اسامہ آپریشن کے اصل حقائق

محمد اشفاق ۔ تجزیہ کار

اب جبکہ جناب وزیراعظم نے ایبٹ آباد آپریشن پر امریکی رائے عامہ کو اعتماد میں لے لیا ہے۔ مناسب ہو گا کہ ہم عامیوں کو بھی کچھ موٹی موٹی باتیں بتا دی جائیں۔

1- ویسے وزیراعظم صاحب اتنا بڑا دعویٰ بغیر ٹھوس اطلاعات کے نہیں کر سکتے، مگر پھر بھی .. کیا واقعی اسامہ بن لادن کی موجودگی کی اطلاع آئی ایس آئی نے امریکا کو دی تھی؟

2۔ اس وقت دنیا کے مطلوب ترین دہشتگرد کو زندہ یا مردہ گرفتار کر کے پاکستان کو جو نیک نامی، شہرت اور آف کورس ڈالرز ملتے، انہیں مدنظر رکھتے ہوئے کیا یہ مناسب نہیں تھا کہ انٹیلی جنس شئیرنگ کی بجائے ہم آپریشن خود کرتے؟

3- امریکیوں نے ہماری اطلاع پر ایبٹ آباد پہ حملہ کیا اور ہمیں بتانا تک ضروری نہ سمجھا؟ یا پھر امریکہ نے بھی انٹیلی جنس شئیرنگ کی تھی، اس وقت عوام کو بتانا مناسب نہ سمجھا گیا؟

4- اگر یہ حملہ ہمیں بتائے بغیر بھی کیا گیا تھا تو کیا اس وقت اسے اون کر لینا ہمیں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر سبکی سے بچا نہیں سکتا تھا؟

5- کیا وجہ تھی کہ اس وقت کے وزیراعظم نے ابتدائی بیان میں امریکا کو مبارکباد دی اور بعد میں فوج کے سخت ردعمل پر احتجاج کر ڈالا؟ اگر فوج کے مایہ ناز ادارے کی اطلاع پر یہ کارروائی ہوئی تھی تو کیا اس وقت کے صدر اور وزیراعظم اس بات سے آگاہ تھے؟

6- اس واقعے کے بعد شاید ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ آئی ایس آئی کے نمائندے نے پریس کو بریفننگ بھی دی تھی، جس میں اسامہ بن لادن کی موجودگی سے لاعلمی کا اظہار کیا گیا تھا؟ اگر وہ سچ تھا تو پھر آج جو کچھ وزیراعظم نے فرمایا کیا وہ جھوٹ ہے؟

7- ہمارے موجودہ سر تا پا احتسابی چیئرمین اس وقت ایبٹ آباد تحقیقاتی کمیشن کے سربراہ تھے۔ یہ اطلاع کیا ان سے بھی خفیہ رکھی گئی تھی؟

8- کیا القاعدہ اور دنیا بھر کی دیگر انتہاپسند تنظیموں کے ردعمل کے خوف سے خود کو لاعلم ظاہر کیا گیا تھا؟

9- شکیل آفریدی کا اس معاملے میں کیا کردار تھا؟ اگر اطلاع دینے والی سرکاری خفیہ ایجنسی تھی تو اس شخص کو کس جرم میں قید کیا گیا، کیا وہ ڈبل ایجنٹ تھا؟

10- وزیراعظم نے فرمایا کہ ہم خود آپریشن کرنا چاہتے تھے مگر امریکا نے ہمیں بتائے بغیر ایبٹ آباد پہ حملہ کر دیا۔ ایسی صورت میں اگر ہم اس وقت یہ بات منظرعام پر لے آتے کہ امریکا کو ٹپ ہم نے دی تھی، تو کیا دنیا بھر میں ہمیں جو سبکی اٹھانا پڑی تھی، ہم اس سے بچ نہیں سکتے تھے؟

11- امریکا کا ایبٹ آباد پر حملہ پاکستان کی خودمختاری اور جغرافیائی حدود کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی، اس واقعے نے عوام کا مورال ڈاؤن کر دیا تھا۔ بین الاقوامی سطح پر ہمیں مظلوم ہونے کے باوجود دفاعی پوزیشن پر جانا پڑا، بھارت اور دنیا بھر کے میڈیا نے اس معاملے کو لے کر پاکستان، ہماری مسلح افواج اور حکومت کو جی بھر کے رگیدا۔ اگر اتنے سنگین اور حساس واقعے پر اتنا بڑا سچ ہم سے آج تک چھپایا جاتا رہا اور اب بھی پاکستانی وزیراعظم نے پاکستان میں اپنے عوام یا میڈیا کے سامنے نہیں بلکہ واشنگٹن میں امریکی چینل کو انٹرویو میں اس کا انکشاف فرمایا، تو اور کن کن معاملات پر ہمیں ادھورے اور آدھے سچ پہ قناعت کرنا پڑتی ہے؟

12- اور اگر اس وقت ہمیں سچ بتایا گیا تھا تو کل جناب وزیراعظم کو جھوٹ بولنے کی ضرورت کیوں پیش آئی؟

متعلقہ مضامین