92 ورلڈکپ سے اب تک کا سفر اور سبق

کرکٹ کا عالمی کپ شروع ہوتے ہی ایک اودھم مچا دیا گیا کہ اس بار92ء کے ورلڈکپ کی تمام نشانیاں دکھائی دے رہی ہیں۔ اس وقت بھی فلاں فلاں ٹیم سے ہارکرفلاں ٹیم سے جیت گئے تھے، اس ملک نے فلاں کو ہرا دیا تھا، اس ٹورنامنٹ میں بھی راؤنڈ روبن (اس فارمیٹ کے تحت ٹیمیں گروپس میں تقسیم نہیں ہوتیں بلکہ سب نے ایک دوسرے کا مقابلہ کرنا ہوتا ہے) طریقہ کاراپنایا گیا تھا، تب بھی یہ ہوا تھا، وہ نہیں ہوا تھا۔ لہذااس بار بھی ورلڈکپ ہمارا ہے۔

مثالوں، مماثلتوں، فالوں، شگونوں اورٹوٹکوں کا ایک انبار تھا جس کی بنیاد پرظن وتخمین لگائے جا رہے تھے کہ یوں ہونے کے بعد یوں ہوجائے توپاکستان آگے چلاجائے گا اورجیت بھی جائے گا۔ لیکن ایسا کچھ بھی نہ ہوسکا اوردوسری ٹیموں نے محنت کے ساتھ کھیل کراپنے لیے اگلی صفوں میں جگہ بنالی جبکہ پرائی بیساکھیوں کا سہارا لے کر کامیابی حاصل کرنے کی تک بندی اس بارنہ چل سکی۔

سوشل میڈیا پر یہ طوفان بدتمیزی مچانے والوں میں ایک خاص طبقہ پیش پیش تھا جس نے بلاوجہ ہی آسمان سرپراٹھا رکھا ہوتا ہے۔ اس گروہ نے مضحکہ خیز تک بندیاں تلاش کرکے خوشخبری دے دی کہ یہ کپ ہم جیت جائیں گے لیکن ایسے بودے سہاروں سے اگرکوئی سرخرو ہوسکتا توبھوٹان یا بنانا جیسی ریاستیں آج سپرپاور ہوتیں۔

اس ورلڈکپ نے ہمارے شعورکو بہت بری طرح بے نقاب کیا ہے اوربتا دیا کہ ہم صرف ٹونوں ٹوٹکوں سے عظمت حاصل کرناچاہتے ہیں،اتفاقات پرکسب کمال کے خواہش مندہیں،’یہ ہارجائے اورفلاں جیت جائے توہمیں فائدہ ہوگا‘ کی ڈاکٹرائن ہمارالائحہ عمل ہے۔تاہم ورلڈکپ میں یہ ڈاکٹرائن بری طرح پٹ گیا۔محنت اورکوشش کے بجائے تکے لگا کر دنیا میں ممتاز ہونے کی آرزووئیں پالناتوکوئی ہم سے سیکھے۔

ادھرہاکی میں، جوہمارا قومی کھیل ہے اور جس میں ہم آٹھ بارعالمی چیمپئن (چارمرتبہ ورلڈکپ، چارمرتبہ اولمپکس) بن چکے ہیں، جس کی چیمپئنزٹرافی پاکستان کی طرف سے متعارف کرائی گئی تھی اورجس کھیل میں ہمارے کارنامے کسی بھی دوسرے میدان سے کم نہیں بلکہ زیادہ ہی ہوں گے، گرین شرٹس نے تنزلی کی نئی تاریخ رقم کردی ہے اوراب ہم رینکنگ میں 17 ویں نمبر پرہیں لیکن حکومتی سطح پر بھی اس امر کا کوئی نوٹس نہیں لیا گیا اورعوامی حلقوں میں بھی اس پر کوئی تشویش نہیں بلکہ بچکانہ ”حربوں“کے ذریعے کامیابی حاصل کرنے کے جنون میں پوری قوم ایک بخارکی طرح مبتلا رہی۔

حال ہی میں پاکستان کے 4 کیوئسٹس نے سنوکرکی ایشیائی اورعالمی چیمپئن شپ جیتی ہے لیکن کہیں ان کا نام نہیں، بس 92اور2019ء کے ورلڈکپ میں ”مماثلتوں“ کا پرچارہوتا رہا۔ ایک خاص گروہ اس طوفان بدتمیزی کے پیچھے تھا۔ یہ لوگ وہ تھے جو ذہنی طورپر92 سے آگے نہیں جا سکے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ان کی اختراع کردہ ڈاکٹرائن پر پھٹکار پڑگئی۔

کہا جاتا ہے کہ کامیابی کا کوئی شارٹ کٹ نہیں ہوتا لیکن ہم نے شارٹ کٹ سے بھی الگ ایک راستہ اپنا لیا ہے جو دوسروں کی کمزوریوں میں سے گزرکر کامرانی کے مینارتک پہنچنے کاعزم لیے اختیار کیا جاتا ہے۔ اس نئی طرح کی بنیاد اگر مگر پرہے لیکن دنیا اس اگرمگر پر استوارنہیں۔

اسی اگرمگرمیں انگلینڈ کے خلاف انڈین ٹیم سے ہمدردیاں وابستہ کی گئیں اورجب وہ ہارے توان پر جان بوجھ کرشکست کھانے کا الزام لگا کر اسے کوسنے دیے جاتے رہے۔ جان بوجھ کر ہارنے والی بات ایک الگ بحث ہے،تاہم یہ معاملہ بہت بڑامذاق بن کررہ گیا۔

پاکستان کی ابتدائی ناکامیوں کے بعد بعض منچلوں نے یہ پھبتیاں بھی کسیں کہ اب یاتودوسری ٹیمیں لاپتہ ہوجائیں یاان پر بجلی گرجائے وغیرہ وغیرہ توپھرپاکستان سیمی فائنل کھیلے گا۔حتمی مرحلے پر ایک ستم ظریف نے اس حوالے سے فیس بک پر پوسٹ کی کہ پاکستان 300رنزبنائے اوربنگلہ دیش کی ٹیم کونیب پکڑلے توپھرچانس ہے۔

اس ٹورنامنٹ میں ایک بارپھردعاؤں پربھی زورتھا۔دعاکی اہمیت وفضیلت اورطاقت اپنی جگہ مسلم ہے لیکن محض دعاؤں پرتکیہ کرلیناپرلے درجے کی حماقت اورناسمجھی ہی نہیں بلکہ نااہلی،بے عملی اورناکامی کی دلیل بھی ہوتی ہے۔ہم لوگ کرکٹ پر سٹہ بھی کھیلتے ہیں اوردعائیں بھی کررہے ہوتے ہیں،بہت ہی عجیب وغریب کمبی نیشن ہے۔اگراتناوقت ہم لوگ کسی مثبت اورمفید کام کودیں توضرورہماری دلی مرادیں برآئیں گی۔

کرکٹ ورلڈکپ میں بھارت کے خلاف میچ نے ہماری ٹیم کی کارکردگی کاپول پوری طرح سے کھول دیاتھا۔جس ٹیم کاکپتان میدان میں جماہیاں لے رہاہووہ کیسے آگے جاسکتی ہے؟ 92 کے فائٹ بیک اورپھرایک چانس ملنے کے بعد کامیابی اورموجودہ صورت حال میں زمین وآسمان کا فرق ہے۔ہربارقسمت یاوری نہیں کرتی،تکے لگنے کاچانس ہمیشہ سب سے کم ہوتاہے۔اگرہم یہ بات سمجھ لیں توشاید ترقی اورخوشحالی کی شاہراہ پر ضرورمنزلیں مارسکتے ہیں۔ہماری نوجوان نسل کو یہ حقیقت سمجھناہوگی کہ کچھ پانے کے لیے محنت شرط اول ہے،سوچ بچار،منصوبہ بندی،غوروفکر،محاسبہ،تجزیہ اورنپی تلی یعنی کیلکولیٹڈ حکمت عملی کے ذریعے ہی مقصد حاصل کیاجاتاہے۔ٹوٹکوں،فالوں اورمثالوں سے کسی نے عظمت نہ پائی۔

ایسی تمناؤں کا انجام ہمیشہ عبرت ناک ہوتاہے۔ہمارے نوجوانوں کو یہ رمز گرہ سے باندھ لینی چاہئے۔

ایک کہاوت ہے کہ ”جانڑا لہور تے بوہجھے وچ گاجراں“(جانا لاہور ہے اورجیب میں صرف گاجریں ہیں) یعنی بڑی منزل کا قصد کیا ہواور پلے دھیلا بھی نہ ہو۔ ورلڈکپ میں پاکستان کا سفر اپنے منطقی انجام کو پہنچ گیاہے۔

اب ارباب اختیار کو بھی اورعوام الناس کو بھی گاجریں لے کرلاہور جانے کی روش ترک اورمحنت سے دلی مرادیں پوری کرنے کی راہ اپنانے کا عزم کرنا ہوگا۔ ”ٹوٹکوں کی ڈاکٹرائن“ اپنی موت آپ مرچکی ہے، اب ہمیں سدھرجاناچاہئے۔

عظیم قومیں خودکو ہمیشہ ٹھوس بنیادوں پر استوارکرتی ہیں۔92کاورلڈکپ ماضی کا قصہ بن چکاہے،اس کے ناسٹلجیا سے نکل کر مستقبل کی طرف دیکھناضروری ہے ورنہ جوہمارا”حال“ ہے، آنے والا وقت کہیں ہمارے لیے کوئی بڑاامتحان لے کرنہ آ جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے