موت برداشت کر سکتا ہوں

پاکستان کے وزیراعظم عمران خان نے قائد حزب اختلاف شہباز شریف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ وہ تو موت بھی برداشت کر سکتا ہوں لیکن شریف ایسا نہیں کر سکتے۔

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں غربت کے خاتمے کے قومی پروگرام ’احساس‘ کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شہباز شریف کہتے ہیں کہ اتنی سزا دینا جتنی برداشت کر سکتے ہو۔

”آج شہباز شریف کے لیے پیغام ہے کہ میں تو اپنی موت بھی برداشت کر سکتا ہوں لیکن آپ نہیں کر سکتے۔“

عمران خان نے مزید کہا کہ شہباز شریف لوٹی گئی دولت سے لطف اندوز ہونے کے لیے موت برداشت نہیں کر سکتے۔

وزیراعظم کا کہنا تھا افسوس سےکہنا پڑتا ہےکہ جو ملک اسلام کے نام پر بنا اس ملک میں انسانیت نظر نہیں آئی۔ ”غیر مسلم ممالک میں انسانیت کی زیادہ قدر نظر آئی۔“

انہوں نے کہا کہ جب سے پاکستان بنا ہے لوگوں میں احساس ہے ریاست میں نہیں۔ ”انسان اور جانوروں کے معاشرے میں انصاف، انسانیت کا ہی فرق ہوتا ہے۔“

ان کا کہنا تھا کہ جب اسلامی تاریخ پڑھنا شروع کی تو پتا چلا یورپ کی تمام اچھی باتیں تو مدینہ کی ریاست میں تھیں۔ ”مدینہ کی ریاست میں تمام نظام ماڈرن تھا، پیسے والوں سے ٹیکس لے کر کمزور طبقے پرخرچ کیا جاتا تھا، مدینہ کی ریاست نے دنیا کو نئی تہذیب دی۔“

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ چین نے 70 کروڑ لوگوں کو غربت سے نکالا، 82 ہزار افراد کو بلا سود قرضے دے رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت 60 فیصد پاکستانی 30 سال سے کم عمر ہیں۔ ”ہم نوجوانوں کو قرضے دے کر اوپر لائیں گے، نوجوانوں کو ہنر سکھا دیں تو یہ نوجوان ہماری طاقت بنیں گے۔“


انہوں نے کہا کہ عجیب عجیب باتیں سنتا تھا کہ ملک کو ایشین ٹائیگر بنا دیں گے، لاہور کو پیرس بنا دیں گے، 30 سال سے اقتدار میں رہنے والےکہتے ہیں میڈیکل چیک اپ کیلیے لندن جائیں گے، یہ 30 سال اقتدارمیں رہے ایک اسپتال نہیں بنایا جہاں ان کاعلاج ہو سکے۔


عمران خان کا کہنا تھا کہ کمزور طبقے کی ذمہ داری ریاست کی ہوتی ہے اور ہر ماہ احساس پروگرام کے تحت کمزور طبقے کو اٹھانے کی کوشش کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے شہریوں میں بہت احساس ہے، لوگوں کے اس احساس سے ہم نے کینسر اسپتال اور یونیورسٹی بنائی، چائے والے، چھابڑی والے نے کینسر اسپتال کے لیے پیسے دیے۔


وزیراعظم نے کہا کہ اقتدار میں رہنے والے اربوں روپے کا بیرون ملک میں علاج کراتے رہے، اقتدار میں بیٹھے لوگوں کا کام تھا کہ اچھے اسپتال بناتے۔

انہوں نے کہا کہ باہر سے کسی نے آکر نہیں ٹھیک کرنا، اپنے اداروں کو ہم نے ہی ٹھیک کرنا ہے۔


ان کا کہنا تھا جب لوگوں کو احساس ہو گیا کہ ہمارے پروگرام میں شفافیت ہے تو زیادہ لوگ پیسا دینا شروع کر دیں گے۔ ”مزید لوگ آئیں گے اور احساس پروگرام میں حصہ ڈالیں گے، غربت مٹاؤ پروگرام ہر وزارت کا حصہ ہو گا۔“

وزیراعظم عمران خان نے بے نامی جائیدادوں کی نشاندہی کرنے والوں کو 10 فیصد دینے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بے نامی جائیدادوں کی جو بھی نشاندہی کرے گا ہم رولز تبدیل کر کے اس کو 10 فیصد دیں گے۔

انہوں نے کہا کہ بےنامی جائیداد سے حاصل ہونے والا سارا پیسا احساس پروگرام میں ڈال دیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے