قرضے اور اصل سود

ترجمہ: محمد اشفاق

امید ہے کہ اسی ماہ ہمیں آئی ایم ایف سے قرضے کی پہلی قسط تقریباً ایک ارب ڈالر کے لگ بھگ موصول ہو جائے گی۔ اس سال مجموعی طور پر ہمیں 2.3 ارب ڈالرز آئی ایم ایف نے دینا ہیں۔ اور اگلے دو مالی سال میں ہر سال 1.847 ارب ڈالرز۔ یہاں تک تو معاملہ ٹھیک ہے- مگر گڑبڑ یہ ہوئی ہے کہ ہم نے جو آئی ایم ایف پروگرام 2013-14 میں لیا تھا، اس کی قسطوں کی ادائیگی کا وقت بھی آن پہنچا ہے۔ بلکہ اس سال مارچ میں ہم 532 ملین ڈالرز کی پہلی قسط آئی ایم ایف کو لوٹا بھی چکے۔ مجموعی طور پر رواں برس ہم نے 1.045 ارب ڈالر واپس کرنا ہیں، اس سے اگلے برس 1.167 ارب ڈالرز اور اس سے بھی اگلے یعنی تیسرے برس پھر 1.06 ارب ڈالرز۔ چوتھے برس آئی ایم ایف نے تو ہمیں ایک ٹکا نہیں دینا البتہ ہم نے اسے 1.08 ارب ڈالرز ادا کرنا ہوں گے۔

یوں اگلے چار برس میں ہم آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالرز ایک ہاتھ سے وصول کر کے دوسرے ہاتھ سے اسے 4.9 ارب ڈالرز واپس کرنے پر مجبور ہیں۔ یعنی 6 ارب ڈالرز کا قرض چڑھا کر ہمیں نیٹ 1.1 ارب ڈالر ہاتھ لگیں گے۔

قرضے دے ناں تے بناندی سانوں الو
ملیا کی… باوا جی کا ٹھلو

باوا جی کا ٹھلو تو ہم سب سہہ ہی رہے ہیں اور اگلے چار پانچ برس سہنا ہی ہے- گزشتہ جون میں آپ کے خادم نے 789 یونٹ بجلی ساڑ کے 11932 روپے بل بھرا تھا اس بار 708 یونٹس کا بل 15355 آیا ہوا۔ بجلی بنانے والے کو جیل بھیج کر ہم پر ایک سال میں ڈھائی، تین روپے فی یونٹ کا اضافی بوجھ لادنے والے اب زیرولوڈشیڈنگ کا کریڈٹ وصول فرما رہے۔ بنتا ہے بھائی، بنتا ہے-

مسئلہ یہ ہے کہ مبلغ 1.1 ارب ڈالر میں ننگی دھوئے گی کیا اور نچوڑے گی کیا۔ اس کا حل آئی ایم ایف نے یہ تجویز فرما رکھا کہ ہمیں ورلڈ بنک اور ایشین ڈویلپمنٹ بنک سے 8.7 ارب ڈالرز کے پراجیکٹ بیسڈ اور 4.2 ارب ڈالرز کے پروگرام بیسڈ قرضے لینا ہوں گے۔ 14 ارب ڈالرز کے وہ قرضے جو ہم چین، سعودیہ، یو اے ای، قطر اور اسلامی بنک سے لے چکے اور جو اگلے برس سے ہم نے ادا کرنا تھے، وہ رول اوور کرنے کی یقین دہانی ہم پہلے ہی جمع کروا چکے۔ ان کے علاوہ آئی ایم ایف کا خیال ہے کہ ہمیں 8 ارب ڈالرز کے کمرشل قرضے بھی اس مدت میں درکار ہوں گے جن میں سالانہ کم از کم ایک ارب ڈالر ہمیں انٹرنیشنل کیپیٹل مارکیٹ سے اٹھانا ہوں گے۔ یوں تمام اجزا ملا کر ہمیں یہ چورن 38 ارب ڈالرز میں پڑ رہا ہے-

