’مدینہ کی ریاست‘ والے اقلیتوں کے حقوق کا تحفظ کریں

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت جب سے اقتدار میں آئی ہے ہمیں ’مدینہ کی ریاست‘ جیسے الفاظ بار بار سننے کو مل رہے ہیں۔ ہمارے کانوں میں یہ الفاظ گھول کر ڈالے جا رہے ہیں کہ اب پاکستان کو مدینہ کی ریاست جیسا بنان ہے۔ وزیراعظم اکثر اوقات عوامی خطابات میں یا منصوبوں کی افتتاحی تقاریب میں اس پر زور دیتے نظر آتے ہیں کہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانا ہے یا کم ازکم مدینہ کی ریاست جیسے قوانین ہونے چاہئیں۔

مدینہ کی ریاست کا ماڈل کیا تھا اور کیا یہ آج کے زمانے اور معاشرے کے لیے بھی اتنا ہی قابل عمل ہے جتنا کہ اس وقت کے زمانے کے لیے تھا؟
وہ زمانہ اسلام کے عروج کا تھا۔ بغیر کسی رنگ، نسل، فرقے اور ذات پات کی تمیز کے ایک دوسرے کے حقوق کی حفاظت، جان و مال محفوظ اور اقلیتوں کے ساتھ صلہ رحمی اور قانون کے مطابق سلوک۔ سوال یہ ہے کہ کیا وزیراعظم مدینے کی ریاست کے یہ سنہرے اصول پاکستان کی ریاست میں متعارف کرواسکیں گے؟ کیا پاکستان کے عوام مدینہ کی ریاست کے سنہرے اصولوں کے نفاذ کو قبول کر سکتے ہیں؟ کیا کرپشن سے متاثر اس معاشرے کو مدینہ کی ریاست بننے کے لئے تیار کر لیا گیا ہے؟


مدینہ کی ریاست میں ہر خاص وعام کو ایک جیسے حقوق میسر تھے۔ کسی عجمی کو عربی پر، کسی گورے کو کالے پر اور کسی امیر کو غریب پر فضیلت حاصل نہیں تھی لیکن پاکستان کے قیام کے ساتھ ہی آپ کو ہر طرح کا فرقہ وارانہ امتیاز نظر آئے گا۔

کس نے سوچا تھا کہ اقلیتوں کے حقوق کے لیے پاکستان کے بانی کے فرمودات کو سرے سے ہی غائب کر دیا جائے گا جس میں انہوں نے کھلے اور واضح الفاظ میں کہا تھا کہ اقلیتیں اس ملک میں آزاد ہیں اور اپنی مرضی سے اپنی مذہبی عبادات اور رسومات ادا کر سکتی ہیں۔

کیا واقعی آج کے پاکستان میں اقلیتوں کو تمام حقوق حاصل ہیں؟

کیا واقعی آج کے پاکستان میں پارسیوں کی تعداد وہی ہے جو قیام پاکستان کے وقت تھی؟ کیا آج بھی پاکستان میں ہندووں، سکھوں، عیسائیوں اور احمدیوں کی وہی تعداد ہے جو قیام پاکستان کے وقت تھی؟ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ ان کی تعداد میں وقت کے ساتھ اضافہ ہوتا۔ پاکستان کی ریاست میں بین المذاہبی خوبصورتی ہوتی اور ہر رنگ، نسل، مذہب و فرقے کے افراد کا ٹیلنٹ موجود ہوتا۔ پھر شاید دنیا میں پاکستان کی کچھ اور ہی پہچان، کچھ اور ہی امیج ہوتا۔

ہم لوگ بچپن میں سنتے تھے کہ ہمارے آس پاس پارسی ہندو، سکھ، عیسائی اور احمدی رہا کرتے تھے اور اس وقت کا یہ ماحول تھا کہ سب ایک دوسرے کے ساتھ دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہوتے اور مذہبی تہواروں میں بھی ایک دوسرے کے ساتھ خوشیاں مناتے نظر آتے تھے۔ ہر محکمے میں ہر مذہب اور فرقے کے لوگ کام کرتے۔

ان لوگوں نے قیام پاکستان کے بعد کی کٹھنائیاں بھی اکٹھے برداشت کرتے ہوئے پاکستان کو ترقی کے راستے پر ڈالا۔

