پاک افغان تعلقات کی بہتری کیسے؟

عرصہ دراز سے سننے میں آرہا ہے کہ افغانستان ایک میدان جنگ ہے وہاں جو بھی حملہ آور جاتا ہے اس کی واپسی ناممکن ہوتی ہے۔ پاکستان اور افغانستان کے کئی شہری ایک دوسرے سے نفرت کرتے ہیں تاہم اس نفرت کی وجوہات آج تک معلوم نہ ہوسکیں۔

افغانستان، پاکستان کا ہمسایہ ملک ہے اوراس کی سلامتی اور تر قی پاکستانی کی ترقی و خوشحالی میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ نفرت اتنی گہری ہو چکی ہے کہ کرکٹ کے میدانوں تک پہنچ گئی ہے، حالیہ پاک افغان میچ کے دوران دونوں جانب سے جس نفرت کا اظہار کیا گیا، سوشل میڈیا پر نفرت انگیز اور اشتعال انگیز مواد کی تشہیر ہوئی اس کی مثال نہیں ملتی۔ بات کرکٹ کی ہو رہی ہے تو کچھ تلخ حقائق سامنے رکھنا ہوں گے۔

کرکٹ کے میدان میں دیرینہ ترین رقابت آسٹریلیا اور انگلینڈ کی ہے۔ جب بھی یہ دونوں ٹیمیں آمنے سامنے ہوتی ہیں تو جذبات کا طوفان امڈ آتا ہے، میچ کے موقع پر کافی کچھ ایسا سننے اور دیکھنے کو ملتا ہے جس کا شرفاء کے اس کھیل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ اس کے بعد دوسری بڑی رقابت پاکستان اور انڈیا کی ہے، ان کا میچ تو کرکٹ سے کہیں بڑھ کر ہے۔ میڈیا بھی اس جنگ کو خوب تڑکے لگا تا ہے۔مگر اب جو نئی رقابت اس میدان میں سامنے آئی ہے، وہ پاکستان اور افغانستان کی ہے۔

میچ دیکھتے دیکھتے ہی انسا ن اس کیفیت میں مبتلا ہوجاتا ہے کہ اب لڑائی شروع ہوجائے گی۔ متعدد موجودہ اور سابقہ افغان کھلاڑی پاکستان میں افغان پناہ گزین کیمپس میں پید ا ہوئے۔ پشاور کی گلیوں میں پلے بڑھے اور پی سی بی کے طفیل بعض تو پاکستان ڈومیسٹک کرکٹ میں بھی حصہ لے چکے ہیں۔محمد شہزاد کا تو سسرال بھی پشاور میں ہے۔ پاکستانی کرکٹرز، پی سی بی اور شائقین کی اکثریت کا یہ خیال ہے کہ اس امر پر افغان قوم کو پاکستان کا شکرگزار ہونا چاہئے کیونکہ بہرحال اگر پاکستان کی اس قدر اخلاقی و تکنیکی معاونت میسر نہ ہوتی تو افغان کرکٹ اتنی جلدی ٹاپ ٹین تک رسائی حاصل نہ کر پاتی۔ہمیں چاہئے جو بھی ہوا اسے بھول جا نا چاہئے اور نئے اچھے دور کا اغاز کر نا چاہئے۔

کچھ دن قبل پاکستان کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے صحافی دوستوں کے ہمراہ کابل جانے کا پروگرام بنا۔سب دوستوں کے سا تھ خوشی خوشی سے تیاریاں کر رہا تھا لیکن دل میں ایک خوف کا عالم تھاکیونکہ سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا پر افغانستان کی جوصورت دکھائی جاتی ہے، اس کے بعد انسان کا خوف میں مبتلا ہونا جائز ہے۔ لیکن سب باتوں کو نظراندازکرتے ہوئے افغانستان کے لئے روانہ ہوئے۔ ائیرپورٹ کے انتظامات قابل تعریف تھے۔ باہر آتے ہی شایان شان طریقے سے استقبال کیا گیا۔ وہ منظر قابل دید تھا کیونکہ ہمارے دلوں میں کابل افغانستا ن کا نقشہ دہشت گردی،جنگ اور کشیدگی کا عکس رکھتا تھا۔ائرپورٹ پر افغان دوستوں نے سلام کے بعد پھولوں کا تحفہ دیا کیونکہ پھول امن اور پیا ر کی نشانی ہے۔ان مناظر کو دیکھ کر دل سے خوف دھیرے دھیرے ختم ہوتا جا رہا تھا۔

افغانستان کے دورے کے دوران میری کوشش تھی کہ زیادہ سے زیادہ وقت افغانستان کے نوجوان طلبا و طالبات کے ساتھ گزاروں، کیونکہ ملک کی سلامتی، دوستانہ ماحول اور معاشرتی ترقی میں نوجوانوں کا اہم کردار ہوتا ہے۔پہلے دن ایک تقر یب میں افغانی طالب علم سے پوچھا کہ پاکستان کے حوالے سے آپ لوگ کس قدر سوچتے ہیں اور آپ چاہتے ہیں کہ آپ پاکستان وزٹ کریں؟جافری اوروریخ مینہ نے کہا کہ ہم پاکستان جانا چاہتے ہیں لیکن پاکستان ایک امن پسند ملک نہیں ہے کیونکہ وہ افغانستان کے ساتھ دوستانہ تعلقات نہیں رکھنا چاہتے اور افغانستان میں دہشت گردی اور میدان جنگ کا سماں ہے اس کا ذمہ دارہم کافی حد تک پاکستان کو سمجھتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ ہر روز پاکستانی میڈیا پر اپنے ملک کے بارے میں نیوز دیکھ کرافسوس کرسکتا ہوں۔ افغانستان اب پرامن ملک ہے لیکن کیوں دنیا کے سامنے اس طرح پیش کیا جارہا ہے یا وہ لوگ ہماری خوشی اور سلامتی نہیں چاہتے۔ ایک گھنٹے سے زیادہ وقت جافری کے ساتھ گزرا۔ جب وہ خاموش ہوگیا تو پاکستان کے قوانین اور پاکستان جو افغانستا ن کے لئے کرنا چاہتے ہیں ان کے حوالے سے تفصیل سے بات کی۔ تو وہ بھی دھیرے دھیرے پاکستان کی قربانیوں کو قبول کرنے لگا۔ اب یہ بات عیاں ہے کہ مسائل کا حل صرف بات چیت کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

پاکستان سے افغانستان جانے والے ٹیم کو ایک، دو روز تک مشکلات کا سامنا رہا۔ اور وہ بھی صرف ا ختلافات کی حد تک کیونکہ افغان دوست صرف اندھیروں میں تیرچلانے کا ہنر رکھتے تھے جب ان کے ساتھ دو، تین دن گزارے تو ہمیں پتہ چلا کہ واقعی افغانی امن پسند اور مہمان نواز لوگ ہیں۔ لیکن مسلہ صرف شعور کا ہے اور حقائق کو جاننے کا ہے۔

پاکستان اور افغانستان کا تعلق کافی حد تک ٹھیک ہو سکتا ہے لیکن اگر حکومت سنجیدگی اور دلچپسی سے کا م لے۔کیونکہ افغانستا ن کے لوگو ں سے مل کر ہمیں اندازہ ہو چکا ہے کہ افغانستان کے لوگ اور ادارے پاکستان سے اچھے تعلقات کے خواہش مند ہیں۔ پاکستان کوافغانستان کے لئے اہم اقدامات اٹھانے کے ضرورت ہے۔پاکستانی سیاسی وسماجی شخصیات،صحافی اور خصوصی طلباو طالبات کے لئے افغانستان کے ایکس چینج پروگرام کو لازمی قرار دیا جائے کیونکہ نوجوانوں کا ملک میں ایک اہم کردار ہے اور وہ پاک افغان تعلقات پر کافی حدتک مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں۔

