بھارت کشمیرمیں 1947ء سے پہلے کی پوزیشن پر!

بھارت نے یک طرفہ طور پر5 اگست 2019ء کو صدارتی حکم نامے کے ذریعے ریاست جموں و کشمیر کے حوالے سے اپنے آئین کے آرٹیکل 370اور اس کے ذیلی آرٹیکلز کا خاتمہ کیا ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ بھارت نے اپنے زیر انتظام کشمیر کی نیم خود مختار پوزیشن کو ختم کرکے بھارتی یونین میں مستقل طور پر ضم کردیاہے اور اپنے مقبوضہ حصے کا معاملہ مستقل حل کردیا ہے، مگر عملاً ایسا نہیں ہے۔ اس کی وجہ 26اکتوبر 1947ء کا انڈیا اور مہاراجہ کشمیر معاہدہ، اقوام متحدہ کی 1948ء اور 1949 کی قراردادیں ، 1952ءکا شیخ عبداللہ اور نہرو معاہدہ ،1957ء میں صدارتی حکم نامے کے ذریعے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 کی شمولیت ، 1954ء کے ذیلی آرٹیکل 35A.، پاک بھارت شملہ معاہدہ سمیت دیگر معاہدے ہیں۔

آرٹیکل 370کے خاتمے کے صدارتی حکم کو بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی اور وزیر داخلہ امیت شاہ کے موقف کی نظر سے دیکھیں تو پھر بھارت اور کشمیر کا تعلق ختم ہوچکا ہے ۔ کیونکہ آئین کا آرٹیکل 370 اچانک نہیں آیا بلکہ یہ 26اکتوبر1947ء سے منسلک ہےجب مہاراجہ کشمیر ہری سنگھ نے نہرو اور سردار پٹیل کے ساتھ بھارت سے مشروط الحاق کیا ۔ مہاراجہ ہری سنگھ کے صاحبزادے ڈاکٹر کرن سنگھ اور معاہدے کے مطابق اس معاہدے میں یہ بات شامل تھی کہ بھارت کے پاس تین شعبے دفاع، خارجہ اور مواصلات ہونگے ۔یہ وہ معاہدہ تھاجس نے بھارت اورکشمیر کو جوڑ دیا اور اسی معاہدے کی بنیاد پر وزیر اعظم نہرو نے کشمیری قیادت کیساتھ 1952 میں طویل مذاکرات کئے اور ایک معاہدہ کیا۔ اسی معاہدے کے ذریعے بھارتی آئین میں آرٹیکل 370 شامل کیا گیا جس میں کشمیر کو بھارتی آئین میں خصوصی حیثیت دی گئی۔

اسی تناظر میں 1954 میں بھارتی آئین میں 370 کا ذیلی آرٹیکل35-A ایک صدارتی حکم کے ذریعے شائع کیا گیا۔ اس آرٹیکل کے تحت ریاست کے باشندوں کی بطور مستقل باشندہ پہچان اور بطورمستقل شہری خصوصی حقوق دیئے گئے۔یہ آرٹیکل بنیادی طور پر مہاراجہ کشمیر کے 1927ء سے 1932 ء تک کے اسٹیٹ سبجیکٹ رول(ای ایس آر)کا تسلسل تھا اور یہ رول مہاراجہ نے عوامی مطالبے پر بنایا تھا کہ دوسری ریاستوں کے لوگ آکر یہاں مستقل شہریت حاصل نہ کرسکیں اور ریاست کے لوگ اقلیت میں تبدیل نہ ہوں۔ سابق وزیر اعلیٰ مقبوضہ کشمیر غلام نبی آزاد کے مطابق اس طرح کے قوانین آج بھی بھارت کی 8 ریاستوں میں ہیں۔

تقسیم کے بعد جب کشمیر ایشو پر پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ ہوئی تو بھارت خود اقوام متحدہ گیا اور21اپریل 1948ء کی قرارداد کے مطابق اقوام متحدہ کے کمیشن برائے انڈو پاک نے 13اگست 1948 ء اور 5 جنوری 1949ء کو دو تاریخی قراردادیں منظور کیں جس میں ریاست کے مستقبل کے حوالے سے رائے شماری کا حق دیا گیا اور بھارت کو مہاراجہ ہری سنگھ کے معاہدے کے مطابق فریق تسلیم کیاگیا ۔ 1966ء کا معاہدہ تاشقند اور 1972ء کا شملہ معاہدہ بھی اسی کا تسلسل ہے ۔