آئی ایم ایف نے پروگرام کی مدت کے دوران افراط زر کا تخمینہ تیرہ فیصد لگایا ہے- ہم اس وقت تقریباً ساڑھے گیارہ فیصد پہ کھڑے ہیں۔ سٹیٹ بنک نے انٹرسٹ ریٹ افراط زر سے کم از کم ڈیڑھ فیصد اوپر رکھنے کی یقین دہانی کروا رکھی ہے، چنانچہ جیسے ہی افراط زر کی شرح تیرہ تک پہنچتی ہے ہمارا انٹرسٹ ریٹ ساڑھے چودہ یا پندرہ فیصد تک چلا جائے گا۔ اس سال ہمارے جی ڈی پی میں بڑھوتری کی شرح آئی ایم ایف کے مطابق 2.4 فیصد رہنے کی توقع ہے- چودہ سے پندرہ فیصد انٹرسٹ ریٹ، زیرو ریٹڈ ٹیکس رجیم کے خاتمے کے نتیجے میں پانچ ایکسپورٹ انڈسٹریز میں آنے والے بحران، سیمنٹ، سٹیل، اینٹوں، ماربل اور ریت بجری کے نرخوں میں بے پناہ اضافے، مقامی آٹو انڈسٹری پر اضافی ٹیکسز کے اطلاق، امپورٹڈ آٹوز ڈیلرز پہ نئے ضابطوں کے نفاذ، رئیل اسٹیٹ میں جاری شدید بحران اور ریٹیل سیکٹر پہ نئے قوانین لاگو ہونے کے بعد یہ 2.4 فیصد بھی غنیمت لگنے لگی ہے-

اس بے حد مشکل اور چیلنجنگ صورتحال سے عہدہ برا ہونے کے حکومت کے پاس دو تین راستے ہیں۔ ایک ٹیکسوں کی وصولی کی شرح میں اضافہ، اضافی ٹیکسز اور ٹیکس اصلاحات اور دوسرا حکومتی اخراجات میں نمایاں کمی۔ اپنے پہلے سال حکومت ان دونوں شعبوں میں ناکام رہی ہے- ٹیکسوں کی وصولی تاریخ میں پہلی بار گزشتہ برس سے بھی کم رہی ہے اور حکومتی اخراجات وعدے کے برعکس بجٹ تخمینوں سے بھی زیادہ رہے ہیں۔ دیکھتے ہیں اس سال کیا ہوتا ہے؟

ایک تیسرا راستہ بھی ہے اور وہ ہے… مار ڈالوں گا، چھوڑوں گا نہیں، رلاؤں گا، ان کی چیخیں نکلیں گی، سب چوروں کو اندر کر دوں گا۔ گزشتہ ایک سالہ تجربے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ یہی کامیاب راستہ ہے- اس سے مسئلے حل بیشک نہ ہوں، ان پر سے توجہ کامیابی سے ہٹائی جا سکتی ہے- اپنے نہایت ہی بالغ نظر اور بہت ہی سمجھدار ووٹرز کو اپنے پیچھے لگائے رکھا جا سکتا ہے اور اقتدار پر اپنی گرفت بھی مضبوط رکھی جا سکتی ہے-

ہمیں گزشتہ برس دانشوروں نے نم آنکھوں اور بھرائی ہوئی آوازوں میں بتایا تھا کہ اس عظیم لیڈر کو لانے والوں نے اس قوم کے ساتھ بہت بڑی نیکی کی ہے جس پہ ہم سب کو ان کا احسان مند ہونا چاہیے۔ بتانا یہ تھا کہ ہم نے نیکی بھی مان لی، احسان بھی مان لیا، بہت شکریہ۔اپنی جاں نذر کروں یا اپنی وفا پیش کروں؟

(اعدادوشمار میں نے ہمیشہ کی طرح اپنے پاس سے گھڑے ہیں لیکن ہمیشہ ہی کی طرح اس بار بھی درست ثابت ہوں گے، کسی بھی انصافی دانشور سے پوچھ لیں بیشک 😜)

بشکریہ خلیق کیانی، ڈان نیوز

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے