پاکستانی انٹیلی جنس کو اپنا ناول سنانا

محمد حنیف کے انگریزی مضمون کا ترجمہ

” خوف محض آپ کے ذہن میں ایک لکیر کا نام ہے” میری پیاری دوست سبین محمود یہ کہا کرتی تھیں۔ ” یہ فیصلہ آپ کا ہے کہ آپ نے لکیر کے کس جانب رہنا ہے” سبین کو اپنی دلیری کی انتہائی قیمت چکانا پڑی۔ 2015 میں سیاسی کارکنوں کی گمشدگیوں پر انہوں نے کراچی میں ایک عوامی مذاکرے کا اہتمام کیا- وہ خود بھی ایکٹوسٹ تھیں اور جانتی تھیں کہ پاکستانی میڈیا اس موضوع کو ہاتھ لگانے سے بھی ڈرتا ہے- مذاکرے سے واپس جاتے ہوئے انہیں گولی مار دی گئی۔

ان کے قاتل کو ایک مختصر ٹرائل کے بعد سزائے موت سنا دی گئی، مگر سبین کو لگنے والی گولی کی گونج آج بھی باقی ہے- ان کی موت پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی پر ایک ایسے حملے کا آغاز تھی، جس کی پہلے مثال نہیں ملتی۔ پاکستانی میڈیا اس وقت اپنے تاریک ترین دور سے گزر رہا ہے-

پاکستانی فوج کے محکمہ تعلقات عامہ کے سربراہ میجر جنرل آصف غفور آن لائن ان صحافیوں کی فہرستیں پھیلاتے ہیں جو ان کے خیال میں ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ پچھلے برس دسمبر میں ایک دل کو چھو لینے والی اپیل میں انہوں نے فرمایا کہ اگر پاکستانی صحافی صرف چھ ماہ مثبت رپورٹنگ کریں تو پاکستان ایک عظیم ملک بن سکتا ہے۔ بیشتر پاکستانی صحافیوں نے تعمیل کی۔ وہ رائٹر جو کبھی اتنے نڈر اور بے خوف ہوا کرتے تھے کہ فوجی آمروں، سول حکومت اور دہشتگرد تنظیموں سے ٹکرا جایا کرتے تھے، اب "محب وطن” ہو چکے یا پھر نوکری سے نکالے جا چکے۔ روزگار چھن جانے کے بعد پاکستان کے بعض چوٹی کے کالم نگار اور پرائم ٹائم ٹی وی صحافی اب یو ٹیوب چینل چلانا سیکھ رہے ہیں۔ جو باقی رہ گئے انہیں نامعلوم ذرائع جو انٹیلیجنس ایجنسیوں کی نمائندگی کا دعویٰ کرتے ہیں، کی جانب سے دھمکیاں ملتی رہتی ہیں۔

اس پس منظر میں، جب ایک انٹیلیجنس انسپکٹر نے مجھے کال کر کے اپنا تعارف کروایا اور بتایا کہ وہ میرے حالیہ دورہ بنگلہ دیش کے متعلق مجھے ڈی بریف کرنا چاہتا ہے، تو مجھے اطمینان محسوس ہوا۔ اطمینان کی وجہ یہ تھی کہ کال کرنے والے کا کم از کم نام اور شناخت معلوم تھی اور ملاقات کا مقصد بھی۔ ( کیونکہ بیشتر صورتوں میں ایسا نہیں ہوتا: مترجم)

کال کی وجہ یہ تھی کہ بنگلہ دیش میں ہونے والے لٹریری فیسٹیول میں میرے نئے ناول ریڈ برڈز کی رونمائی تھی جس میں مجھے شرکت کرنا پڑی۔ عموماََ پاکستانی انٹیلیجنس ایجنسیاں اور انتہا پسند تنظیمیں خبروں کے معاملات کے چکر میں رہتی ہیں، فکشن لکھنے والوں پر ان کی توجہ کم ہی جاتی ہے- مگر انسپکٹر کو اوپر سے انکوائری کے آرڈر آئے تھے اور وہ مجھے ملنا چاہ رہا تھا۔ چند صحافی دوستوں سے مشورے کے بعد میں نے اسے ایک عوامی مقام پر بلا لیا۔

انسپکٹر اپنے ایک سینئر ساتھی کے ساتھ مجھے ملا۔ یہ ملاقات کچھ کچھ صحافیانہ انٹرویو اور کسی حد تک تفتیش کہی جا سکتی ہے- میں ڈھاکہ فیسٹیول کی ڈائریکٹر کو کیسے جانتا ہوں؟ کیا وہ شادی شدہ ہے؟ نہیں پتہ تو کیا پتہ چل سکتا ہے؟ کیا میری اپنی شادی ارینجڈ میرج ہے؟ بچے کتنے ہیں؟ ان کی عمریں کیا ہیں؟ مجھے حیرت ہوئی جب انہوں نے بالآخر کتاب کے بارے میں بھی سوال کئے۔ کتاب مانگی گئی، میں نے شائستگی سے مشورہ دیا کہ خرید لیں اور قیمت سرکاری کھاتے میں ڈال دیں۔ وہ مان گئے، مگر پھر پوچھنے لگے کہانی کیا ہے؟ اب بیشتر ناول نگاروں کی طرح مجھے بھی اپنے ناول کا مرکزی خیال چند جملوں میں بتانا مشکل لگتا ہے۔ اٹکتے ہوئے بولنا شروع کیا۔ انہیں یہ دلچسپ لگا کہ کہانی امریکی پائلٹ کی ہے جس کا طیارہ صحرا میں گر جاتا ہے اور اسے ایک مہاجر بچہ بچا لیتا ہے- یہ مہاجر بچہ افغانی ہوگا؟ جی جی، افغانی۔

اگلا آدھا گھنٹہ میں اور میرے تفتیش کار گویا یہ ناول دوبارہ لکھتے رہے۔ مجھے احساس ہوا کہ انہیں میں بالکل مختلف کہانی سنا رہا ہوں۔ کچھ چیزیں نظر انداز کر کے اور کچھ بڑھا چڑھا کر پیش کر کے۔ میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ انہیں یہ نہیں بتاؤں گا کہ ناول کا مرکز ایک بچہ ہے جو کہ جبری گمشدہ ہے- میں نے کہانی کو تھوڑا حب الوطنی کا ٹچ دیا، پاکستان کا مثبت امیج ابھارنے کی کوشش کی۔

مجھے نہیں معلوم انہیں میری باتوں پر یقین آیا یا نہیں لیکن مجھے اتنا علم تھا کہ وہ کتاب پڑھنے کی زحمت کبھی نہیں کریں گے۔ انہیں میری صحافتی سرگرمیوں میں دلچسپی نہ تھی، اس پر میں نے سکون کا سانس لیا۔ بہت کچھ جو میں لکھتا ہوں ان کے حب الوطنی کے معیار پر پورا نہیں اترتا۔

(یہ محمد حنیف کے ایک شاندار آرٹیکل کے پہلے حصے کا ناقص ترجمہ ہے- پورا مضمون ہی خاصے کی چیز ہے- وقت نکال کر ضرور پڑھیے گا۔ مترجم: محمد اشفاق)

متعلقہ مضامین