افغانستان کے زیادہ تر تجارتی حلقے بھی پاکستان کی جانب سے عائد کردہ اعلانیہ اورغیر اعلانیہ پابندیوں پرنالاں ہیں اور اس وجہ سے وہ پاکستان کی بجائے ایران اور وسطی ایشیائی ریاستوں سے تجارت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ضیا ء الحق سرحدی نے کہا کہ اب پاکستانی حکام نے افغان تاجروں کو زیادہ سے زیادہ مراعات دینے کا فیصلہ کیا ہے جس پر وہ مطمئن ہیں۔ اس سے دو طرفہ تجارت کو فروغ حاصل ہوگا۔ دونوں ہمسایہ ملکوں کے درمیان دو طرفہ تجارت کے فروغ میں سرحدی علاقوں میں آباد قبائل اہم کردار ادا کرسکتے ہیں مگر پاکستان کی جانب سے ان کی سرحد کے ٓارپار آزادانہ آمد و رفت پر پابندیوں کے باعث وہ پریشان ہیں۔ یہ چیز دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کو متاثر کرتی ہیں۔

حال ہی میں افغانستا ن کے صدر اشرف غنی پاکستان کے دو روزہ دورے پر آئے تھے۔ انہوں نے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور وزیراعظم عمران خان سے ملاقات کی ۔افغان صدر ساڑھے تین برس کے وقفے کے بعد پاکستان کا سرکاری دورہ کر رہے تھے۔ اس سے پہلے اشرف غنی افغانستان کے صدر منتخب ہونے کے فوراً بعد نومبر 2014میں پاکستان کے دورے پر آئے تھے۔ دسمبر 2015میں بھی ہارٹ آف ایشیا استنبول پراسیس کے اجلاس میں شرکت کے لئے بھی ان کی آمد ہوئی تھی۔

پاک افغان دوستی کے نئے باب کا آغاز خوش آئند ہے۔ پاکستان افغان امن عمل کی مکمل سپورٹ کرتا ہے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں افواج پاکستان سمیت دیگر سیکورٹی فورسز اور عوام ہزاروں قربیاں دے چکے ہیں یہ دہشت گرد اور ان کے سہولت کار کسی ایک ملک یا قوم کے نہیں بلکہ انسانیت کے دشمن ہیں۔خطے میں امن کے قیام کیلئے ان کا خاتمہ لازم ہوچکا ہے۔ مضبوط پاکستان کیلئے مضبوط اور پرامن افغانستان بھی لازم ہے۔ ہم افغانستان کی ترقی اور امن کیلئے ان کا ہر قدم پر ساتھ دے رہے ہیں۔ بدقسمتی سے خطے میں دہشت گردی سب سے بڑا مسئلہ بن چکی ہے جس کے خلاف افواج پاکستان کے افسروں اور جوانوں کے علاوہ عوام نے بھی قربانیاں دی ہیں۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ دہشت گردی کے خلاف پاکستان جو جنگ لڑ رہا ہے افغانستان سمیت خطے کے تمام ممالک بھی اس جذبے کے ساتھ دہشت گردی کا خاتمہ کریں تاکہ خطے کو دہشت گردی سے مکمل طورپر پاک ہوجائے اورامن کا گہوارہ بن سکے۔

پاکستان اور افغانستان کے حالیہ مذاکراتی عمل میں افغان صدرکادورہ پاکستان اہمیت کا حامل ہے کہ دونوں اطراف کی سیاسی اور عسکری قیادت کو سمجھنا ہوگا کہ مسئلہ کا حل مذاکرات سے جڑا ہے اور افغان طالبان، افغان امن لئے کنجی کی حیثیت رکھتے ہیں۔ پاکستان اس مسئلہ کا پرامن حل چاہتا ہے اور افغان فریقین اس مسئلہ میں پاکستان کے ساتھ مل کر خطہ کی سیاست میں مثبت کردار ادا کر سکتے ہیں

متعلقہ مضامین