شیخ رشید سے رانا ثنا اللہ تک

عبدالجبار ناصر


موجودہ وفاقی وزیرریلوے شیخ رشید احمد روز اول سے پیپلزپارٹی کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے کیونکہ جہاں شیخ رشید احمد، شہید ذوالفقار بھٹو کے خلاف تحریک میں پیش پیش تھے وہیں یہ الزام بھی ہے کہ موصوف 1988ء میں بے نظیر بھٹو کی کردار کشی والی ’’تصویری مہم ‘‘ میں بھی مبینہ طور ایک اہم کردار تھے۔

1988ء میں چاہتے ہوئے بھی پیپلزپارٹی شیخ رشید احمد کے خلاف کارروائی نہ کرسکی۔ اس کے دوہی اسباب نظر آتے ہیں ، شیخ رشید احمد اور ان کی جماعت پر مقتدر قوتوں کی خاص مہربانی اور پنجاب میں نواز شریف کی حکومت تھی ۔

کہتے ہیں کہ 1993ء میں دوسری بار مرکز اور پہلی بار پنجاب میں حکومت بنانے کے بعد پیپلزپارٹی کی قائد محترمہ بے نظیر بھٹو 1993ء نے وزیر اعلیٰ پنجاب منظور وٹو کو شیخ رشید احمد کو سبق سکھانے کا ٹاسک دیا۔ بعض سیاست دانوں کا کہنا ہے کہ شیخ رشید کو سبق سکھانے کا فیصلہ محترمہ بے نظیر بھٹوکا نہیں بلکہ ’’شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار گورنر پنجاب چودھری الطاف حسین (وفاقی وزیرفواد چودھری کے چچا)‘‘ کا تھا۔

پیپلز پارٹی کے صبر کا پیمانہ اس وقت لبریز ہوا جب قومی اسمبلی میں وزیر اعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کے ’’پیلے لباس‘‘ کو دیکھتے ہو شیخ رشید احمد نے محترمہ بے نظیر بھٹو کے حوالے سے انتہائی نازیبا جملہ استعمال کیا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کی شکایت قائد حزب اختلاف اور شیخ رشید احمد کی پارٹی کے سربراہ ل نوازشریف سے بھی کی گئی اور پھر 1995ء کو ایک دن شیخ رشید احمد کے پبلک سیکٹریٹ لال حویلی پر چھاپہ پڑاور شیخ رشید احمد کے پلنگ کے نیچے رکھی غیر قانونی کلاشنکوف برآمد کر کے ان کو گرفتار کر کیا گیا۔

عدالت سے 7 سال قید اور جرمانے کی سزا ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ شیخ رشید احمد کے خلاف سب کچھ جعلی تھا اور سزا کا حتمی فیصلہ بھی جج نے گورنر پنجاب کے حکم کے مطابق کیا۔ شیخ رشید احمد کئی ماہ تک جیل میں رہے اور پھر رہا ہوئے ۔

1997ء ، 2002ء، 2008ء اور 2018ء کے انتخابات میں بھاری اکثریت سے کامیاب ہوئے اور آج وفاقی وزیر ریلوے اور وزیراعظم عمران خان کے خاص معتمد ہیں۔

رانا ثناء اللہ بھی کافی عرصے سے تحریک انصاف اور اس کے قائد وزیراعظم عمران خان کی آنکھوں میں کھٹک رہے تھے، کیونکہ وہ مخالف کو سخت سے سخت جواب دینے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور جواب دیتے تھے اور بعض اوقات انتہائی نازیبا زبان استعمال بھی کرتے ہیں۔

حکومت سازی کے بعد ہزار کوشش کے باوجود تحریک انصاف کو ان کی گرفت کا جواز نہ ملا یا صبر سے کام لیا گیا مگر کہتے ہیں کہ وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار کے مشیر شہباز گل کی جانب سے ن لیگ کی قیادت کے خلاف سخت زبان کے استعمال کے جواب میں جب رانا ثناء اللہ نے انتباہ کرتے ہوئے کہا کہ ’’شہباز گل غلط زبان کے استعمال سے باز آئے ورنہ ہم ۔۔۔ خاندان سے ۔۔۔ کی چیخوں تک جائیں گے‘‘۔

اس بیان کے بعد ہر صورت رانا ثناء اللہ کو سبق سکھانے کا فیصلہ کیا گیا اور پھر یکم جولائی 2019ء کو ’’رانا ثناء اللہ کو گاڑی میں بھاری مقدار میں منشیات اسلام آباد سے لاہور اسمگل ‘‘ کرنے کے الزام میں گرفتار کرلیا گیا۔ یقینا اب عدالت میں پیشی ہوگی۔ کتنی حقیقت اور کتنا فسانہ جلد سامنے آئے گا!

رانا ثناء اللہ کی گرفتاری کو دیکھ کر ایسا لگتا ہے کہ ہم آج بھی90 کی دہائی میں ہی کھڑے ہیں۔ کل اقتدار پر بےنظیر بھٹو اور نواز شریف تھے اور نشانہ اپوزیشن تھی تو آج اقتدار پر عمران خان ہے اور نشانہ پھر اپوزیشن ہے۔ کل بھی سب سیاسی انتقام تھا اور آج بھی یہی لگتا ہے۔

کل شیخ رشید احمد پر غیر قانونی کلاشنکوف کا الزام سیاسی انتقام اور زبان بندی کا ہتھیار تھا اور آج رانا ثناء اللہ بھی اسی طرح کی کیفیت سے گزر رہے ہیں اور کب حالات بدلتے ہیں اس کے بارے میں کچھ کہنا قبل از وقت ہے کیونکہ ’’سب ایک پیج پر ہیں‘‘۔

جیل سے باہر آنے کے بعد شیخ رشید احمد نے کہا تھاکہ میں نے جیل میں بد زبانی سے باز آنے کا سبق سیکھا ہے مگر یہ سبق شاید ان کو ایک محدود وقت تک یاد رہا۔

کیا رانا ثناء اللہ بھی کچھ سبق سیکھیں گے یا حسب سابق اپنی بے قابو زبان کا استعمال اور جارحانہ رویہ برقرار کھتے ہیں۔

متعلقہ مضامین