دریا کنارے باپ بیٹی کی نعشیں

ایک صحافی کی پیشہ وارانہ زندگی میں ایسے متعدد مواقع آتے ہیں جب اس کے لئے جذبات پر قابو رکھنا مشکل ہو جاتا ہے۔ کہنے کو تو یہ چند تصویریں تھیں جنھیں جوڑ کر ان پر چند الفاظ لکھنے تھے لیکن جب تفصیل جانی تو آنسو روکنا مشکل ہو گیا۔

پچیس سالہ آسکر البرٹو مارٹینز کا تعلق لاطینی امریکہ کے ملک ایلسیلوا ڈور سے تھا۔ وہ دو ماہ قبل ہزاروں کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے میکسیکو اور امریکہ کی سرحد پر تارکین وطن کے کیمپ پہنچا تھا۔ آسکر کی بیوی تانیا اور 23 ماہ کی بیٹی اینگی ولیریا بھی اس کے ہمراہ تھیں۔

شدید گرمی اور کیمپ کی نا گفتہ بہ حالت نے آسکر کے صبر کا پیمانہ لبریز کر دیا اور اس نے ایک خطرناک قدم اٹھانے کی ٹھان لی۔

گزشتہ اتوار کو وہ بیوی اور بیٹی کو لے کر میکسیو اور امریکہ کی سرحد پر بہنے والے دریا ‘ریو گرینڈے’ کے کنارے پہنچا۔ یہاں اس نے پہلے پہل بیٹی کو آغوش میں بھرا اور دریا عبور کر کے اسے دوسری جانب امریکہ کی سرحد پر پہنچا دیا۔

اب آسکر کی کم عمری اور ناتجربہ کاری آڑے آئی۔ اکیلی بچی کو تنہا دریا کنارے چھوڑ کر نتائج کی پرواہ کیے بغیر وہ بیوی کو لانے دوبارہ دریا میں کود گیا۔ معصوم بچی نے باپ کو واپس جاتے دیکھا تو وہ بھی اسے بلاتی پیچھے چل دی اور پھر وہ بھیانک لمحہ آیا جب ننھی ولیری دریا کی بے رحم موجوں کی نذر ہو گئی۔

بیٹی کو دریا برد ہوتے دیکھ کر آسکر واپس لپکا لیکن شاید قسمت کو کچھ اور منظور تھا۔ اسی لمحے پانی کا ایک تیز ریلہ آیا اور باپ بیٹی کو بہا کر لے گیا۔ دریا کنارے کھڑی بے بس تانیہ خاوند اور بیٹی کے ڈوبنے کا منظر دیکھتی رہی۔

ایک دن کی تلاش وبسیار کے بعد اگلے روز بدقسمت باپ بیٹی کے لاشے کچھ فاصلے پر دریا کنارے پڑے ملے۔ اوندھے منہ پڑے نوجوان آسکر کے سہانے مستقبل کے خواب اس کے ساتھ ہی ابدی نیند سو چکے تھے۔

بابا کے پہلو میں ننھی ولیریا کا بے جان بدن بھی پانی پر تیر رہا تھا۔ معصوم پری کا ہاتھ اب بھی باپ کے کاندھے پر رکھا تھا جیسے کہہ رہی ہو کہ ‘ بابا، مجھ اکیلی کو دریا کنارے چھوڑ کر کیوں جارہے تھے؟’
ایک فوٹو گرافر نے دل دہلا دینے والا یہ منظر کیمرے کی آنکھ میں محفوظ کر کے دنیا کو ایک بار پھر یہ باور کرانے کی کوشش کی ہے کہ کمزور، بدعنوان اور نالائق حکومتوں کے ستائے ہوئے لوگ مایوسی کے عالم میں کیسے انتہائی اقدام اٹھانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔

(ٹی آر ٹی ورلڈ کے لیے اس ویڈیو پر انگریزی سب ٹائٹل بنانے کے دوران اردو میں لکھے گئے تاثرات۔ عبدالشکور خان)

متعلقہ مضامین