سینیٹ الیکشن میں آئین سے انحراف ہوگا؟

عبدالجبار ناصر

کسی بھی مہذب معاشرے قانونی اور اخلاقی طور پر زبان سے نکلے یا لکھے ہوئے ایک ایک لفظ کی اہمیت ہوتی ہے اور اسی کی بنیاد پر انسانی شخصیت کا ایک نقشہ بنایا جاتاہے۔ بطور مسلمان ہم پر اس کی زمہ داری اس لئے بھی زیادہ عائد ہوتی ہے کہ ہمارے مذہب میں اس کو بہت ہی اہمیت دی گئی ہے، مگر افسوس کہ اسلام کے نام پر قائم ہونے والی ریاست میں حکومتی سطح پر بدعہدی، وعدہ خلافی، بے وفائی کی ترویج اور اس کی ترغیب دی جاتی ہے۔

یکم اگست کو سینیٹ آف پاکستان کے چیئرمین محمد صادق سنجرانی کے خلاف اپوزیشن اور ڈپٹی چیئرمین سینیٹ سلیم مانڈوی والا کے خلاف حکومتی عدم اعتماد کی تحاریک پر رائے شماری ہوگی ۔ ظاہری اعداد و شمار کو مدنظر رکھیں تو 104 کے ایوان میں سے ایک رکن نے حلف نہیں اٹھا یا ہے ۔ جماعت اسلامی کے 2 ارکان نے غیر جانبدار رہنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ باقی 101 ارکان میں سے اپوزیشن ارکان کی تعداد 65 اور حکومتی اتحادی ارکان کی تعداد36ہے۔

چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے لئے کل ایوان کی سادہ اکثریت یعنی 104 میں سے 53ارکان کی حمایت درکار ہوتی ہے، یعنی صادق سنجرانی کی چیئرمین شب کو بچانے اور ڈپٹی چیئرمین سلیم مانڈوی والا کو ہٹانے کے لئے حکومت کو مزید 17ارکان کی حمایت درکار ہے۔ قواعد کے مطابق اپوزیشن کے پاس چیئرمین کو ہٹانے اور ڈپٹی چیئرمین شب کو بچانے کے لیے مطلوبہ تعداد سے زائد ووٹ ہیں۔چیئرمین کو ہٹانے کے لئے 53ووٹ اپوزیشن اور ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے کے لئے 53ووٹ حکومت نے پورے کرنے ہیں۔ حکومت کےپاس فی الحال صرف 36 ووٹ ہیں اور مزید 17 کی ضرورت ہے، جو یقیناً اپوزیشن سے توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہی ہے۔

کسی بھی مہذب معاشرے میں ایسی صورتحال ہوتو عہدیدار خود عہدے سے الگ ہوتے ہیں کیونکہ واضح فرق ہے ، مگر یہاں وزیر اعظم پاکستان خود ڈٹ جائو پر لگے ہوئے ہیں۔ حکومتی وزراء ایک طرف ریاست مدینہ بنانے کے دعویدار ہیں اور دوسری طرف اسلامی ، قانونی اور اخلاقی اصولوں کی پامالی میں مصروف نظر آرہے ہیں ۔وزیر اعظم عمران خان اور تحریک انصاف پر اس لئے زیادہ زمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ مدینہ کی اسلامی فلاحی ریاست کی طرز پر ریاست بنانے کے دعویدار ہیں۔

سینیٹ آف پاکستان(ایوان بالا) ملک کا سب سے بڑا عوامی فورم ہے اور یہ ملک کا واحد فورم ہے جہاں پر پونے دو کروڑ آبادی والا صوبہ بلوچستان ہو یا 12 کروڑ آبادی والا صوبہ پنجاب یا دیگر صوبے سب کی یکساں نمائندگی ہے ۔اس منزل تک پہنچنے والے ممبران پورے ملک کا نچوڑ یا خلاصہ یا 22کروڑ عوام کی عملی تصویر ہوتے ہیں۔ ہمارے ملک میں یوسی ، تحصیل ، تعلقہ ، ضلع یا شہری حکومتوں کے10 ہزار اداروں میں عوام لاکھوں افراد کا ووٹ کی پرچی کے ذریعے انتخاب کرتی ہے ، مگر ان لوگوں کی نیک نامی اور بد نامی کے مثبت اور منفی اثرات اپنے اپنے متعلقہ حلقوں کی تک ہوتے ہیں۔تقریباً یہی پوزیشن چاروں صوبائی ، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی اسمبلیوں کے 838(پنجاب 371،سندھ 168، خیبر پختونخوا139،بلوچستان 65،آزاد کشمیر49، گلگت بلتستان 34،[آزاد کشمیر کونسل 6، گلگت بلتستان کونسل 6]) ارکان ہیں ۔ ان کے اچھے اور پرے کے اثرات اپنے صوبے یا انتظامی حدود تک ہوتے ہیں ، مگر قومی اسمبلی کے 342اور سینیٹ کے 104ارکان کی نیک نامی یا بدنامی کے اثرات ملک پر پڑتے ہیں۔اس میں سینیٹ آف پاکستان کو سب سے زیادہ اہمیت ہے ۔

