پڑوسی ہمارا فیصلہ نہیں کر سکتے، اشرف غنی

افغانستان کے صدر اشرف غنی نے غیر کہا ہے کہ ان کے ملک میں امن آئے گا اور کابل اپنے مستقبل کا فیصلہ خود کرے گا، باہر والوں کو یہ اختیار نہیں۔

بین الاقوامی خبر رساں اداروں کے مطابق کابل میں عیدالاضحی کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے افغان صدر کا کہنا تھاکہ ”امن ہر افغان باشندے کی خواہش ہے اور امن آئے گا۔ کسی کو اس بارے میں شبے میں نہیں ہونا چاہیے۔“


اشرف غنی نے کسی ملک کا نام کیے بغیر کہا کہ ”ہمارے مستقبل کا فیصلہ ملک سے باہر نہیں ہوسکتا، چاہے وہ ہمارے دوست، دشمن یا پڑوسی ملک کا دارالحکومت کیوں نہ ہو۔“

افغان صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایسا امن چاہتے ہیں جس میں ہر افغان باشندہ وقار کے ساتھ رہ سکے لیکن ایسا امن نہیں چاہتے جس کی وجہ سے ہمارے لوگ اپنا ملک چھو ڑ دیں۔


انہوں نے کہا کہ صدارتی انتخاب28 ستمبر کو ہو رہا ہے جو بہت اہم ہے۔ ’افغان عوام مضبوط، موثر اور ذمہ دار حکومت چاہتے ہیں اور یہ انتخابات کے بغیر ممکن نہیں‘۔

افغان صدر کا کہنا تھا کہ اگلے ماہ ملک میں ہونے والے صدارتی انتخاب کے بعد صدر کو یہ طاقت ہو گی کہ وہ ملک کے مستقبل کی بابت فیصلے کرے گا۔ افغانستان نہیں چاہتا کہ دیگر ممالک اس کے داخلی امور میں مداخلت کریں۔


 ادھر امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے امید ظاہر کی ہے کہ جنگ زدہ افغانستان کی یہ آخری عید الاضحی ہوگی۔ زلمے نے ٹوئٹ میں کہا کہ’ میں جانتا ہوں کہ افغان امن چاہتے ہیں،ہم ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔ دیرپا اور باوقار امن معاہدے اور ایک خود مختار افغانستان کے لئے سخت محنت کر رہے ہیں۔ ایسا افغانستان جو کسی دوسرے ملک کے لئے خطرہ نہ بنے‘۔

متعلقہ مضامین