اب بھارتی حکمراں جماعت بی جے پی نے آرٹیکل 370 اور 35 اے کا خاتمہ کرکے کشمیر کو انڈیا میں ضم کردیا ہے تو اس کا یہ مطلب ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ کے معاہدے کے بعدسے اب تک کے تمام معاہدات تحلیل ہوگئے ہیں اور ریاست جموں وکشمیر 5اگست 2019ء کو ایک بار پھر 26اکتوبر 1947ء سے پہلے کی پوزیشن پر چلی گئی ہے اور ریاست جموں و کشمیر سے سوائے غاصبانہ قبضے کے بھارت کا اب کوئی تعلق نہیں ہے اور یہ کہ بھارت نے یک طرفہ طور پر اقوام متحدہ کی قراردادوں کو ختم کردیا یا تسلیم کرنے سے انکار کیا ہے ، جو عالمی معاہدوں کی کھلی خلاف ورزی اوربغاوت ہے۔

ماہرین کے مطابق اگر پاکستان اور کشمیری اس ایشو پربہتر انداز میں کام کریں تو عالمی سطح پر بھارت کے لیے مشکل پیدا ہوسکتی ہے، کیونکہ تقسیم ہندوستان کے بعد تنازع کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ نے دو قراردادیں منظور کیں جن میں کشمیریوں کے حق خود ارادیت کو تسلیم کیا گیا۔ سلامتی کونسل کی قرارداد پر پاکستان اور انڈیا دونوں نے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی استصواب رائے کے ذریعے جموں اور کشمیر کے متنازع علاقے کے الحاق کا فیصلہ کرانے کی یقین دہانی کرائی، مگر نے یک طرفہ طور پر غاصبانہ قبضے کی کوشش کی ہے ، جو عالمی قوانین سے کھلی بغاوت ہے۔

بھارت کے حالیہ یک طرفہ عمل کے بعد کشمیر میں اس کے لیے ’’کلمۂ خیر ‘‘ کہنے یا ’’تائید‘‘ کرنے والا کوئی نہیں ملے گا۔ اب تو بھارت نواز قوتیں بھی عملاً آزادی پسندوں کے موقف کی تائید کر رہی ہیں۔ ڈاکٹر کرن سنگھ ، سابق وزرائے اعلیٰ غلام نبی آزاد ، ڈاکٹر فاروق عبداللہ ، محبوبہ مفتی ، عمر عبداللہ اور دیگر اس وقت بھارتی حکومت کے فیصلے کےخلاف سب سے زیادہ متحرک ہیں۔

اب سوال یہ ہے کہ کیا بھارت نے مقبوضہ کشمیر کو ضم کرنے کا فیصلہ تنہا کیا ہے ؟ بظاہر یہ محسوس ہوتا ہے کہ بھارت نے یہ فیصلہ مشاورت اوربالخصوص امریکی خفیہ اشیر باد کے بعد ہی کیاہے۔ شاید بھارت اور اس کے سرپرستوں کے ذہن میں یہ بات ہوکہ حیدر آباد دکن کی طرح ہڑپ کرلو اور پھر کیونکہ بھارت کو اپنی خارجہ پالیسی اور دنیا سے تعلقات پر ناز بھی ہے۔ شاید بھارت کی یہ کوشش اور خواہش ہو کہ اب بات صرف پاکستان کے زیر انتظام کشمیر پر ہوگی۔ اس صورتحال میں اصل امتحان پاکستان اور اس کی خارجہ پالیسی کا ہے ۔ہرممکن حد تک پاکستان کی تمام سیاسی و مذہبی اور فوجی قیادت کو ملکر بھارتی جارحیت اور ہٹ دھرمی کا مقابلہ کرنا ہوگا۔

ریاست جموں و کشمیر کے پاکستان کے زیر انتظام دو حصوں آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان کی حکومتوں اور مقبوضہ کشمیر کی سیاسی قیادت کو بھی اعتماد میں لینا ضروری ہے ۔ پاکستان کو جوابی کارروائی میں زیادہ تاخیر یا بے جذبات کے مظاہرے سے گریز کرنا ہوگا کیونکہ اب کشمیریوں کے ردعمل پر بھارت کی جانب سے بدترین خون ریزی کا خطرہ ہے ۔ اس وقت کشمیریوں کی نظریں صرف پاکستان پر لگی ہیں اور اب کی بار ہماری کمزوری بدترین ثابت ہوگی۔

متعلقہ مضامین