انڈیا نے کشمیر کو ’بکتر بند‘ بنا دیا

انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں انٹرنیٹ کی سہولت معطل کرتے ہوئے سابق وزرائے اعلی محبوبہ مفتی اور عمر عبداللہ کو نظر بند کر دیا گیا ہے۔

حکام نے ریاست کے بڑے علاقے کو وقت میں بند کر دیا ہے جبکہ فوجیوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ کیا ہے۔

انڈین حکومت نے بڑے شہروں میں دفعہ 144 نافذ کرتے ہوئے نیشنل کانفرنس کے رہنما عمر عبداللہ، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی محبوبہ مفتی اور جموں کشمیر پیپلز کانفرنس کے صدر سجاد لون کو ان کے گھروں میں نظربند کر دیا ہے۔

خبر رساں اداروں کے مطابق حکام نے انڈیا کے زیر انتظام کشمیر میں تمام تعلیمی اداروں کو تا حکم ثانی بند کر دیا ہے۔

دفعہ 144 کے تحت لوگوں کی نقل و حرکت پر پابندی عائد ہو گی اور تمام تعلیمی ادارے بھی بند رہیں گے۔ حکام نے سری نگر سمیت پوری وادی کشمیر میں موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس کو بھی بند کر دیا ہے۔

انڈین حکومت نے کشمیر میں ہزاروں اضافی فوجیوں کو بھی کو تعینات کر دیا ہے۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق ریاستی حکام نے پیر کی صبح کشمیر کے بڑے حصے کو حالیہ کشیدگی کے بعد بند کر دیا ہے۔ اس سے پہلے انڈیا نے لائن آف کنٹرول پر پاکستانی فوج کے ساتھ جھڑپوں کا دعویٰ کیا تھا۔

خیال رہے کہ حالیہ کشیدگی اس وقت شروع ہوئی جب گذشتہ 10 روز کے دوران انڈیا نے کشمیر میں 10 ہزار اضافی فوجی دستے تعینات کیے۔ 

انڈیا کے ذرائع ابلاغ اور عالمی خبر رساں اداروں نے سیکورٹی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ کشمیر میں مزید 70 ہزار مزید فوجی دستے بھی کشمیر کی جانب بھیج دیے گئے ہیں۔

ادھر اسلامی ممالک کی تنظیم (او آئی سی) نے مقبوضہ اور آزاد کشمیر میں بگڑتی ہوئی صورت حال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے اپنی ذمہ داری ادا کرے۔

انڈیا کی قومی سلامتی کے مشیر اجیت کمار ڈوبال نے گشتہ ہفتے غیر اعلانیہ طور پرسرینگر کا دورہ کیا تھا جہاں انھوں نے پولیس، فوج اور خفیہ اداروں کے اعلیٰ اہلکاروں کے ساتھ سیکورٹی کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا تھا۔

کنٹرول لائن کے آر پار کشمیر میں یہ افواہیں گرم ہیں کہ مرکزی حکومت ریاست کو خصوصی درجہ دینے والی دفعہ 35 اے کو ختم کرنے کی تیاریاں کر رہی ہے۔

ہندوستان کے آئین کی اس شق کے خاتمے کے بعد دیگر ریاستوں کے غیر کشمیری افراد بھی علاقے میں جائیداد خرید کر سکونت اختیار کر سکیں گے جس کی وجہ سے کشمیریوں کو خدشہ ہے کہ ان کی زمینوں، وسائل اور روزگار پرباہر کے لوگ قابض ہو جائیں گے اور وہ اپنے خطے میں اقلیت بن جائیں گے۔

متعلقہ مضامین