’جسٹس فائز پر نئی فرد جرم عائد‘

حکومت نے سپریم جوڈیشل کونسل میں جسٹس قاضی فائز عیسیٰ پر ”قومی ادارے“ کے خلاف لوگوں کو اکسانے  کی فرد جرم بھی عائد کی ہے۔

صدر کی جانب سے ریفرنس کا سامنا کرنے والے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنی آئینی درخواست میں یہ سوال اٹھایا ہے کہ اٹارنی جنرل کے ذریعے غیر قانونی طور پر جمع کرائے گئے جواب الجواب میں  قومی اداروں کی شق کا اضافہ کیا جو اصل شوکاز میں شامل نہیں تھا۔

اپنی آئینی درخواست میں جسٹس قاضی فائز نے انکشاف کیا کہ انہوں نے صدر مملکت کو تین خط لکھے تھے۔ تیسرا خط منظر عام پر نہیں آیا جس میں میڈیا ٹرائل کی شکایت کی گئی تھی۔

جسٹس فائز کی آئینی درخواست کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ سپریم جوڈیشل کونسل نے صدر مملکت کو لکھے گئے خطوط کے حوالے سے شوکاز نوٹس میں  جسٹس فائز پر اداروں کی تضحیک کی فردجرم بھی عائد کی ہے۔

جسٹس قاضی فائز نے درخواست میں سپریم کورٹ کے رجسٹرار ارباب عارف کے کردار پر سوالات اٹھائے ہیں جو سپریم جوڈیشل کونسل کے سیکریٹری بھی ہیں۔

ارباب عارف کو طاقتور حلقوں کے قریب سمجھا جانے والا بیوروکریٹ کہا جاتا ہے اور پشاور آرمی پبلک سکول پر حملے کے وقت ارباب عارف صوبے کے چیف سیکریٹری تھے۔

متعلقہ مضامین