سیاسی تھپڑ کا سفر

محمد عاصم

یہ تحریر سیاست کے بارے میں نہیں ہے، نہ ہی اس کا مقصد کسی سیاسی جماعت کو ٹارگٹ کرنا ہے۔ اسی طرح کسی سیاستدان پر تنقید کرنا بھی اس تحریر کا مقصود نہیں۔

اس تحریر کا مقصد صرف سوال کرنا ہے اُن تمام لوگوں سے جو سیاست کرتے ہیں یا کسی سیاسی جماعت کے ساتھ منسلک ہیں۔ ایک طالب علم ہونے کی حشیت ایک مصومانہ سا سوال ہے کہ کیا آج کے دور میں سیاست ہو رہی ہے یا غنڈا گردی؟ اور کیا آج کی سیاست میں تھپڑ اس کا ایک لازمی جزو ہے۔؟

دیکھا جائے تو اختلاف کو سیاست کا حُسن سمجھا جاتا ہے۔ اور اختلاف رائے سے انسان اپنی ایک منفرد حشیت بناتا اور مسئلے کے نئے زاویے سامنے لاتا ہے لیکن بات اُس وقت بگڑتی ہے جب اختلاف میں انسان اخلاق کی سب حدیں پار کر دیتا ہے۔ اور اکثر اوقات ہمارے معزز سیاستدان مخالف فریق یا اختلاف کرنے والے کو تھپڑ مارنے سے سیاسی کامیابی کا سفر طے کرنے کا سوچتے ہیں۔

بحثیت مسلمان نہیں تو بحشیت انسان ہماری اخلاقی قدریں ہمیں اس بات کی اجازت نہیں دیتیں کہ ہم مخالفت یا اختلاف کا اظہار تھپڑ سے کریں لیکن اس پیارے دیس کے عظیم سیاستدان یہ سمجھتے ہیں کہ اگر کسی کو تھپڑ رسید کر دیں تو وہ وزیراعظم کے معاون خصوصی لگ سکتے ہیں۔

اسی طرح اب یہ بھی سمجھا جانے لگا کہ اگر کسی نے زیادہ ترقی کر لی ہے اور سیاستدان سے وزیر بن گیا ہے تو کسی کو بھی تھپڑ رسید کر سکتا ہے۔

ان واقعات اور اس نفسیات سے ایک بات تو اخذ ہوتی ہے کہ یہ تاثر پھیلایا جائے کہ طاقتور تھپڑ مارنا والا ہے اور اگر کسی شخص نے سیاست میں  کامیاب ہونا ہے تو بروقت پر مخالف یا اختلاف کرنے والے شخص کو تھپڑ مارنا سیکھ جائے۔

تازہ ترین واقعہ بھی آپ کی نظر سے گزرا ہوگا جہاں گذشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے لیڈر مسرور علی سیال نے کراچی پریس کلب کے صدر امتیاز فاران کو ٹاک شو کے دوران ہی تھپڑ جڑ دیا اور اُس کے بعد اُن پر تشدد کیا۔ 

اگر ان تمام باتوں پر سنجیدگی سے سوچا جائے تو سیاست میں تھپڑ کو کلچر فروغ مل رہا ہے۔ اور اکثر اوقات پاکستان تحریک انصاف کے معزز ارکان کی طرف سے ایسے واقعات میں ملوث ہونے کی خبریں موصول ہوتی ہیں۔ 

اگر اس کا مقصد ڈوبتی معشیت اور موجودہ صورتحال کی طرف سے توجہ ہٹانا ہے تو بھی تشویش ناک ہے۔ لیکن اگر سوچا جائے تو بحیثیت قوم ہمارا اخلاق بد سے بدترین ہوتا جا رہا ہے۔

محترم وزیراعظم کنٹینر پر کھڑے ہوکر نوجوانوں سے خطاب کرتے تھے اور ایسے الفاظ کا استعمال کرتے تھے جو انتہائی نامناسب ہوتے تھے۔ اور اب تھپڑ کلچر نے اس قوم میں برداشت اور صبر جیسے تمام مثبت رجحانات کو ہی ختم کردیا ہے۔

ماضی کی حکومتوں نے بھی اپنے مقاصد کے لیے اخلاق کی سب حدوں کو پار کیا اور موجودہ حکومت بھی یہی کر رہی ہے۔ تبدیلی کا عنصر نظر نہ آنا ہی حکومت کی ناکامی ہے۔ کیونکہ تبدیلی پشاور میٹرو بس چلنے یا کراچی شوکت خانم بنے سے تو آنی نہیں۔

تبدیلی آنی اخلاق سے، اب دیکھنا یہ ہوگا کہ کیا حکومت اخلاقی تبدیلی کہ لیے کوئی قدم اُٹھائے گی یا نہیں۔ ویسے بظاہر تو ایسا کچھ نظر ہوتے نہیں آرہا۔ 

تبدیلی اُس وقت تک نہیں آسکتی جب تک ہم میں سے ہر انسان کے اندار احساس پیدا نہیں ہوگا۔ اب تو اکثر اوقات احباب اس بات پر روکتے ہیں کہ تحریر میں اخلاقی بھاشن مت دیا کرو لیکن حقیقت یہی ہے کہ جب تک ہماری نوجوان نسل اپنے اخلاق میں تبدیلی نہیں لائے تب تک اس ملک کے سیاستدان اخلاقی طور پر پسماندہ ہی رہیں گے کیونکہ انہی نوجوانوں نے آگے بڑھنا ہے اور ہم نے ہی سیاست دانوں کا محاسبہ کرنا ہے۔ 

متعلقہ مضامین