افسوس اس بات کا ہے کہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سینیٹ چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے خلاف عدم اعتماد کی تحاریک کے دوران تمام شرعی احکام ، آئینی اور اخلاقی قدروں کو توڑتے ہوئے ہم انتہائی پستی کی جانب جانا چاہتے ہیں۔ یہ کوشش بھی وہ بھی لوگ کر رہے ہیں ،جو ملک میں اسلامی فلاحی ریاست مدینہ کے ماڈل کو اپنانے کے دعویدار ہیں ۔ سینیٹ کے ہر ممبر نے اپنی جماعتوں سے ممبر سازی فارم کے میں ایک وعدہ کیا ہوا ہے اور حلف نامے پر دستخط بھی کرتاہے ، اب مجبور کیا جا رہا ہے کہ حلف اور وعدہ توڑ کر بے وفائی کرو ، حالانکہ اسکے حوالے سے آئین کے آرٹیکل 63(الف)میں بہت ہی وضاحت موجود ہے۔ اس کے باوجود حکومت اور اپوزیشن کی جانب سے کسی بھی فورم میں ایک دوسرے کے منتخب نمائندوں کو توڑنے کی کوشش اس فرد ، جماعت ، گروہ یا حکومت کی شرعی ، قانونی اور اخلاقی روایات سے انحراف اور ان لوگوں کے اخلاقی زوال و پستی کی نشانی ہے ۔ ممکن ہے کہ حکومت اپوزیشن کے 17 ممبران کو دبائو، لالچ یا کسی اور وجہ سے خرید کر سینیٹ کی چیئر مین شب بچا نے اور ڈپٹی چیئرمین کو ہٹانے میں کامیاب ہوجائے ،مگر اس کا منفی پیغام کہاں تک جائے گا اور اس کے دنیا بھر میں کتنے منفی اثرات مرتب ہونگے کیا ہم نے کبھی اس پر غور کیا ہے ؟ اسلام میں حلف توڑنے پر کیا احکام ہیں اس پر غور کیاہے ؟ اسلام اور انسانی معاشرہ وعدہ خلاف اور بے وفا کے بارے میں کیا کہتا ہے اس کو دیکھا ہے؟
یہ معاملہ افراد کا نہیں بلکہ 22کروڑ عوام کے اعتماد و اعتبار کا ہے ۔ چند افراد اپنے ضمیر کا سودا کرکے حکومت یا اپوزیشن کی مشکل کو آسان تو کر لیں گے مگر کیا مہذب دنیا میں ہمارے پاس اس کا کوئی شرعی ،قانونی اور اخلاقی جواب ہوگا؟ یہ سوال بھی کہ جو شخص حلف اور وعدے کو چند ٹکوں کے لئے توڑے یا جو اس خریدو فروخت کا حصہ بنے کیا وہ صادق و امین کہنےکا حقدار ہے ؟

ہم آج جس اخلاقی زوال و پستی کا شکار ہیں اس میں اس بات کی بھی ضرورت ہے کہ پارلیمنٹ مزید سخت قانونی سازی کرتے ہوئے وفاداری تبدیل کرنے والوں کو تا حیات نا اہل قرار دے ،کیونکہ یہی لوٹے معاشرے کی تمام برائیوں کی جڑ ہے ۔ کسی کو کسی جماعت یا گروہ سے زیادہ محبت و پیار یا نفرت یا اختلاف ہے تو وہ پہلے اپنی نشست خالی کرے اورپھر کسی اور جماعت کا حصہ بنے ۔ وزیر اعظم عمران خان اور انکی جماعت سے اس لئے بھی شکوہ ہے کہ وہ ریاست مدینہ کے دعویدار ہیں ۔ وزیراعظم عمران خان اور ان کے ساتھی طاقت کے گھمنڈ یا کسی کی حمایت سے ماضی کی منفی غیر اسلامی ، غیر قانونی اور غیر اخلاقی روایات کو مزید جلا بخشنا چاہتے ہیں تو پھر’’خدارا ! مدینہ کی مقدس ریاست‘‘ کا نام نہ لیں۔ اس مقدس نام کو بد نام نہ کریں ۔

اگر حکومت نے لوٹا کریسی کا فیصلہ کر ہی لیا ہے تو پھر ریاستی اداروں کو بھی چاہئے کہ وہ کوئلہ کی اس کان میں گھسنے کی کوشش نہ کریں ورنہ نیک نامی کسی اور اور بدنامی ان اداروں کے حصے میں آئے گی۔

متعلقہ مضامین