پاکستانیوں کو سفر کرنے کی تربیت دی جائے

بات تو اپنے کینیڈا کے سفر پر کرنا چاہتی تھی لیکن اس سے بھی ضروری کچھ اور مسائل پر بات کرنا سفرنامے سے زیادہ اہم ہو گیا ہے۔ اس معاملے کی حساسیت کا اندازہ مجھے اپنے ہر سفر کے دوران ہوتا ہے۔ سفر کے احوال پر بھی بات ہوگی لیکن پہلے اس ضروری مسئلے پر اظہار خیال ہو جائے۔


اگر آپ پاکستان سے دبئی، ابو ظہبی، دوحہ یا پھر جدہ کے ائیر پورٹس پر سفر کے دوران عارضی قیام کرتے ہیں تو آپ کو پاکستان کی فلائٹ کے لئے بنائے گئے ٹرمینلز پر ہر طرف پاکستانی ہی ملیں گے۔ عام سی بات ہے لیکن ااپنے ملک کے ان باسیوں کو دیکھ کر جو احساس ہوتا ہے وہ عام نہیں ہے۔

اپنے ہم وطنوں کو دیکھ کر ایک احساس شدت سے ہوتا ہے اور وہ ہے ان کی ناقص تربیت کا۔ کیا ایک انسان اور پاکستانی شہری ہونے کے ناطے ان کے کیا فرائض ہیں وہ کسی کو معلوم نہیں۔

ایسے افراد اور ان کی حرکتیں ملک کے لئے شرمندگی کا باعث بن رہی ہیں۔ ہم سب کو معلوم ہے کہ ان خلیجی ممالک میں پاکستانیوں کی ایک بڑی تعداد صرف مزدوری کے لئے قیام پذیر ہے اور ان کا تعلق پاکستان کے غریب طبقے سے ہوتا ہے لیکن کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ آپ کو کھلی چھٹی دے دی جائے کہ آپ ساری دنیا کے سامنے اپنے ملک کے لئے شرمندگی کا سبب بن جائیں؟۔


اس مزدور طبقے اور عام کام کاج کرنے والوں کی حالت زار کا اندازہ سفر کرتے ہوئے آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔ گلف ممالک کے ایئر پورٹس کے پاکستانی ٹرمینلز پر اگر آپ کو پلاسٹک کے شاپرز میں کپڑے، جوتے اٹھائے اور کندھوں پر بیگ لٹکائے سفید شلوار قمیض پہنے مرد ہر ایک عورت کو گھورتے نظر آئیں اور ان کے ساتھ عبایوں میں ڈھکی چھپی عورتیں صرف اپنی آنکھوں کو نمایاں کرتے ہوئے اور جج کرتے ہوئے دکھائی دیں تو سمجھ جائیں کہ یہ صرف پاکستانی ہی ہیں۔

انہی ٹرمینلز پر آپ کو انڈین، عربی اور اکا دکا یورپینز بھی دکھائی دیں گے جو زیادہ تر پاکستانی مردوں اور ان کی خواتین کی گھورتی ہوئی نگاہوں سے نالاں نطر آتے ہیں۔


یہ کسی ایک سفر کا تجربہ نہیں بلکہ جب کبھی بین الاقوامی سفر کے لیے نکلی، ہمیشہ یہی شرمندگی اٹھانا پڑی۔


ایک بار تو حد ہی ہوگئی۔ میرے ساتھ ویانا کی فلائٹ سے کچھ جاپانی نوجوان سیاح خواتین نے اسلام آباد تک کا سفر کیا۔ دبئی ائیرپورٹ پر پی آئی اے کے ٹرمینل پر ہمارے پاکستانی بھائیوں نے اپنی آنکھوں کی سکیننگ مشینوں سے جو ان کا حشر کیا وہ سب یہاں بتانے کی ہمت ہی نہیں۔

جب جب ان جاپانی خواتین نے میری طرف دیکھا۔ میں ان سے نظریں ملانے کے قابل نہیں تھی سو نظریں جھکا کر نیچے دیکھتی رہی۔