بات چاہے قانون سازی کی ہو یا انصاف کے ایوانوں کی، تعلیم کی یا صحت کی یا سماجی ترقی کی، آپ کو اقلیتوں کے شاندار کردار نظر آئیں گے لیکن ہم جیسے بدنصیبوں کے عہد تک معاشرے کے اس حسن کو آنے ہی نہیں دیا گیا۔ ہم تک یہ کلچر ہی نہیں پہنچا اور نہ ہی ہم نے ان کے تہوار دیکھ کر کچھ سیکھا۔

ہم تو وہ بدنصیب پاکستانی جنریشن ہیں جنہوں نے اقلیتیں ہی بہت کم دیکھیں۔ کبھی کوئی پارسی یا احمدی اپنی انفرادیت دکھاتے نظر نہیں آیا البتہ کبھی کبھار ان پر ہونے والے مظالم کی خبریں ضرور سننے کو ملتی ہیں۔ وہ بھی صرف شعبہ صحافت کے ساتھ وابستگی کی وجہ سے ورنہ عام آدمی کو تو شاید یہ بھی عہم نہ ہو کہ یہ کمیونٹی آخر رہتی کہاں ہے۔

ہندوؤں کی صرف بیٹیوں کو مسلمان بنانے میں ہماری دلچسپی ہے جس کی وجہ سے سندھ میں ان کی لڑکیوں کو اغوا کرلیا جاتا ہے۔ انہیں اسلام کے دائرے میں شامل کرکے ان سے نکاح کر لیتے ہیں کیونکہ جنت بھی تو صرف اسی کام سے ہمیں حاصل ہونی ہے باقی کے اسلامی امور سے تو ہم نابلد ہیں۔

اب سندھ کے ہندو خاندان اپنی جوان بچیوں کو اس ظلم سے محفوظ رکھنے کے لیے سے بھارت اور دیگر ممالک کو نقل مکانی کرنے پر مجبور ہیں۔ آپ سنہ 2010 کے بعد کے گوشوارے اٹھا کر دیکھ لیں ہندووں کی ایک بہت بڑی تعداد پاکستان سے نقل مکانی کرچکی ہے۔ اسی طرح بعض شہروں میں پارسیوں کے گھر اور کاروبار جلا دیے گئے اور ان کو بھی پاکستان چھوڑنا پڑا۔


بات کرتے ہیں عیسائیوں اور احمدیوں کی۔ خدا جانتا ہے جتنا ظلم ان دو اقلیتوں پر ہوا کسی اور پر نہیں ہوا۔ چن چن کر قابل ترین لوگ ماردیے گئے۔ مسیحی پارلیمینٹرینز تک کو اور دن دیہاڑے قتل کردیا گیا۔

آسیہ بی بی کے پر ایک الزام نے کس طرح اس کی، اس کے خاندان کی زندگی تباہ کئے رکھی اور کس طرح کچھ مذہبی جماعتوں نے اس کی رہائی کے فیصلے پر پورے راولپنڈی، اسلام آباد ، کراچی اور لاہور کو یرغمال بنائے رکھا۔

اسی طرح جہلم اور دیگر شہروں میں احمدیوں کو قتل کیا گیا۔ ان کے نہ صرف کاروبار، کارخانے جلائے گئے بلکہ ان کے گھروں کو بھی نذرآتش کر دیا گیا۔ اوورسیز احمدیوں کے پاکستان آنے سے پہلے ان کے قتل کے منصوبے تیار ہوتے ہیں۔

مذہبی جماعتیں بڑی سہولت سے قتل کے فتوے جاری کرتی رہی ہیں اور اگر عدالتوں سے ان کی خواہشات کے برعکس فیصلے آئیں تو پورے پاکستان کو یرغمال بنا لیتی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اقلیتوں کی زندگی کا فیصلہ ان مذہبی جماعتوں کے ہاتھ میں کیوں دے دیا گیاَ۔

کیا پاکستان واقعی اقلیتوں کے لیے ایک محفوظ ملک ہے؟ میرا یہ سوال مدینہ کی ریاست کا خواب دیکھنے والے پاکستان کے وزیراعظم عمران خان سے ہے۔ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ اقلیتوں کو برابری کے حقوق دیے بغیر پاکستان مدینہ کی ریاست بن سکتا ہے۔ اگر نہیں تو پھر اقلیتوں کے حقوق اور جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں اور ان کی زندگی موت کا فیصلہ نام نہاد مذہبی جماعتوں کے ہاتھ میں نہ دیں ۔ پاکستانیوں کو صرف تقریریں نہیں عمل و کردار کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین