دو سو ارب ڈالر کہاں گئے

محمد اشفاق

کسی بھارتی چینل کا ڈرامہ تھا۔ انکل کی کمپنی کی پندرہ سو کروڑ کی بزنس ڈیل ہونے جا رہی تھی۔ چھوٹا بھائی جو نکما تھا، دو سو کروڑ بزنس کیلئے مانگ رہا تھا۔ کسی پہاڑی علاقے میں نیا گھر بن رہا تھا جس پہ سو کروڑ لگ چکا تھا۔ کچھ ایسے ہی سین پارٹ چل رہے تھے۔ پھر کیا ہوا یہ تو پتہ نہیں مگر ایک دن انہی انکل کی رئیل لائف فوٹو دیکھی، ڈھیلی سی میلی سی شرٹ پہنے رکشے میں گھر کو جا رہے تھے۔

جب سے پی ٹی آئی کی حکومت آئی ادھر بھی ڈالروں کی ایسی ہی ریل پیل چل رہی- دو سو ارب ڈالر باہر پڑا، بارہ ارب ڈالر کی منی لانڈرنگ ہو رہی، بیس ارب ڈالر سعودیہ دے رہا، دس ارب ڈالر یو اے ای، بائیس ارب ڈالر قطر۔ ادھر نواز شریف بیس ارب ڈالر دینے کو تیار ہے، زرداری نے ستر ارب ڈالر کی آفر کر دی۔ یہاں بھی ڈالر، وہاں بھی ڈالر، ہائے ڈالر، وائے ڈالر۔

ڈالر یہ سن سن کر اتنا چوڑا ہو گیا کہ 122 سے 162 پہ چلا گیا۔ آپ دیکھیں کہ جب بھی شاہد مسعود یا صابر شاکر، شریف یا زرداری کی ستر ارب ڈالر کی آفر کا انکشاف کرتے ہیں تو دو دن بعد ڈالر دو، چار روپے اوپر چلا جاتا ہے-

حال اب یہ ہے کہ پکوڑے تلنے کو تیل تو ہے ہی نہیں تھوک بھی ادھار لینا پڑ رہی ہے، روپیہ ہمارا ایک ٹکے میں دو، مگر یہ سٹار پلس حکومت اربوں ڈالر سے نیچے آ ہی نہیں رہی۔ اب ان کے پیرزادے اور صابر شاکر روپے کی بے قدری بھی جیل بیٹھے نواز اور زرداری کی سازش قرار دے رہے۔ او بھائی شریفوں زرداریوں کی ماں کو رونے سے مسئلے حل ہونا ہوتے تو دس گیارہ ماہ میں ہو چکے ہوتے۔ کم از کم فلم ہی کوئی نئی ڈال دو۔

ان کے حامیوں میں جو تھوڑے بہت سیانے ہیں ، انہوں نے ابھی سے دبے لفظوں میں کہنا شروع کر دیا ہے کہ بیسکلی یہ قوم ہی لعنتی اور منحوس ہے، خان بیچارہ کیا کرے- جگتیں مار مار باؤلا کر دیا ہے ہمارے کپتان کو۔ ٹیکس دیتے کوئی نہیں اور مانگتے سویلین بالادستی اور ووٹ کی عزت ہیں۔ آنے والے دنوں، ہفتوں اور مہینوں میں یہ بیانیہ زور پکڑتا جائے گا۔ آپ دیکھیں گے کہ یہ خواتین و حضرات ” سارا ٹبر چور ہے” کی بجائے "سارا ملک چور ہے” کے ٹرینڈز چلاتے پائے جائیں گے۔

اب قصور قوم کا ہرگز نہیں- مسئلہ یہ ہے کہ اسے وزیراعظم بنا کر ہمارے سروں پہ لاد دیا گیا ہے جسے کونسلر بھی کوئی نہ رکھے۔ جناب کے اپنے حلقے این اے 95 میں آج کل یہ حال ہے کہ ” مڑ میں تے مینڈا چھوکرا دو دہاڑیاں توں گندے تھیوے پہ نہاون نوں پانی کوں ناں” لوگ گدھوں پر لاد کر گندے جوہڑوں سے پانی لا رہے اور عالی جناب کو کرکٹ پر ٹویٹنے سے فرصت ملتی ہے تو ٹی وی پہ تڑیاں لگانے آ جاتے ہیں۔

پی ٹی آئی کے بہی خواہوں اور غم گساروں کو ایک مفت مشورہ ہے- پرانا پاکستان از اے کنٹری وچ از اے لٹل ٹو بگ، اے لٹل ٹو ڈائیورس اینڈ اے لٹل ٹو کامپلیکیٹڈ ٹو بی رولڈ بائی یور گریٹ سکیپر۔ آپ کو منوڑہ خالی کرا دیتے ہیں اپنے سوہنے کپتان کو لے کر وہاں چلے جائیں۔ نہ وہاں چور ڈاکو اپوزیشن ہو گی، نہ ہم ایسے سنگدل عوام۔ خان صاحب سکون سے وہاں ریاست مدینہ ثانی تشکیل دے سکیں گے کیونکہ منوڑے کا سائز بھی تقریباً ریاست مدینہ کے برابر ہی ہے- ویسے بھی گورے کہتے ہیں کہ پیغمبروں کی ان کی اپنی سرزمین پہ کوئی عزت نہیں ہوتی۔ ہجرت کا ثواب بھی لوٹیں اور اپنے تبدیلی کے پیامبر کی وہاں دل کھول کر عزت بھی کرتے رہیں۔

جب تن پہ آخری چیتھڑا بھی سلامت نہ رہے اور پیٹ میں آخری نوالہ بھی باقی نہ رہے تو بحیرہ عرب میں ایل سٹروک لگاتے واپس پرانے پاکستان آ جائیے گا۔ آپ کو کچھ نہیں کہا جائے گا۔ تب تک چور ڈاکو لیڈروں اور عوام نے مل جل کر اتنا انتظام کر لیا ہوگا کہ آپ پھر سے ٹھنڈے کمروں میں بیٹھ کر دانشوری بگھار سکیں۔

پس نوشت:
کچھ دانشوروں کے خاندان میں ان کی خواتین سے نوجوان لڑکے عزت سے تبھی پیش آتے ہیں، جب ان پر لائن مارنا مقصود ہوتا ہے- اس لئے احترام، عزت، شائستگی اور تہذیب پر مبنی ہر رویہ انہیں مشکوک لگتا ہے- ایسے دو حضرات سے آج جان چھڑا لی ہے۔ ان میں ایک بزرگ ایسے بھی جن کے بال برف کی طرح سفید ہیں مگر شرم حیا اور غیرت سے محترم اب تک نا آشنا ہیں۔ میں اپنی گلی کے کتوں کو بھی آپ جناب کہہ کر بلاتا ہوں مگر ایسے حرام زادوں کی عزت مجھ سے نہیں ہوتی۔

متعلقہ مضامین