوں آئے؟

افغانستان کے صدر اشرف غنی پاکستان کے دورے پر ہیں جہاں انہوں نے وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ہے۔


افغانستان کے صدراشرف غنی نے اسلام آباد پہنچنے پر وزیرخارجہ شاہ محمود قریشی سے بھی ملاقات کی جس میں اتفاق کیا گیا کہ امن واخوت کےلیے دونوں ملکوں کی جانب سے وضع کی گئی حکمت عملی کو عوام کی بہتری کےلیے بروئے کار لایا جائے گا۔

پاکستانی وزیرخارجہ نے کہا کہ پاکستان نیک نیتی اور کھلے دل سے افغان امن عمل میں مصالحانہ کردارادا کرتا رہے گا۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق افغان صدر نے پاکستان کی کششوں کو سراہا۔

اس سے قبل افغان صدراشرف غنی دورہ پاکستان پر اسلام آباد ایئرپورپ پہنچے تو وزیراعظم کے مشیر تجارت عبدالرزاق دائود نے ان کا استقبال کیا۔ افغان سفیر عاطف مشال اور دفتر خارجہ کے اعلیٰ افسران بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے۔

خیال رہے کہ گذشتہ ہفتے پاکستان نے افغانستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے رہنماؤں کی ایک کانفرنس کی بھی میزبانی کی تھی۔

افغانستان میں امن کے قیام کے لیے امریکی صدر ٹرمپ کے خصوصی نمائندے زلمے خلیل زاد پاکستانی حکام کے ذریعے طالبان سے مذاکرات کر رہے ہیں۔

افغان سیاسی جماعتوں کے رہنما پاکستان میں

افغان امور کے ماہرین کا ماننا ہے کہ صدر ٹرمپ کے دباؤ کی وجہ سے پاکستانی حکام اور افغان صدر اشرف غنی امن عمل کے لیے بات چیت پر راضی ہوئے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ امریکی صدر کے لیے پاکستانی حکام اور افغان صدر کی رائے اہمیت نہیں رکھتی، جیسے ہی طالبان امریکہ مذاکرات کسی نتیجے پر پہنچے تو پاکستانی اور افغان حکومت کو امریکی فیصلہ قبول کرنا پڑے گا۔

ادھر پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق افغان صدر اشرف غنی نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ملاقات میں دوطرفہ تعلقات، افغان امن عمل سمیت تجارت میں اضافے، معیشت، سرمایہ کاری کے فروغ، مواصلات، توانائی، ثقافت اور عوامی سطح پر روابط کو بہتر بنانے پر خصوصی تبادلہ خیال کیا۔


وزیرخارجہ کا کہنا تھا کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیان دیرینہ جغرافیائی اور تاریخی تعلقات ہیں۔

بیان کے مطابق دہائیوں پر محیط تنازعے اور عدم استحکام کے نتیجے میں افغان عوام نے بے پناہ مشکلات کا سامنا کیا۔ افغانستان میں پائیدار امن، استحکام اور خوشحالی پاکستان کے اپنے مفاد میں ہے۔

شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پاکستان افغان نتیجہ خیز مذاکرات کی ضرورت پر ہمیشہ زور دیتا چلا آ رہا ہے کیونکہ افغانستان میں پائیدار امن اور استحکام کا یہی واحد راستہ ہے۔

دفتر خارجہ کے مطابق صدر اشرف غنی کے دورہ پاکستان سے دونوں ممالک کو مزید قریب آنے اور دو طرفہ تعلقات کے استحکام میں مدد ملے گی۔

متعلقہ مضامین