سینیٹ میں تحریک کامیاب ہو جائے گی؟

سینیٹر کہدہ بابر

وطن عزیز کی سیاسی صورتحال گزشتہ کچھ ماہ سے تیزی کا شکار ہے۔ اپوزیشن کی مختلف جماعتوں کی اپنی اپنی ترجیحات اور تحفظات ہیں۔ اپوزیشن جماعتیں یوں تو کئی دفعہ اکٹھی ہو کر بیٹھی ہیں لیکن کوئی مستقل تحریک یا گرینڈ اپوزیشن الائنس کا روپ دھارنے میں ناکام رہی ہیں۔ البتہ ایک نکتہ جس پر اپوزیشن جماعتوں کے قائدین کم از کم متفق ہو گئے وہ یہ کہ چونکہ سینیٹ میں اپوزیشن کی 66 ارکان کی اکثریت ہے لہذا چئیرمین سینیٹ کو تبدیل کیا جائے۔

پیپلز پارٹی اور بلاول بھٹو جن کا صادق سنجرانی کو چئیرمین سینیٹ بنوانے میں کلیدی کردار رہا تھا یکایک اپنی ہمدردیاں تبدیل کر بیٹھے۔ پہلے کوشش کی گئی کہ راجہ ظفر الحق کو چئیرمین سینیٹ کے لئے نامزد کیا جائے لیکن جب حکومتی اراکین نے بلوچستان سے چئیرمین سینیٹ ہونے کا موقف اپنایا تو مجبوراً اپوزیشن کو بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے سینیٹر کو چئیرمین سینیٹ کے لئے نامزد کرنا پڑا جو اس سے قبل سینیٹ میں ہی اپنی تقریر کے دوران سینیٹ میں بیٹھنا شرمناک قرار دے چکے ہیں۔ اور سب سے اہم بات اپوزیشن ابھی تک موجودہ چئیرمین سینیٹ کے خلاف کسی بھی قسم کی چارج شیٹ پیش کرنے میں مکمل طور پر ناکام رہی ہے.

بظاہر اپوزیشن کے پاس چئیرمین سینیٹ کو ہٹانے کی اکثریت با آسانی موجود ہے اور بادی النظر میں ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اپوزیشن اپنے مقصد میں کامیاب ہو جائے گی لیکن اس ساری جنگ کا ایک پہلو اور بھی ہے۔ موجودہ چئیرمین سینیٹ صادق سنجرانی نے تقریباً ڈیڑھ سال سینیٹ کی کاروائی چلائی ہے، اس عرصہ کے دوران قانون سازی جیسے پیچیدہ امور سے لے کر غیرملکی وفود کے استقبال تک کو بخوبی نبھایا ہے۔ اس کے ساتھ سینیٹ میں موجود ہر رکن کے ساتھ ایک ذاتی تعلق بھی بنایا ہے۔ چئیرمین سینیٹ کا دفتر ہر سینیٹر کے لئے چاہے اس کا تعلق کسی بھی سیاسی پارٹی سے ہو ہر وقت کھلا ہے۔ صادق سنجرانی نے بہت سے سینیٹرز کے حلقوں کے مسائل اپنی ذاتی دلچسپی کی وجہ سے حل کروائے۔ ان کی مخصوص مسکراہٹ جس کی تعریف معروف اینکر حامد میر نے اپنے پروگرام میں بھی کی، کا جواب بھی ابھی تک اپوزیشن کے پاس نہیں۔

صدر پاکستان عارف علوی صاحب نے یکم اگست کو سینیٹ کا اجلاس بلانے کی منظوری دے دی ہے اور یقیناً یہ دن پاکستان کی سیاسی تاریخ کے لئے بڑا اہم ہوگا۔

اپوزیشن کی نمبر گیم زیادہ ہے بالکل اسی طرح جس طرح تاریخ کے صفحات میں میدان کربلا کا منظر تھا، یزید کی فوج کی تعداد زیادہ تھی، حسینی تعداد میں کم تھے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے حر بن یزید تمیمی نے اکثریتی گروہ کو چھوڑ کر اقلیت میں شمولیت اختیار کی اور تاریخ میں اپنا نام رقم کر دیا۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ چئیرمین سینیٹ کے خلاف چارج شیٹ کی عدم موجودگی میں یکم اگست کو کتنے سینیٹرز سنتِ حر کو زندہ کرتے ہوئے ضمیر کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے تحریک عدم اعتماد کو ناکام بناتے ہیں۔ شاید اس بار حر کی حسینیوں کے ساتھ شمولیت کربلا کا نقشہ بدل کر نئی تاریخ رقم کر دے۔

متعلقہ مضامین