"کون آزاد ہے اور کون غلام ؟”

پیر 7 اگست کو بھارت نے آرٹیکل 370 ختم کیا تو میرے ہاں کچھ پرانے دوست جلوہ افروز تھے. وہ مختلف موضوعات پر پہلے ہی کافی گفتگو کرچکے تھے اور نوبت یہ تھی کہ کبھی ایک کہتا

"اور سناؤ !”

تو کبھی دوسرا کہتا

"اور سناؤ !”

اور میرا حال اس قوال جیسا ہوچکا تھا جو "بھردے جھولی” سے لے کر "دم مست قلندر علی علی” تک ساری قوالیاں بھی سنا کر ختم کرچکا ہو اور بوتل ہی نہیں چڑھی ہوئی دارو کا اثر بھی ختم ہوچکا ہو۔

ایسے میں کشمیر کے حوالے سے مذکورہ خبر آئی تو انہیں فرمائش کے لئے نیا موضوع میسر آگیا. بھارت کے اس اقدام کے تباہ کن سیاسی و سماجی اثرات پر گفتگو کے دوران ہمارے ایک دوست خاموش بیٹھے رہے جنہیں ہم "خانہ بدوش” پکارتے ہیں. یہ نو عمری میں تبلیغی ہوگئے تھے، کچھ عرصے بعد جہادی ہوئے، پھر سپاہ صحابہ میں چلے گئے، آج کا یقین سے کچھ نہیں کہا جاسکتا ہاں گزشتہ روز ہفتہ ہفتہ سات دن سے لبرل تھے. جبکہ ان کا آخری اجتماعی پڑاؤ ایم کیو ایم میں تھا. اسی مٹر گشت کے سبب ہم انہیں خانہ بدوش کے نام سے یاد کرتے ہیں. کشمیر کے حوالے سے ہونے والی گفتگو میں انہیں خاموش پاکر دریافت کیا

"کس سوچ میں گم ہو ؟”

فرمایا

"کرنی کشمیریوں نے غلامی ہی ہے. انڈین آرمی کی ہو، خواہ پاکستان آرمی کی. لھذا میرے لئے بھارت کا اقدام پریشان کن نہیں. وہ غلام ہیں تو ہم کونسے آزاد ہیں ؟ ان کے فاروق عبداللہ اور محبوبہ مفتی کٹھ پتلی ہوتے ہیں تو ہمارا عمران خان کیا ہے ؟ سو بھائیو ! مجھے کوئی ٹینشن نہیں.”

عرض کیا اس کا جواب وال پر دوں گا تو انہی کا نہیں بلکہ دیگر کا بھی تراہ نکل گیا. منت سماجت کے بعد یہ طے پایا کہ خانہ بدوش ہی نہیں باقی سب کے نام بھی صیغہ راز میں رکھے جائیں۔

گزارش یہ ہے کہ انسان کا سرمایہ اصلی اس کا "ارادہ” ہے. اس کی پوری حیات اس کے ارادے کے گرد گھومتی ہے. وہ جو خدا کہتا ہے کہ تم میری طرف ایک قدم بڑھاؤگے تو میں دو قدم چل کر آؤں گا، وہ بھی اسی ارادے کی اہمیت کی طرف متوجہ کرنا ہے. تبلیغی ہوتے بڑے سادے ہیں مگر مولانا الیاس رحمہ اللہ نے انہیں "ارادے” کا سبق خوب سمجھا دیا ہے. آپ سہ روزے کے لئے وقت نہ ہونے کا عذر کیجئے تو وہ کہیں گے

"چلیں، ارادہ تو کرلیں”

آپ چلے سے انکار کر دیجئے تبلیغی کہے گا

"مت لگائیے چلہ، مگر ارادہ کر لیجئے، ارادے پر بھی اجر ہے”

یہ ارادہ ہی ہے جس نے انسان سے اس کی تمام کی تمام ارتقائی منازل طے کروائی ہیں. اگر غور کیجئے تو خدا کہتا ہے

"تم سوچ بچار کیوں نہیں کرتے ؟”

