افغانستان سے امریکی انخلا کامخمصہ

ناصر مغل

افغانستان میں صورت حال فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہوچکی ہے۔ طالبان حیرت انگیز طور پرسیاسی میدان میں بھی اسی مہارت اورثابت قدمی کامظاہرہ کررہے ہیں جو انہوں نے میدان جنگ میں دکھائی اورامریکہ کو مذاکرات کی میز پرآناپڑا۔

افغان صدراشرف غنی کی تمام تر”کوششوں” کاارتکاز قیام امن سے زیادہ اپنے اقتدارکے دوام پرہے۔ وہ عدالت عظمیٰ کی طرف سے دی گئی توسیع پرہیں کیوں کہ ان کی مدت صدارت ختم ہوچکی ہے تاہم نئے صدارتی انتخابات میں تاخیرکے پیش نظرسپریم کورٹ نے انہیں کام جاری رکھنے کی خصوصی اجازت دی۔


کابل انتظامیہ اس وقت صرف یہ تگ  ودو کر رہی ہے کہ نئے سیٹ اپ میں انہیں اسی طرح بالادستی حاصل رہے جوکہ ایک غیرحقیقی خواہش سے زیادہ کچھ نہیں۔ طالبان کابل حکومت کوامریکی کٹھ پتلی قراردیتے ہیں اورتاحال وہ ان کے ساتھ بات چیت پر آمادہ نہیں ہوئے۔ان کامانناہے کہ میدان جنگ کے نتائج کوہی سیاسی تصفیے کی بنیادبنایا جائے اوراسی ایک نکاتی ایجنڈے پر انہوں نے اب تک امریکہ سے 6باربراہ راست مذاکرات کیے ہیں۔ ساتواں دور 29جون سے دوحہ میںشروع ہورہا ہے۔


اس دوران طالبان کی عسکری کارروائیاں بدستورجاری ہیں۔ بدھ کو بھی انہوں نے گھات لگاکر2امریکی فوجی ہلاک کردیئے جس کے بعد رواں برس افغانستان میں امریکی ہلاکتوں کی تعداد9ہوچکی ہے۔

طالبان سوویت جنگ کے سبق پر عمل پیراہیں اورانہوں نے تاحال مزاحمت کوترک نہیں کیا۔ سوویت افغان جنگ میں وقت سے پہلے گوریلاجنگ سے دستبرداری نے مجاہدین کونقصان پہنچایاتھااوروہ بالآخرناکام رہے تھے۔

اس بارطالبان وہ غلطی دہرانے سے سختی کے ساتھ گریزاں ہیں۔نہ صرف یہ بلکہ وہ اپنے مطالبات کی بنیادپرامریکہ سے مذاکرات کررہے ہیں اوراب تک ان کارویہ بے لچک رہاہے۔وہ امریکہ سے انخلا کاٹائم ٹیبل مانگ رہے ہیں جس کے بدلے وہ افغان سر زمین کوامریکہ کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کی یقین دہانی کراچکے ہیں۔


دہشتگردی کے خلاف جنگ کے سب سے بڑے محاذپر بدترین امریکی ناکامی کایہ سب سے بڑاثبوت ہے کہ وہ 18سال سے جنگ لڑنے کے باوجودطالبان سے ضمانت مانگ رہاہے کہ افغانستان سے واشنگٹن کے خلاف کوئی حملہ نہیں ہوگا۔


منگل کو امریکی وزیرخارجہ مائیک پومپیو اپنے کابل کے دورے میں کہہ چکے ہیں کہ امریکہ فوج نکالنے پر تیارہے لیکن اس کے لیے کوئی وقت ابھی طے نہیں کیاگیا۔ ان کامزید کہناتھا کہ ستمبرمیں نئے افغان صدارتی انتخاب سے پہلے امن معاہدہ طے پانے کی امیدہے۔

تاہم قطرمیں شروع ہونے والاساتواں مذاکراتی دوراس حوالے سے صورت حال کوواضح کردے گا کہ فریقین میں معاملات کی درست صورت کیاہے اورمعاہدہ ہونے کے امکانات کیاہیں۔اس لحاظ سے یہ دورنتیجہ خیزہوسکتا ہے۔


امریکہ کی طرف سے مذاکرات میں زورصرف سکن سیونگ پرہے،وہ ایک اایسامعاہدہ چاہتاہے جسے وہ ”فتخ”کے طورپردنیاکے سامنے پیش کرسکے۔طویل مذاکراتی عمل میں اس کے حکام کی توانائیاں بس اسی ایک نکتے پرصرف ہوتی رہی ہیں۔سوویت یونین کی طرح امریکی اورنیٹو افواج کوبھی افغانستان میں شدید نقصان اٹھاناپڑا ہے اوربالخصوص امریکی فوجیوں کی ہلاکتوں کاسلسلہ تاحال جاری ہے۔

اس تناظرمیں واشنگٹن کی یہ ”معصوم”سی خواہش بے حدغیرحقیقی اورغیر منطقی ہے لیکن امریکی افسران سرتوڑکوشش کررہے ہیں کہ وہ امن معاہدے کوایساروپ دینے میں کامیاب ہوجائیں جس کی بدولت ان کی باعزت واپسی کاتاثرملے تاہم طالبان بھی اس امریکی چال بازی کواچھی طرح بھانپے ہوئے ہیں اوراب تک انہوں نے یہ کوشش ناکام بنائی ہے۔


ادھرعالمی برادری کامخمصہ یہ ہے کہ طالبان کواقتدارمیں آنے سے کیسے روکاجائے۔پاکستان سمیت خطے کے سبھی ممالک بھی یہی چاہتے ہیں کہ افغانستان میں کوئی ایسا تصفیہ ہوجس کی بنیادپر کوئی قومی حکومت عمل میں آئے۔

اگرچہ طالبان کہہ چکے ہیں کہ وہ کابل کے اقتدارپربلاشرکت غیرے اختیارنہیں چاہتے لیکن مذاکرات میں ان کا سخت موقف بہرحال تمام دارالحکومتوں کودہلارہاہے۔ کیوں کہ ابھی تک طالبان کی طرف سے کابل انتظامیہ کے ساتھ بات چیت کرنے کی ہامی نہیں بھری گئی، بلکہ وہ امریکی انخلا کا ٹائم ٹیبل چاہتے ہیں اورامریکہ جانتاہے کہ جس دن اس نے ٹائم لائن دے دی۔ اس کی شکست کاڈنکا پوری دنیامیں بجنے لگے گااورطالبان فاتح کے طورپردیکھے جائیں گے۔

دیگر ممالک بھی اسی شش وپنج میں ہیں کہ ایسی فضا بنی تودہشتگردی کے خلاف نام نہاد عالمی جنگ کابت پاش پاش ہوکرگرجائے گا اوردنیابھرمیں عسکریت پسندی کوحوصلہ ملے گا۔گویاافغانستان عالمی برادری کے لیے اورانخلا امریکہ کے لیے گلے کی ہڈی بن چکا ہے۔


2014ء میں نیٹونے افغانستان میں جنگی مشن ختم کردیاتھاجس کے بعد ریزولیوٹ سپورٹ کے نام سے ایک امدادی مشن کاآغازہوا،اس دوران امریکہ نے نئی افغان حکمت عملی کے تحت ایک بارپھرعسکری طاقت آزمائی اورجنگ جیتنے کی آخری کوشش کاآغازکیاجودراصل ایک اعصابی پنجہ آزمائی تھی ۔

وہ اعصابی جنگ اب سفارتی مرحلے میں ہے اوراس میدان میں بھی امریکہ کودانتوں پسینہ آرہاہے۔طالبان کی بے لچک پالیسی نے فریق مخالف کوشدیدپریشان کررکھاہے۔

اب دیکھنایہ ہے کہ اعصاب کی یہ جنگ کون جیتنے میں کامیاب رہتاہے۔رہ گئی کابل انتظامیہ تویہ سیٹ اپ صرف ایک جھٹکے میں گرجائے گا۔

آئینی طورپرویسے بھی یہ حکومت اپنی مدت پوری کرچکی ہے اورعوام میں اس کی کوئی جڑیں
نہیں۔اس تناظرمیں مسئلہ افغانستان کاحتمی دورشروع ہونے جارہاہے۔

متعلقہ مضامین