ہم ناتواں نہیں

عورت ایک تصویر کی مانند ہے اگر جاہل کے ہاتھ لگ جائے تو اپنی قدر کھو دیتی ہے مگر صاحبان دانش اس انمول ہیرے کو بیش قیمت خیال کرتے ہیں۔

ہمارے معاشرے کو پراعتماد عورت پسند نہیں۔ اس لیے نہ وہ عورت کی تعلیم کے حق میں ہے اور نہ ہی ان کو آگاہی دینا پسند کرتے ہیں کک کہیں وہ کچھ جان نہ لے کہیں اپنا حق مانگ نہ لے۔

کوئی بھی حق، چاہے وہ حق اس کی تعلیم کا ہو، شعور کا یا وراثت کا۔

اکثر گھروں اور اردگرد کے ماحول میں خواتین کے لیے نامناسب رویے اور نازیبا سلوک درست سمجھ لیے گئے ہیں۔ اور یہ سارا مسئلہ ہماری سوچ کا ہے۔

ہماری اس سوچ نے ہی ہمارا معاشرہ خراب کیا ہے۔

بس سٹاپ پر کھڑی لڑکی کو نوجوان تو نوجوان ہمارے ادھیڑ عمر حضرات بھی دیکھ کر اپنے گھورنے کا شوق پورا کر لیتے ہیں ۔ خواتین ان سب حالات کا مقابلہ بہت خوبصورتی سے نظر انداز کر کے کرتی ہیں کیونکہ وہ باہر اپنا تماشا نہیں بنانا چاہتیں۔ اس کا تماشا نہ بنے اس ڈر کی وجہ سے وہ کچھ نہیں بولتیں، برداشت کر لیتی ہیں۔

عورت کو کمزور سمجھ کر اس پر ظلم کرنا صرف ہمارے معاشرے میں ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں ایک رسم چلی آرہی ہے تاکہ کوئی بھی عورت مردوں کے سامنے سر اٹھا کر نہ چل سکے۔

معاشرے میں عورت کے مظلوم کردار کو پسند کیا جاتا ہے، ہمارے ٹی وی ڈراموں میں بھی روتی پیٹتی عورت کو دکھایا جاتا ہے جس سے ان سیریلز کو اچھی ریٹنگ ملتی ہے۔

جب کوئی عورت کہیں نوکری کرتی ہے تو ہمارے مرد حضرات اسے عزت کی نظر سے نہیں دیکھتے۔ ایسی خواتین ان کی نظر میں بہت آزاد تصور کی جاتی ہے۔

نکاح میں بھی عورت کی رضا مندی کو لازم قرار دیا گیا ہے اور خلع بھی عورت کی مرضی سے واقع ہو سکتا ہے۔

پسند کی شادی کو بھی ایک مسئلہ بنا دیا گیاہے۔ آئے دن غیرت کے نام پے قتل کی خبروں سے بھی تو یہ تاثر ملتا ہے کہ بیٹی پنجاب کی ہو یا بلوچستان کی ، ہر برائی کی جڑ وہی ہے، پسند کی شادی کی سزا کار وہی ہے۔ یہ سب معاشرتی اور ذہنی برائیاں ہیں، مذہب کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ہے۔ ہر مذہب پسند کی شادی کی اجازت دیتا ہے۔

پاکستان کے دیہی علاقوں پر اگر نظر دوڑائیں تو جنوبی پنجاب کے بعض دیہات میں (ونی) کی رسم آج بھی جاری ہے۔ اس رسم میں کسی بھی جرم چوری، ڈاکا، اغوا،رہزنی،قتل اور پسند کی شادی سمیت ہر قسم کے تنازعات، دشمنی اور رنجشوں میں راضی نامہ کرتے ہوئے پنچائت یا جرگہ کے تحت ملزم فریق کی لڑکیوں کو مدعی فریق کے مردوں کے نکاح میں دے دیا جاتا ہے۔ ایسی خواتین مدعی فریق کی غلام بن کے رہتی ہیں۔

بسا اوقات ونی کی صورت میں ملنے والی خواتین کو قتل اور فروخت بھی کردیا جاتا ہے۔

عورت کو ناقص العقل اور فطرتاضعیف و ناتواں کہا جاتا ہے،تنگ نظری کی فضا چھائی ہوئی ہے،خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا کلی اختیار حاصل نہیں ہے،آج ت خواتین اپنے مسائل حل کرنے کے لئے مردوں کی محتاج ہیں۔

معاشرے کی تعمیر وترقی میں عورت کا کردار نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے کہ ہر معاشرے میں نسل نو کی تعمیر اس کے ہاتھوں ہوئی ہے اور ہو سکتی ہے۔۔۔ہمارے معاشرے اور تہذیب میں خاندانوں اور نسلوں کے بننے اور بگڑنے میں ایک عورت بحیثیت بہن،بیٹی، بیوی، ساس ،بہو،اور دیگر تمام رشتوں میں نہایت اہم کردار کی حامل ہیں۔

ہمارے معاشرے میں مردوں کے لئے اصول کچھ ہیں اور عورتوں کے لئے سرے سے کوئی اصول ہی نہیں ہیں۔۔کوئی پوچھنے والا ہی نہیں۔

کیسے دوغلے لوگ ہیں ہم؟ بھائی سب کچھ کر سکتا ہے اور بہن وہ تو بس پاؤں کی جوتی ہے، کچھ کر کے تو دیکھے، گھر ہی نہیں بلکہ پورا معاشرہ اس جوتی کے ٹکڑے ٹکڑے نہ کر دے تو کہیے گا۔

عورت اپنے محافظوں کے سائے تلے مار دی جاتی ہیں۔

تنگ نظری کی فضا اب تک چھائی ہوئی ہے۔ آج بھی خواتین کو اپنی زندگی کے فیصلے کرنے کا اختیار حاصل نہیں ہے۔ آج بھی لڑکیوں کے تعلق سے والدین کے برتاؤ میں واضع فرق نظر آتا ہے،لڑکوں کو تو اعلی سے اعلی تعلیم دلوانے کے لئے والدین رات دن ایک کر دیتے ہیں اور اپنی کمائی کا بیشتر حصہ ان کی تعلیم پر لگا دیتے ہیں ،لیکن جب لڑکیوں کی تعلیم کی بات آتی ہے تو یہ کہ کر ٹال دیتے ہیں کہ ان کو اعلی تعلیم کی کیا ضرورت ہے۔

وہ اپنے حققوق کی حصولی کے لئے گھروں میں سسکتی ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کی بجائے حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ جو صلاحیت ان میں ابھر کر آنے والی تھی،وہ کہیں نہ کہیں دب کر رہ جاتی ہے اور خود اعتمادی کا قیمتی سرمایہ ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔

یہاں تک کہ ان کے ذہنوں میں یہ بات پیوست ہو جاتی ہے کہ ان کا یہی مقدر ہر۔

خواتین میں وہ تمام صلاحیتیں اور خوبیاں موجود ہیں جن کی بنیاد پر خواتین معاشرے کی تعمیر میں نہایت اہم کردار ادا کر سکتی ہیں۔

عورت انسانی معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتی ہے۔اگر ہم چاہیں کہ ہمارا معاشرہ ترقی یافتہ ہوجائے تو اس کے لئیضروری ہے کہ خواتین کو اعلی تعلیم میں کوتاہی نا کی جائے۔

اب عورت کو بھی سمجھنا ہوگا کہ وہ اپنے لئے کونسا کردار منتخب کرتی ہے۔ معاشرہ سمجھے یا نہ سمجھے لیکن مذہب سمجھدار، ملنسار اور مضبوط کردار والی عورت کو پسند کرتا ہے۔

جو اپنی زندگی کے فیصلے خود کرے۔ رہنمائی وہ بیشک کسی سے لے لے لیکن حتمی فیصلہ اس کا اپنا ہی ہوگا۔

جو حضرات خواتین کو کمزور سمجھتے ہیں وہ ہمیں ناتواں نہ سمجھیں۔ ہم ناتواں نہیں ہیں!

متعلقہ مضامین