کیا نئے پاکستان میں بیرون ملک روزگار کے لیے جانے والوں کی تربیت کا کوئی منصوبہ ہے کہ دنیا کہاں پہنچ گئی ہے اور گھورنے کو پاکستان سے باہر کیا سمجھا جاتا ہے۔

ایسا کوئی منصوبہ اگر ہے تو اس پر فی الفور عمل کیا جانا چاہیے تاکہ پاکستان میں سیاحت کے لیے آنے والوں اور بین الاقوامی ائیر پورٹس پر پاکستانیوں کو شرمندگی نہ اٹھانا پڑے۔


ایسا نہیں ہے کہ ہم پاکستانیوں کو شرمندگی صرف ملک سے باہر ایئرپورٹس پر اٹھانا پڑتی ہے۔ اسلام آباد اور پاکستان کے تمام بڑے چھوٹے شہروں میں گدا گروں کی بڑھتی ہوئی تعداد بھی اب دنیا دیکھ رہی ہے۔

ہر ٹریفک سگنل، گلی، کونے کھدرے، بڑی بڑی دکانوں، مارکیٹوں، گھروں کے باہر بیل بجاتے، عمر کے بھکاری آپ کو نظر آئیں گے۔ ان میں مرد و خواتین، حاملہ اور سوئے ہوئے بچے اٹھا کر بھیک مانگنے والی خواتین سے لے کر چھوٹے چھوٹے بھیک مانگتے بچے بھی ہیں۔

بڑے شہروں میں ان کے اپنے اوقات کار ہیں اور بڑے ڈسپلن سے یہ اپنا اپنا سگنل اور علاقہ استعمال کرتے ہیں۔ ان بھکاریوں میں بیلچے اٹھائے نوجوان، ہٹے کٹے مرد بھی نظر آئیں گے اور اگر آپ ان کو بھیک نہیں دیتے تو بد دعاؤں کے ساتھ ساتھ آپ کو ہراساں بھی کرتے ہیں۔ سرشام اور رات گئے تک خواجہ سرا نظر آتے ہیں اور بڑی شائستگی اور انکساری کے ساتھ بھیک مانگتے ہیں۔

چھوٹے چھوٹے بھکاری بچے ہر سگنل پر گاڑیوں کے ساتھ دوڑتے ہیں اور ڈرائیورز کو یہ دھڑکا لگا رہتا ہے کہ خدا خواستہ ان بچوں کے ساتھ کوئی حادثہ نہ ہو جائے اور اگر ہو جائے تو یقین مانیں کہ پتہ نہں کہاں کہاں سے ان کا سارا خاندان نکل آتا ہے اور آپ سے معاوضے اور علاج کے نام پر بھاری رقوم وصول کرتے ہیں۔

آپ کو عزت بچانے کے لئے خاموشی سے ان کو بھاری رقم ادا کرنی پڑتی ہے۔ ظاہر ہے پولیس میں ان کے تعلقات ہوتے ہیں تو یہ دیدہ دلیری سے بھیک مانگتے ہیں اور کوئی طاقتور ترین وزیر داخلہ (چوہدری نثار) ہو یا انتہائی مقبول ڈپٹی کمشنر حمزہ شفقات، ان کا کوئی کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔

نیا پاکستان بنانے والوں نے سیاحت کے لیے دنیا بھر کے سیاحوں کو پاکستان آنے کی دعوت دی ہے۔ اب پتہ نہیں ان سیاحوں اور خود کو شرمندگی سے بچانے کے لئے کیا کیا ہے؟۔

عروج رضا صیامی، اسلام آباد میں صحافت کے شعبے سے طویل عرصے سے منسلک ہیں۔ سیاسی و سفارتی رپورٹنگ میں تجربہ رکھتی ہیں۔ آج کل بول نیوز سے بطور اینکر پرسن وابستہ ہیں۔

عروج رضا، بین الاقوامی سیاحت کا بھی طویل تجربہ رکھتی ہیں۔ پاکستان ٹوئنٹی فور کی درخواست پر اپنے تجربات اور خیالات قارئین سے شیئر کرتی رہیں گی۔

متعلقہ مضامین