اور دیکارت جیسا فلسفی کہتا ہے

"میں سوچتا ہوں اس لئے میں ہوں”

سوچ اتنی اہم کیوں ہے کہ دیکارت جیسے فلسفی سے لے کر خدائے بزرگ و برتر تک سب اس کی طرف متوجہ کرتے نظر آتے ہیں ؟ کیونکہ سوچ کا لازمی نتیجہ وہ ارادہ ہوتا ہے جو فاتح کا ہو تو زمین کے جغرافیے بدل جاتے ہیں، سائنسدان کا ہو تو کرہ ارض کے رنگ ڈھنگ بدل جاتے ہیں اور کسی اللہ والے کا ہو تو دلوں کے رخ بدل جاتے ہیں. جانتے ہیں غلامی کا سب سے بڑا نقصان کیا ہوتا ہے ؟ انسان اپنے ارادوں کا مالک نہیں رہتا ! قہ بس اپنے مالک کے ارادے پورے کرنے والا روبوٹ بن کر رہ جاتا ہے. اور جہاں ایسا ہوجائے وہاں جینئس اور لیجنڈ پیدا ہونے بند ہوجاتے ہیں۔ جہاں جینئس اور لیجنڈ پیدا ہونے بند ہوجائیں وہاں ارتقاء سمیت ہر چیز پر جمود طاری ہوجاتا ہے. کشمیر کا ہر لیجنڈ صرف تحریک آزادی کا لیجنڈ کیوں ہے ؟ کیونکہ وہاں عام شعبہائے حیات میں لیجنڈ پیدا ہونے بند ہوچکے. یہی وجہ ہے کہ پوری کشمیری قوم آزادی کے لئے کمر بستہ ہے اور فی الحال ان کا ہر لیجنڈ "آزادی کا لیجنڈ” ہے. ان کے ہاں جب بھی الیکشن ہو پوری قوم بائیکاٹ کرکے مسترد کر دیتی ہے. پولنگ سٹیشنوں میں کتے اور انڈین سپاہی بھونک رہے ہوتے ہیں. ہمارے ہاں بھی الیکشنز ہوتے ہیں. ہر الیکشن میں واردات ہوجاتی ہے، ووٹ چوری ہوجاتے ہیں لیکن الیکشن کا بائیکاٹ کوئی نہیں کرتا. کیونکہ مسئلہ بس ووٹ کی چوری کا نہیں اگر اتنی سی بات ہوتی تو ہمارے ہاں بھی قومی بائیکاٹ ہوتا. بات "ارادے” کی قید کی ہے. صرف الیکشن نہیں، کشمیری قابض آقا سے منسوب ہر چیز کو مسترد کرتے ہیں، الیکشن بڑا ایونٹ ہوتا ہے سو ساری دنیا کو نظر آجاتا ہے. کیا ہم بھی اپنی فوج سے منسوب ہر چیز کو مسترد کرنے والی قوم ہیں ؟ نہیں ! ہمیں صرف سیاسی مداخلت کا شکوہ ہے. یہی وجہ ہے کہ اندرونی سیاسی محاذ پر ہم جس فوج کے سیاسی کردار کے شدید مخالف ہوتے ہیں اسی فوج کی کمر بھارت سے مقابلے کے دوران تھپکتے ہیں. واہگہ بارڈر پر روز اس کے لئے تالی پیٹتے ہیں. اس کا سپاہی شہید ہوجائے تو پوری فیس بک پر سیلیوٹ بج اٹھتے ہیں. کیا کشمیری بھی بھارت کی فوج سے اسی نوعیت کا معاملہ رکھتے ہیں ؟ کیا وہ جنگ میں بھارتی فوج کی کمر تھپکتے ہیں ؟ کیا وہ بھی واہگہ بارڈر پر جا کر بی ایس ایف کے لئے تالی پیٹتے ہیں ؟ اور کیا وہ بھی مردار ہونے والے بھارتی فوجی کے لئے فیس بک پر "کلمہ خیر” کہتے ہیں ؟ یہ فرق ہی واضح کرنے کے لئے کافی ہے کہ کون آزاد ہے اور کون غلام ؟

متعلقہ مضامین