اپوزیشن نمائشی گھن گرج سے’پرہیز‘ کرے!

سینٹ میں چیئرمین کے خلاف تحریک عدم اعتماد ناکام بنا دی گئی۔ متحدہ اپوزیشن واضح برتری رکھنے کے باوجود صادق سنجرانی کو نہ ہٹا سکی۔ ووٹنگ کے نتائج نہ صرف یہ کہ انتہائی غیرمتوقع بلکہ دھماکہ خیز بھی ثابت ہوئے۔ اس شکست نے اپوزیشن کو بری طرح ہلا دیا ہے اور اب یہ امر بالکل روز روشن کی طرح عیاں ہو چکا ہے کہ حکومت بے حد ’مضبوط‘ وکٹ پرکھیل رہی ہے اورحزب اختلاف کی جماعتیں اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں۔

حکومت اوراپوزیشن کے درمیان یہ پہلا بڑا ٹاکرا تھا، اگرچہ بجٹ کی صورت میں حکومت قومی اسمبلی میں بھی اپنی برتری دکھا چکی تھی لیکن دوبدو مقابلے کا یہ پہلا معرکہ تھا جس میں اپوزیشن شدید ہزیمت سے دوچار ہوئی ہے۔

گزشتہ روز جب تحریک ایوان میں پیش کی گئی تو 64 ارکان سینٹ نے کھڑے ہو کراس پر رائے شماری کی حمایت کی لیکن خفیہ رائے شماری میں صرف 50ارکان کے ووٹ حاصل ہوسکے، گویا ’خفیہ‘ نے نہ صرف اس پورے معاملے میں کلیدی کردار ادا کیا بلکہ سب کچھ ’عیاں‘ بھی کر دیا، اگر یہ بات مزید صراحت سے کہی جائے تو یہ کہنا چاہئے کہ طاقت کا سرچشمہ عیاں ہو چکا ہے۔ 5 مسترد ووٹ بھی ایک بڑاسوال ہے۔اگر قانون سازوں کو ووٹ ڈالنا ہی نہیں آتا تو پھر ان کی کریڈیبلٹی کیا رہ جاتی ہے۔

اب حزب اختلاف کواپنے بارے میں سوچنا ہوگا، اس معاملے میں حکومت کو بھی ’اخلاقی‘طعنے دیئے جاسکتے ہیں لیکن بہتر یہی ہوگا کہ اپوزیشن اپنی پوزیشن کا فیصلہ کرلے کہ درحقیقت اس نے کرنا کیا ہے۔

چیئرمین سینٹ کے انتخاب میں جب چیئرمین سینٹ کو لایا گیا تھا توان کا انتخاب اتنا ہی غیرمتوقع اور حیران کن تھا جتنا اب ان کا بچناباعث استعجاب ہے۔ اگر اپوزیشن اس معاملے میں حکومت کو اخلاقیات کے طعنے دینے جا رہی ہے تو پہلے اسے اپنے اس کردار پر بھی ضرورغور کر لینا چاہئے بالخصوص پیپلزپارٹی کو جو اس نے 2018ء میں ادا کیا تھا، پی پی کی حمایت سے ہی سنجرانی اس عہدے پر فائز ہوئے تھے۔ اس تناظرمیں ”اخلاقیات“ کے طعنے قطعی بے تکے ہوں گے۔

’کرشماتی‘عمران خان کے مقابلے میں نوجوان بلاول اور مریم نواز کو بہت عبرت ناک شکست ہوئی ہے۔ اب ہارس ٹریڈنگ کا واویلا اور خلائی مخلوق یا سلیکٹرز کی اصطلاحات کا استعمال قطعی طور پر بے محل اور فضول ہوگا۔ سلیکٹرزحکومت کے ساتھ کھڑے ہیں اور مخالفین کا دم خم کچھ بھی نہیں۔

اپوزیشن یہ حقیقت سمجھ لے۔ اگر اپوزیشن کے پاس کمزور گھوڑے ہیں تو اسے نمائشی گھن گرج سے پرہیزکرناچاہئے۔ سیاست دانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ انہوں نے روزاول سے ہی سیاسی اداروں کو مضبوط بنانے پر توجہ نہیں دی تھی اور کم ازکم، گزشتہ برس تک بھی، ان کی روش یہی تھی جب سینٹ کے چیئرمین کا انتخاب ہوا تھا اور نواز لیگ رضاربانی کی حمایت پر تیارتھی لیکن پیپلزپارٹی نے اس کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کرسنجرانی کوعہدہ دلوا دیا۔ اس وقت بھی سب کو پتا تھا کہ سنجرانی درحقیقت کس کا بندہ ہے۔

درحقیقت یہ معاملہ ادلے کا بدلہ کے مصداق پیپلزپارٹی کے لیے ایک تازیانہ ہے کیوں کہ اپنے لائے ہوئے چیئرمین کوایک روز پہلے بلاول نے ازخود مستعفی ہونے کا مشورہ دیا تھا اور کہا تھا کہ جانا توآپ نے ویسے بھی ہے لیکن ووٹنگ میں جوکچھ ہوا اس نے مستقبل کے لیڈرکودم بخودکرکے رکھ دیا،ا س لیے بھی اخلاقیات کے طعنے دینا مناسب نہیں ہوگا۔ لیکن اس کی ایک اوربڑی وجہ بھی ہے اوروہ یہ کہ ماضی میں عمران خان خفیہ رائے شماری کی برملا مخالفت کر چکے ہیں۔

2 فروری 2015ء کوانہوں نے ٹویٹ کی تھی :Secret balloting for senate elections is an insult to parliament & undermines party-based democracy۔

چنانچہ اب ان کے سامنے اخلاقیات کی بات کرنا تیکنیکی طور پر بھی بے فائدہ ہوگا۔

متعلقہ مضامین